03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مہینے کے درمیان سے شروع ہونے والی عدتِ وفات ایک سو تیس دن ہے
82425طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

میری ساس کی عدت 5 نومبر شام سے شروع ہوئی،ان کے شوہر کا انتقال 5 نومبر کی شام تین بج کر انسٹھ منٹ پر ہوا،اب آپ سے درخواست ہے کہ ان کی عدت ختم ہونے کی تاریخ اور وقت بتادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس عورت کا شوہر وفات پاجائے اس کی عدت چار مہینے دس دن ہوتی ہے،عدت میں اسلامی مہینوں کا اعتبار کیا جاتا ہے،اگر عدت مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع ہو تو مطلقاً چار ماہ(چاہے انتیس کے ہوں یا تیس کے) اور دس دن عدت ہوتی ہے،جبکہ مہینے کے درمیان سے شروع ہونے کی صورت میں ایک سو تیس دن عدت شمار ہوتی ہے۔

چونکہ آپ کی ساس کی عدت 5 نومبر سے شروع ہوئی ہے جو اسلامی تقویم کے لحاظ سے 20 ربیع الثانی بنتا ہے،اس لئے ان کی عدت ایک سو تیس دن ہوگی،جو 14 مارچ 2024 بمطابق 3 رمضان(اندازاً) کو اسی وقت پوری ہوگی جس وقت ان کے شوہر کا انتقال ہوا تھا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 509):

"وأما ممتدة الحيض فالمفتى به كما في حيض الفتح تقدير طهرها بشهرين، فستة أشهر للإطهار وثلاث حيض بشهر احتياطا (ثلاثة أشهر) بالأهلة لو في الغرة وإلا فبالأيام بحر وغيره".

قال ابن  عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: وإلا فبالأيام) في المحيط: إذا اتفق عدة الطلاق والموت في غرة الشهر اعتبرت الشهور بالأهلة وإن نقصت عن العدد، وإن اتفق في وسط الشهر. فعند الإمام يعتبر بالأيام فتعتد في الطلاق بتسعين يوما، وفي الوفاة بمائة وثلاثين".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

24/جمادی الثانیہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب