03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ضلع لکی مروت کےگاؤں” اغفرخیل” میں جمعہ قائم کرنے کاحکم
86251نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارے گاؤں کا نام اغفر خیل ہے جو ضلع لکی مروت میں واقع ہے۔ اس میں مرد، عورت اور بچوں کی تعداد تقریباً 3500 ہے۔

جو چیزیں ہمارے گاؤں میں موجود ہیں اورجو موجود نہیں ہیں،وہ درج ذیل ہیں:

  1. لوہار اور ترکھان کے ساتھ ساتھ گاؤں میں30 جنرل اسٹورز بھی ہیں۔ ان میں سے چار جنرل اسٹورز میں سبزی بھی ملتی ہے، اور بعض میں گوشت، دودھ، دالیں، مردانہ و زنانہ چپل، بوٹ، ایزی لوڈ، ضرورت کے مطابق بجلی کا سامان اور پٹرول بوتلوں میں دستیاب ہوتا ہے۔یہ تمام دکانیں ایک جگہ پر متصل نہیں ہیں، بلکہ گاؤں کے مختلف محلوں میں الگ الگ واقع ہیں۔ ہمارے گاؤں میں نہ کوئی بازار ہے اور نہ ہی کوئی میلہ یا ہفتہ وار مارکیٹ لگتی ہے۔
  2.  ضرورت کے مطابق الیکٹریشن اور اے سی/ڈی سی مستری ہیں۔
  3. دو میڈیکل اسٹورزایسے ہیں جوڈسپنسرچلا رہے ہیں۔
  4. گاؤں  میں تین ویٹرنری ڈاکٹرزموجود ہیں، جن کے پاس جانوروں کے علاج کی دوائیں بھی دستیاب ہیں۔
  5. گاؤں میں دو سرکاری ٹیوب ویل ہیں، اور ان کے ذریعےپائپ لائن بچھائی گئی ہے، لیکن پائپ لائن کی خرابی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگ تقریباً پانچ کلومیٹر دور دوسرے گاؤں سے 3000 روپے کے عوض پانی کا ٹینکر منگواتے ہیں۔
  6. گاؤں میں کل سات مساجد ہیں، جن میں سے چار مساجد کے امام اور نمازی ہیں، جبکہ باقی تین مساجد میں نہ امام ہیں اور نہ ہی نمازیوں کی تعداد قابلِ ذکر ہے۔
  7. گاؤں میں ایک سرکاری ہائی اسکول، دو پرائمری اسکول لڑکوں کے لیے اور ایک پرائمری اسکول لڑکیوں کے لیے موجود ہے۔
  8. دو پرائیویٹ اسکولز بھی ہیں، جن میں ایک لڑکوں کا اور ایک لڑکیوں کا ہے۔
  9. ناظرہ قرآن پڑھانے کا انتظام لڑکوں کے لیے چار جگہوں پر اور لڑکیوں کے لیے بھی چار مختلف جگہوں پر کیا گیا ہے۔
  10. چار کپڑوں کی دکانیں ہیں، جن میں سے دور کا ئیں گھروں کے اندر ہیں۔ ان دکانوں پر، ضروریات کے مطابق کپڑے اورگھریلو استعمال کی اشیاء دستیاب ہیں۔
  11. گاؤں میں آٹھ بجلی کے ٹرانسفارمرز ہیں۔
  12. دو آنا چکی مشینیں اور ایک ڈیزل مشین بھی موجود ہے، جہاں سے گاؤں والے آٹا حاصل کرتے ہیں۔
  13. ایک ٹائر پنکچر کی دکان ہے۔
  14. گاؤں میں چار لکڑی کے ٹال موجود ہیں۔
  15. گاؤں میں ایک ڈاکخانہ برانچ بھی موجود ہے۔
  16. دومرد ٹیلر ماسٹر بھی کام کر رہے ہیں۔
  17. تعمیراتی کام کے لیے معمار بھی دستیاب ہیں۔
  18. گاؤں میں تقریباً 22 عدد موٹر کاریں اور ٹیکسیاں ہیں، جو ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
  19. گاؤں میں چار ڈاٹسن گاڑیاں اور پانچ ٹریکٹر ز بھی موجود ہیں۔
  20. گاؤں کے بڑے معاملات، جیسے قضا اور عدالت، کے لیے لوگ ٹاؤن تاجہ زکی جاتے ہیں، جو تقریباً 35 کلو میٹر کے فاصلے

ہا ہے۔

   21. ہمارے گاؤں سے تقریباً 9 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع شہباز خیل میں جمعہ کی نمازادا کی جاتی ہے، اور ہمارے گاؤں کے لوگ

وہاں جاکر ضروریات کی اشیاء بھی خریدتے ہیں۔

   22.  گاؤں میں تھانے کی سہولت 9 کلو میٹر و در شہباز خیل سے دستیاب ہوتی ہے۔

اس تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ یہاں جمعہ قائم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شہر اور فناءِ شہر کی طرح ایسے بڑے گاؤں اور  بستی میں جمعہ قائم کرنا جائز ہوتا ہے، جہاں جملہ یا اکثر ضروریاتِ زندگی دستیاب ہوں۔ سوال میں مذکور گاؤں " اغفر خیل " میں 30 جنرل اسٹورز کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے اس بستی کے رہائشیوں کی ضروریات کا پورا ہونا قرینِ قیاس ہے۔ لہٰذا، اس میں جمعہ کا قیام جائز ہے۔

تاہم، اگر پھر بھی کسی کو شبہ ہو اور نزاع کا خطرہ ہو، تو بہتر ہے کہ وہاں کے ڈی سی سے جمعہ قائم کرنے کی اجازت بھی حاصل کی جائے، تاکہ ان لوگوں کاشبہ بھی دور ہو جائے اور اختلاف کا خاتمہ ہو سکے، کیونکہ مختلف فیہ مسائل میں حکمِ حاکم رافع للخلاف ہوتا ہے۔

حوالہ جات

وفی رد المحتار - (ج 6 / ص 44)

تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم : هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه ، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة ؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر ، وهذا إذا لم يتصل به حكم ، فإن في فتاوى الديناري إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي ا هـ فافهم والرستاق القرى كما في القاموس

وفی رد المحتار - (ج 6 / ص 44)

لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة ؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر

الدر المختار للحصفكي - (ج 2 / ص 148)

(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الاول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه

فتوى أكثر الفقهاء.مجتبى لظهور التواني في الاحكام، وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدرعلى إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.وفي القهستاني: إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي، وإذا اتصل به الحكم صارمجمعا عليه، فليحفظ (أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أولا، كما حرره ابن الكمال وغيره (لاجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل، والمختار للفتوى تقديره بفرسخ، ذكره الولوالجي.(و) الثاني: (السلطان) ........(و) الثالث: (وقت الظهر .......(و) الرابع: (الخطبة فيه) فلو خطب قبله وصلى فيه لم تصح.(و) الخامس: (كونها قبلها) لان شرط الشئ سابق عليه ..........(و) السادس: (الجماعة) .........(و) السابع: (الاذن العام) من الامام، وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين، كافي.فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة، لان الاذن العام مقرر لاهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن كما في مجمع الانهر معزيا لشرح عيون المذاهب،قال: وهذا أولى مما في البحر والمنح، فليحفظ

الدر المختار للحصفكي ج: 2 ص: 150

(فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أولا، كما حرره ابن الكمال وغيره (لاجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل، والمختار للفتوى تقديره بفرسخ، ذكره الولوالجي

رد المحتار - (ج 6 / ص 46)

اعلم أن بعض المحققين أهل الترجيح أطلق الفناء عن تقديره بمسافة وكذا محرر المذهب الإمام محمد وبعضهم قدره بها وجملة أقوالهم في تقديره ثمانية أقوال أو تسعة غلوة ميل ميلان ثلاثة فرسخ فرسخان ثلاثة سماع الصوت سماع الأذان والتعريف أحسن من التحديد لأنه لا يوجد ذلك في كل مصر وإنما هو بحسب كبر المصر وصغرهبيانه أن التقدير بغلوة أو ميل لا يصح في مثل مصر لأن القرافة والترب التي تلي باب النصر يزيد كل منهما على فرسخ من كل جانب ، نعم هو ممكن لمثل بولاق فالقول بالتحديد بمسافة يخالف التعريف المتفق على ما صدق عليه بأنه المعد لمصالح المصر فقد نص الأئمة على أن الفناء ما أعد لدفن الموتى وحوائج المصر كركض الخيل والدواب وجمع العساكر والخروج للرمي وغير ذلك وأي موضع يحد بمسافة يسع عساكر مصر ويصلح ميدانا للخيل والفرسان ورمي النبل والبندق البارود واختبار المدافع وهذا يزيد على فراسخ فظهر أن التحديد بحسب الأمصار ا هـ

الموسوعة الفقهية الكويتية - (ج 28 / ص 200)

من كانوا يقيمون في قرية نائية ، لا يكلّفون بإقامة الجمعة ، وإذا أقاموها لم تصحّ منهم . قال صاحب البدائع : المصر الجامع شرط وجوب الجمعة ، وشرط صحّة أدائها عند أصحابنا ، حتّى لا تجب الجمعة إلاّ على أهل المصر ومن كان ساكناً في توابعه ، وكذا لا يصحّ أداء الجمعة إلاّ في المصر وتوابعه .فلا تجب على أهل القرى الّتي ليست من توابع المصر ، ولا يصحّ أداء الجمعة فيها .

الفقه الإسلامي وأدلته - (ج 2 / ص 425)الحنفیة

والخلاصة: تجب الجمعة على من يسكن المصر، أو ما يتصل به، فلا تجب على أهل السواد (القرى) ولو كان

قريباً، وتجب الجمعة على مسافر نوى الإقامة لمدة خمسة عشر يوماً، وليس الاستيطان (دوام الإقامة) شرطاً لوجوب الجمعة.

الفقه الإسلامي وأدلته - (ج 2 / ص 426)المالکیة

وتجب الجمعة على مقيم ببلد الجمعة، وعلى المقيم بقرية أو خيمة بعيدة عن بلد الجمعة بنحو فرسخ أو

ثلاثة أميال وثلث، لا أكثر، وتقدر المسافة من المنارة التي في طرف البلد. ولا يشترط في بلد الجمعة أن يكون مصراً، فتصح في القرية، وفي الأخصاص (وهي بيوت الجريد أو القصب)، ولا تصح ولا تجب في بيوت الشعر؛ لأن الغالب عليهم الارتحال، إلا إذا كانوا قريبين من بلد الجمعة، كما لا تصح ولا تجب على من أقام مؤقتاً في مكان ولو لشهر مثلاً، إذ لا بد من الاستيطان: وهو الإقامة في بلد على التأبيد.

رد المحتار - (ج 6 / ص 44)

في فتاوى الديناري إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي ا هـ فافهم  ،والرستاق القرى كما في القاموس

وفی رد المحتار - (ج 6 / ص 44) 

تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم : هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه. مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے امدادالاحکام ج:١ از صفحہ ۷۲۵تا۷۳١احسن الفتاوی ج:۴رسالة النخبة فی مسئلة الجمعہ والخطبہ اوراس کاتتمہ ج: ١۰ص۳۹٦تا۴۲١اوراعلاء السنن ج۵ص ۲۲۷۴تا۲۲۹۹.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

6/7/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب