03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم
86256میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

میرے  والد صاحب کا انتقال ہو گیا، انہوں نے اپنے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں  اور ایک بہن چھوڑی ہے، ان کے والدین اور دادا، دادی اور نانی کا انتقال ان کی زندگی میں ہو چکا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ان کا ترکہ کس طرح تقسیم ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ تبرع ادا کر دیے ہوں تو پھر یہ ترکہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض  ادا کیا جائے اور پھرترکہ کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک   مرحوم کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کیا جائے گا، اس کے بعد جو تركہ باقی بچے اس میں آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوہ کو دینے کے بعد باقی مال کو ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کر دیا جائے کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ ملے۔ اس کے علاوہ مرحوم کی بہن کو کوئی حصہ نہیں ملے گا، کیونکہ نرینہ اولاد کی موجودگی میں شرعابہن بھائی وارث نہیں ہوتے۔ تقسیمِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

وارث

   عددی حصہ

فيصدی حصہ

1

بیوی

8

12.5%

2

بیٹا

14

21.875%

3

بیٹا

14

21.875%

4

بیٹا

14

21.875%

5

بیٹی

7

10.937%

6

بیٹی

7

10.937%

حوالہ جات

 القرآن الکریم: [النساء: 11]:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}

القرآن الکریم: [النساء: 12]:

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ }

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

6/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب