| 82513 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری بیوی کے ایک شخص سے ناجائز تعلقات کے بارے میں مجھے علم ہوا تو میں نے دونوں سے حلفاً پوچھا اور دونوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا کہ ہم دونوں کاتعلق آپس میں بہن بھائی کا ہے اور آئندہ بھی اس طرح رہے گا، اس وقت میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ "اگر آئندہ آپ نے اس شخص سے ناجائز تعلقات رکھے تو پیشگی میری طرف سے دو طلاقیں سمجھ لینا" میں نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے، بلکہ صرف اپنی بیوی کو ڈرانے کے لیے کہے تھے، پھر تقریبا 7 ماہ ہم دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی رہے، اس کے بعد کسی وجہ سے مجھے جیل جانا پڑا پھر تقریباً 8 ماہ بعد جب میں واپس آیا تو مجھے پتہ چلا کہ میری بیوی نے اس شخص سے نکاح کر لیا ہے، اب معلوم یہ کرنا ہےکہ
1. اس شخص کا میری بیوی کے ساتھ کیا ہوا یہ نکاح شرعا درست ہے یا نہیں ؟
2. جب میں جیل میں تھا اس وقت میر ے وکیل نے مجھ سے دھوکہ سے بلینک پیپر پر دستخط لیے اور بعد میں اس پر خود سے طلاق کا مضمون لکھ دیا، کیا اس طرح طلاق ہو جاتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1. سوال میں مذکورہ الفاظ"اگر آئندہ آپ نے اس شخص سے ناجائز تعلقات رکھے تو پیشگی میری طرف سے دو طلاقیں سمجھ لینا" سے راجح قول کے مطابق طلاق نہیں ہوئی ،لہذا مذکورہ عورت بدستور آپ کے نکاح میں ہےاورنکاح پر چونکہ شرعاً دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا،لہذا دوسرا نکاح منعقد نہیں ہوا، مذکورہ عورت پر لازم ہے کہ اپنے کئے پرصدقِ دل سے توبہ اوراستغفارکرے اورمذکور دوسرےشخص سے فوراً علیحدگی اختیارکرکے اپنے سابقہ شوہرکے پاس آجائے۔
2. صورتِ مسؤلہ میں اگر واقعةً وکیل نے خالی کاغذ پرآپ سے دستخط لئے اورآپ نے اس کو طلاق لکھنے کا نہیں کہا تھا اوراس نے اپنی طرف سے لکھ کر آپ کی طرف منسوب کی ہے تو شرعاً اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (8/ 549)
قال - رحمه الله - (ولو قال الزوج داده است وكرده است يقع) الطلاق (نوى) الوقوع (أولا) أي وإن لم ينو قال - رحمه الله - (ولو قال الزوج داده أنكار وكرده أنكار) لا يقع الطلاق (وإن نوى الوقوع) والفرق بينهما أن في الأولى إخبارا عن وقوع فيقع الطلاق وفي الثاني ليس بإخبار؛ لأن معنى قوله داده أنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء وأنكار بفتح الهمزة وسكون النون وفتح الكاف الصماء وفي آخره راء مهملة، ومعناه افرض وقدري قوله (وي مرانشا يد تاقيامت أو همه عمر) لا يقع طلاق (إلا بنية) ؛ لأنه من الكنايات قوله وي بفتح الواو وسكون الياء آخر الحروف بمعنى هي التي هو ضمير الغائب.
وفی الفتاوى الهندية (1/ 380)
مرأة قالت لزوجها: " مرا طلاق ده " فقال الزوج: ..... داده إنكار أو كرده إنكار لا يقع وإن نوى ولو قال لها بعدما طلبت الطلاق: داده كير وبر.
وفی ملتقى الأبحر (ص: 479)
ولو قال: (داده آنكار) لا يقع وإن نوى.
فتاوى قاضيخان (1/ 225)
ولو قال الزوج داده أنكار أو قال كرده أنكار لا يقع الطلاق وان نوى كأنه قال لها بالعربية احسبي أنك طالق وان قال ذلك لا يقع وان نوى.
الفتاوى البزازية (2/ 44)
ولو قال داده انكار أو كرده انكار لا يقع وإن نوى .
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 736)
(ولو قالت) المرأة (" مر إطلاق ده " فقال) الزوج (" داده كير أو حزب كير أو داده باد أو حزب باد) معناه أعطني طلاقا فقال افرضي وقدري أنه قد أعطى أو أنه قد فعل أو أنه كان أعطى أو أنه كان قد فعل؛ لأن قوله " كير " معناه الأصلي أمسك لكن معناه هنا افرضي وقدري (إن نوى) الطلاق (يقع وإلا) أي وإن لم ينو (فلا) يقع لاحتمال الوعد والإيقاع فيحتاج إلى نية الإيقاع...... (ولو قال " داده آنكار ") و " حزب آنكار " (لا يقع) الطلاق.
وفی الفتاوى الهندية (1/ 280)
(القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير) . لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة،
كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع.
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 246)
ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا
وفی الشامیة:
" طلب أولياؤها طلاقها، فقال الزوج لأبيها: ما تريد مني؟ افعل ما تريد! وخرج فطلقها أبوها لم تطلق إن لم يرد الزوج التفويض؛ فالقول له فيه، خلاصة.
(قوله: ما تريد مني) استفهام، وقوله: افعل ما تريد أمر (قوله:لم تطلق إلخ) أي؛ لأنه وإن كان في مذاكرة الطلاق لكنه لا يتعين تفويضاً؛ لاحتمال التهكم أي افعل إن قدرت، تأمل" . (3/330، باب الامر بالید، کتاب الطلاق، ط: سعید)
وفی سنن أبی داود
"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقاً في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة»". (1/310، باب الخلع، ط: حقانیہ(
امداد الفتاوی الجدید ( 5/ 310):
"اور یہ لفظ کہ تم لوگ ایسے ہی سمجھو ترجمہ داردہ انگارکا معلوم ہوتاہےاس لئے اس سےطلاق واقع نہیں ہوئی"
خیر الفتاوی(5/147)
"طلاق سمجھودادہ انگار(دی ہوئی سمجھ لیں)کے مشابہ ہے ،لہذا عورت پر طلاق واقع نہیں ہوئی "
نجم الفتاوی (6 / 58):
’’سمجھ لے ‘‘مسئلے کا اصل مدا ر اس لفظ پر ہے۔ ’’کا غذ ہے‘‘ وغیر ہ تو کنا ئی الفاظ ہیں لیکن سمجھ لے کے ساتھ مل کر ان کا حکم کیا ہو گا، اصل اس کی تنقیح ضرو ری ہے۔ ’’سمجھ لے ‘‘ کاممکنہ تر جمہ عربی میں ’’احسبی ‘‘ سے کیا جا سکتا ہے ۔مصبا ح اللغات میں ’’حسب یحسب‘‘ (من باب سمع یسمع ) کا تر جمہ ’’گمان کرنا ‘‘ تحریر ہے۔ اسی سے ملتے جلتے الفا ظ ’’عد ی ‘‘ (شما ر کر) اورافر ضی (فرض کر) ہیں ۔احسبی ،عدی یا افرضی (گما ن کر ،شما ر کر ،فر ض کر ) میں سے احسبی (گمان کر ) ’’سمجھ لے‘‘ کے قریب تر ہے۔فقہا ء نے ان تمام الفا ظ میں احتما ل طلا ق ہو نے کی نفی کی ہے۔ عمو ما فقہا ء ایک مکا لمے کی صورت میں [جو کہ فا رسی میں ہے] اس کا عر بی تر جمہ ان الفاظ سے کر کے مع النیۃ بھی عد م وقو ع طلا ق کا حکم لگا تے ہیں ۔ فا رسی میں مکا لمہ یوں ہے کہ بیو ی کہتی ہے کہ ’’مرا طلا ق دہ‘‘ (مجھے طلاق دے ) شو ہر اس کے جوا ب میں کہتا ہے (دادہ آنکا ر) اس ’’دادہ آنکار ‘‘ کا تر جمہ فقہاء "افر ضی أنہ وقع" "عدی أنک طا لق" اور "احسبی"سے کر تے ہیں کہ[ شما ر کر لے کہ تو طلاق یا فتہ ہے ]،[فرض کر لے کہ وہ وا قع ہو گئی ہے] یا[ گمان کر لے]وغیر ہ ترا جم کرکے ان الفاظ میں مع النیہ بھی عدم وقوع کا قو ل کر تے ہیں ۔......الغرض’’احسبی ،افر ضی اور عد ی‘‘میں بتصر یح فقہا ء احتما ل طلاق ہی نہیں ،لہذا ’’سمجھ لے ‘‘میں بھی کسی قسم کا احتما ل نہ ہو گا۔ اگر کو ئی نیت بھی کرتا ہے تو طلا ق کا وقوع نہ ہوگا۔
فتاوی جامعة الرشید(35/51566)
ان کلمات میں نہ ایقاعِ طلاق ہے اورنہ وقوعِ طلاق کی خبرہے ،لہذا اس طرح کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
وفیہ ایضا(52/50099)
"فقہاء کرام کی تصریح کے مطابق سوال میں مذکورہ "طلاق سمجھیں"جیسے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،خواہ کوئی طلاق کی نیت سے ہی کہے،لہذا سوال میں مذکورہ الفاظ"میری طرف سے طلاق ہی سمجھیں"سے نکاح ختم نہیں ہوا"۔
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
١ /۷/١۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


