03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر فروخت ہوجانے کی صورت میں معتدہ کا دوسرے گھر منتقل ہونا
82426طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

جس گھر میں ان کے شوہر کا انتقال ہوا وہ گھر فروخت ہوچکا ہے،بڑے بیٹے کا گھر ہے،لیکن وہ چھوٹے بیٹے کے گھر منتقل ہونا چاہ رہی ہے،اس حوالے سے راہنمائی فرمادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس گھر میں شوہر کا انتقال ہوا جب اس میں عدت گزارنا ممکن نہیں رہا،اگرچہ کرایہ پر لے کر ہی کیوں نہ ہو تو پھر وہ جس بیٹے کے گھر چاہے منتقل ہوسکتی ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 536):

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه،وفي الطلاق إلى حيث شاء الزوج، ولو لم يكفها نصيبها من الدار اشترت من الأجانب مجتبى، وظاهره وجوب الشراء - لو قادرة -، أو الكراء بحر، وأقره أخوه والمصنف".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

24/جمادی الثانیہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب