03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹی اور پوتی کو مشترکہ طور پر ہبہ کئے گئے مکان کا حکم
86265ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرا نام عبد الرؤف شاکر ہے اور ابھی میری عمر 88 سال ہے،میں نے اپنی زندگی کے پچپن سال انگلینڈ میں گزارے اور ان سالوں میں وہاں پر کماتا رہا،میرے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔

میری سب سے چھوٹی بیٹی جس کا نام عابدہ ہے،میں نے پہلے اس کی شادی صدیق تنولی سے کروائی،لیکن 2004 میں میری بیٹی کے شوہر،یعنی میرے داماد صدیق تنولی ایک کار ایکسیڈنٹ میں وفات پاگئے،اس وقت میری بیٹی کے دو بیٹے تھے اور تیسرا بیٹا حمل کی حالت میں تھا۔

میں نے اپنی بیٹی سے یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ تمہارے تمام بیٹوں اور تمھاری ذمہ داری میں اپنے سر لوں  گا اور ان کے جو بھی اخراجات ہوں گے وہ میں خود ادا کروں گا،چنانچہ میں ان کے لئے ہر ماہ خرچہ بھیجتا رہا،کچھ عرصے بعد میں نے اپنی بیٹی کی شادی ارشد تنولی سے کروائی۔

پھر انہوں نے ایک نیا گھر بنانا تھا پانچ مرلے کا تو وقتاً فوقتاً میں نے ان کو اس گھر کیلئے 43 لاکھ روپے دیئے،2017 میں پاکستان واپس آیا اور میں نے ایبٹ آباد میں دو کروڑ روپے کا گھر خرید لیا اور ساتھ میں چھ لاکھ روپے کی دکان بھی ان کو خرید کر دی اور یہ 21 مرلوں کا گھر میں نے اپنی بیٹی کے نام انتقال کردیا،لیکن انتقال کروانے کا مقصد یہ تھا کہ کل کو میرا کوئی بیٹا یا بیٹی میری موت کے بعد یا میری زندگی میں اپنی بہن سے حصہ مانگ نہ لے اور اس کے علاوہ میرا مقصد یہ تھا کہ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں،میں نے ساری زندگی باہر گزار دی،میرا مقصد یہ تھا کہ میں ان کے ساتھ رہوں گا،یہ میری خدمت کریں گے اور ہم ہنسی خوشی زندگی گزاریں گے۔

جب سے میں نے اپنی بیٹی عابدہ ارشد کو گھر لے کر دیا اور اس کے نام پر کردیا،اسی وقت سے اس کا رویہ آہستہ آہستہ بدلتا رہا اور اس دوران وہ کئی دفعہ مجھے بےعزت کرکے گھر سے باہر نکال چکی تھیں،لیکن میں اس کو ہر بار معاف کرتا گیا،لیکن آخر عابدہ ارشد اور اس کے بیٹوں نے حد ہی پار کر دی اور مجھے دھکے دے کر گھر سے باہر نکالا اور کچھ دنوں بعد واٹس ایپ پر وائس نوٹ میں میری بیٹی نے جس کے نام پر میں نے اتنا بڑا گھر لے کر دیا، مجھے گالیوں سے بھرپور ایک میسج بھیجا،جس میں اس نے مجھے خنزیر،بےغیرت ،دلا،طلاقی کہا اور اس کے علاوہ بے شمار گالیاں دیں۔

اس کے ساتھ عابدہ ارشد کے چھوٹے بیٹے یاسر صدیق جس کی عمر تقریبا اکیس یا بائیس سال ہوگی اس نے بھی ایک وائس نوٹ میں مجھے بے شمار گالیاں دیں اور اس نے بھی مجھے خنزیر،دلا،بےغیرت اور طلاقی کہا اور ساتھ میں مجھے میرا سر کاٹنے کی دھمکی بھی دی،یعنی جان سے مارنے کی دھمکی دی،اب میرا دل بہت غم زدہ ہے۔

کیونکہ میں نے ساری زندگی ان کا خیال رکھا اور اتنا طویل عرصہ 2004 سے لے کر ابھی تک میں نے ان کو ماہانہ خرچہ بھیجا،جس کا ٹوٹل تقریباً 90 لاکھ بنتا ہے،لیکن اس سب کا بدلہ مجھے اس صورت میں ملا اور میرا گھر لینے کا مقصد تھا کہ میں ان کے ساتھ رہوں گا،میری آخری زندگی کے آخری سال ہیں میں خوشی خوشی گزاروں گا،وہ مقصد بھی فوت ہوگیا۔

اور اب مجھے اپنی آخرت کی فکر ہے کہ یہ اتنا بڑا ہبہ اپنی بیٹی کو دیا تھا اور اپنے تمام بیٹوں اور تمام بیٹیوں کو میں نے اتنے بڑے حصے نہیں دیئے،بلکہ اس گھر کے مقابلے میں میں نے ان کو بہت ہی کم رقم میراث میں دی ہے،اب مجھے آخرت کی فکر ہے کہ کہیں اللہ تعالی میرا مؤاخذہ نہ کرے،اس لیے میں اب ان سے واپسی کی ڈیمانڈ کرتا ہوں،میں نے آپ کے سامنے ساری صورتحال پیش کر دی اور اب مجھے احساس بھی ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے،جس میں میرے سب بیٹوں کا حق تھا وہ میں نے ان یتیموں کے حوالے کردیا اور ایک بیٹی کے حوالے کردیا تو کیا اب میں اپنا گھر واپس لے سکتا ہوں؟ مجھے اس سلسلے میں آپ کا فتویٰ درکار ہے۔

تنقیح:سائل نے بتایا کہ یہ مکمل اکیس مرلے کا گھر ہے جس میں اس نے پندرہ مرلے اپنی بیٹی کے نام کیا تھا اور چھ مرلے اپنی پوتی کے نام کیا تھا،لیکن باقاعدہ تقسیم کرکے ہر ایک کا حصہ اس کے حوالے نہیں کیا تھا،سوال میں اس کا ذکر کرنا بھول گیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں اپنی جائیداد میں سے اولاد کو کچھ دینا ہبہ کے حکم میں ہے اور ہبہ کے تام ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جو چیز جسے ہبہ کی جائے اس کے قبضے میں بھی دے دی جائے اور اگر ایک سے زیادہ لوگوں کو کوئی ایسی چیز ہبہ کی جائے جو تقسیم کے قابل ہو تو اسے باقاعدہ تقسیم کرکے دیا جائے،قبضہ دیئے بغیر محض کسی کے نام کروانے یا تقسیم کے بغیر مشترکہ طور پر ہبہ کرنے سے ہبہ تام نہیں ہوتا اور ہبہ کی گئی چیز ہبہ کرنے والے کی ملکیت میں بدستور باقی رہتی ہے۔

چونکہ آپ نے مذکورہ مکان تقسیم کئے بغیر مشترکہ طور پر اپنی بیٹی اور پوتی کو ہبہ کیا تھا،اس لئے ہبہ مکمل نہیں ہوا تھا اور وہ گھر بدستور آپ کی ملکیت میں ہے،جس میں آپ اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرسکتے ہیں،بقیہ اگر آپ زندگی میں ہی اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے:

 عام حالات میں اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری مستحب ہے ،یعنی سب کو ،چاہے لڑکا ہو یا لڑکی برابر حصہ دیا جائے، بغیر کسی معقول وجہ ترجیح کے، محض نقصان پہنچانے کی غرض سے بعض کو کم اور بعض کو زیادہ دینا درست  نہیں،البتہ اگرکمی بیشی کی کوئی معقول وجہ ہو،جیسےاولاد میں سے کسی کا زیادہ تنگدست ہونا، زیادہ عیالدار ہونا،بعض کا خدمت گار ہونا اور بعض کا نافرمان ہوناوغیرہ توایسی صورت میں جو زیادہ تنگدست،عیالدار یا خدمت گار ہو اسے زیادہ دیا جاسکتا ہے،لیکن کسی کو بالکل محروم کردینا جائز نہیں۔

لہذا آپ کو بھی چاہیے کہ بیٹوں اور بیٹی کو برابر حصہ دیں،تاہم کسی معقول وجہ ترجیح کی بنیاد پر کمی بیشی کی بھی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" (6/ 121):

"ولو وهب شيئا ينقسم من رجلين كالدار والدراهم والدنانير ونحوها وقبضاه لم يجز عند أبي حنيفة.....

 (وجه) قول أبي حنيفة – رحمهﷲ - أن هذا تمليك مضاف إلى الشائع فلا يجوز كما إذا ملك نصف الدار من أحدهما والنصف من الآخر بعقد على حدة والدليل على أن هذا تمليك مضاف إلى الشائع أن قوله :وهبت هذه الدار منكما ،إما أن يكون تمليك كل الدار الواحدة من كل واحد منهما وإما أن يكون تمليك النصف من أحدهما والنصف من الآخر لا سبيل إلى الأول ؛لأن الدار الواحدة يستحيل أن تكون مملوكة لكل واحد منهما على الكمال والمحال لا يكون موجب العقد فتعين الثاني وهو أن يكون تمليك النصف من أحدهما والنصف من الآخر لهذا لم يملك كل واحد منهما التصرف في كل الدار بل في نصفها ولو كان كل الدار مملوكا لكل واحد منهما لملك وكذا كل واحد منهما يملك مطالبة صاحبه بالتهايؤ أو بالقسمة وهذا آية ثبوت الملك له في النصف وإذا كان هذا تمليك الدار لهما على التناصف كان تمليكا مضافا إلى الشائع ،كأنه أفرد لكل واحد منهما العقد في النصف والشيوع يؤثر في القبض الممكن من التصرف على ما مر".

"رد المحتار" (5/ 692):

"(قوله: فإن قسمه) أي الواهب بنفسه، أو نائبه، أو أمر الموهوب له بأن يقسم مع شريكه كل ذلك تتم به الهبة كما هو ظاهر لمن عنده أدنى فقه تأمل، رملي".

"الترجیح والتصحیح لابن قطلوبٕغا" (6/ 121):

"إن وھب من اثنین واحد لم یصح عند أبی حنیفة رحمہ اللہ وقال أبویوسف و محمد رحمھما اللہ:یصح وقداتفقوا علی ترجیح دلیل الإمام".

"الفقه الحنفي وادلته للصاغرجي" (6/ 121):

"ان وھب واحد لاثنین دارا لم یصح عند أبی حنیفة رحمہ اللہ؛لانہا ھبة نصف الدار الی کل واحد منھما فیلزم الشیوع .....

وقال ابویوسف ومحمد رحمھما اللہ: إن وھب واحد لاثنین دارا صح؛ لانھا ھبة الجملة لھما والتملیک واحد فلایتحقق الشیوع ورجح قول الإمام".

"البحر الرائق "(ج 20 / ص 110):

"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط".

"البزازیہ علی ھامش الہندیۃ"(6/237):

"الافضل فی ھبۃ الابن والبنت التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھوالمختار،ولو وھب  جمیع  مالہ من ابنہ جاز ،و ھو آثم ، نص علیہ محمد ،ولو خص بعض اولادہ لزیادۃ رشدہ لاباس بہ ،وان کانا سواءلایفعلہ".

"الدر المختار للحصفكي ": (ج 5 / ص 265) :

وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

07/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب