03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھابھی کی پہلے خاوند سے پیدا ہونے والی بچی سے نکاح کا حکم
89677نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

زید نے ایک مطلقہ عورت سے نکاح کیا، جس کی پہلے والے خاوند سے ایک بیٹی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اب زید کا بھائی اس عورت کی مذکورہ بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

      زید کے بھائی کا اس عورت (بھائی کی بیوی) کی پہلے خاوند سے پیدا ہونے والی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ نسبی اعتبار سے زید کی بھتیجی نہیں، بلکہ وہ اس کی غیر محرم ہے اور غیر محرم عورت سے شرعاً نکاح جائز ہے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم [النساء: 23]:

{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (23) }

رد المحتار(کتاب النکاح، ‌‌فصل في المحرمات، 3/ 31، ط: سعید):

(قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر. قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16/رجب المرجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب