03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موروثی مکان کی تقسیم میں نکلنے والےبھائی کو کونسی قیمت ادا کی جائے گی؟
86144میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں۔ ہمارے والد کا انتقال 2015 میں ہوا۔ انہوں نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا اور ریٹائرمنٹ کی کچھ رقم، جو ان کے انتقال کے بعد 2019 میں ملی۔ جب وہ رقم ملی تو ہم نے اس کا وہ حصہ، جو بہن کا بنتا تھا، بشمول مکان کی ویلیو جو اس وقت بنتی تھی، تینوں بھائیوں نے ادا کر دیا۔ مکان کی حالت بہت خراب تھی، اس لیے 2021 کے آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ اسے گرا کر دوبارہ تعمیر کیا جائے۔

2022 میں تعمیر کا کام شروع ہوا تو ایک بھائی نے کہا کہ وہ اس تعمیر میں شامل نہیں ہوگا۔ تعمیر شروع ہونے کے بعد ہماری والدہ کا انتقال اپریل 2022 میں ہو گیا۔ اب وہ بھائی، جو تعمیر میں شامل نہیں تھا، اپنا حصہ الگ کرنے کا کہہ رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ

اس کی ترتیب کس طرح ہوگی؟ کیا اس وقت کے مطابق جب وہ الگ ہوا یا آج کی ویلیو کے مطابق؟ اس کی ادائیگی یکمشت نہیں کی جائےگی،بلکہ قسطوں میں کی جائے گی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ بھائی نے اپنا حصہ فروخت نہیں کیا تھا، بلکہ وہ صرف تعمیر میں شامل نہیں ہوا تھا، اس لیے اگر تعمیر باقی دو بھائیوں کی ذاتی رقم سے ہوئی ہو تو وہ تعمیر انہی کی ملکیت ہوگی۔ علیحدہ ہونے والا بھائی ان کے ساتھ تعمیر میں شریک نہیں ہوگا، البتہ پلاٹ میں وہ دیگر ورثاء کی طرح شریک ہو گا۔ اگر مذکورہ بھائی اپنے حصے کی قیمت لینا چاہے تو اسے اس کے حصے کی موجودہ مارکیٹ ریٹ دینا ہوگا، یہی اس کا اصل حق ہے۔ تاہم، اگر وہ اپنی خوشی سے اور بغیر کسی دباؤ کے سابقہ قیمت لینے پر راضی ہوجائے، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ اس طرح یہ سمجھا جائے گا کہ اس نے اپنا کچھ حق وصول کیا اور کچھ بخش دیا۔

مذکورہ مکان کی ایک مرتبہ تعمیر کے ساتھ اور ایک مرتبہ بغیر تعمیر کے قیمت لگائی جائے گی۔ دونوں قیمتوں میں جو فرق ہوگا، وہ تعمیر کرنے والے بھائیوں کو ملے گا، اور دوسری قیمت ورثاء میں حسبِ حصص تقسیم ہوگی۔

حوالہ جات

في الدر المختار:(٦/٢٦٨)

(بنى أحدهما) أي أحد الشريكين (بغير إذن الآخر) في عقار مشترك بينهما (فطلب شريكه رفع بنائه قسم) العقار (فإن وقع) البناء (في نصيب الباني فبها) ونعمت (وإلا هدم) البناء، وحكم الغرس كذلك بزازية.

وفي رد المحتار تحته:

(قوله بغير إذن الآخر) وكذا لو بإذنه لنفسه لأنه مستعير لحصة الآخر، وللمعير الرجوع متى شاء. أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه (قوله وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قيمته ط عن الهندية.أقول: وفي فتاوى قارئ الهداية: وإن وقع البناء في نصيب الشريك قلع وضمن ما نقصت الأرض بذلك .

وفي تنقيح الحامدية (١/١٠٠)

(سُئِلَ) فِي دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ بَيْنَ جَمَاعَةٍ بَنَى فِيهَا بَعْضُهُمْ بِنَاءً لِأَنْفُسِهِمْ بِآلَاتٍ هِيَ لَهُمْ بِدُونِ إذْنِ الْبَاقِينَ وَيُرِيدُ بَقِيَّةُ الشُّرَكَاءِ قِسْمَةَ نَصِيبِهِمْ مِنْ الدَّارِ الْمَذْكُورَةِ وَهِيَ قَابِلَةٌ لِلْقِسْمَةِ فَهَلْ لَهُمْ ذَلِكَ وَمَا حُكْمُ الْبِنَاءِ؟(الْجَوَابُ) : حَيْثُ كَانَتْ قَابِلَةً لِلْقِسْمَةِ وَيَنْتَفِعُ كُلٌّ بِنَصِيبِهِ بَعْدَ الْقِسْمَةِ فَلِبَقِيَّةِ الشُّرَكَاءِ ذَلِكَ ثُمَّ الْبِنَاءُ حَيْثُ كَانَ بِدُونِ إذْنِهِمْ إنْ وَقَعَ فِي نَصِيبِ الْبَانِينَ بَعْدَ قِسْمَةِ الدَّارِ فَبِهَا وَنِعْمَت وَإِلَّا هُدِمَ الْبِنَاءُ.

وفی غمز عيون البصائر  (3 / 354):

قوله لو قال الوارث تركت حقي إلخ اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء وإن لم يكن كذلك بل ثبت له حق التملك صح كإعراض الغانم عن الغنيمة قبل القسمة كذا في قواعد الزركشي من الشافعية۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لو قال وارث تركت حقي إلى آخر كلامه وفيه التصريح بأن إبراء الوارث من إرثه في الأعيان لا يصح وقد صرحوا بأن البراءة من الأعيان لا تصح.

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام:

"(المادة 1073) - (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (88)الحاصلات: هي اللبن والنتاج والصوف وأثمار الكروم والجنائن وثمن المبيع وبدل الإيجار والربح وما أشبه ذلك."

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

3/7/1446ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب