| 86364 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
2009ء میں میری شادی ہوئی، میری بیوی کا حق مہر 91300 روپے تھا، جو کہ بصورتِ زیور ادا کیا تھا، 2023ء میں میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، اب میری بیوی اور اس کے اہلِ خانہ کا مطالبہ ہے کہ ہمیں تین تولے زیور دیا جائے، سوال یہ ہے کہ کیا اب وہی رقم 91300 روپے دیناہو گی یا تین تولہ زیور دیا جائے گا؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ میں نے تین تولہ زیور شادی کے وقت دے دیا تھا، اب طلاق کے بعد انہوں نے عدالت میں دعوی دائر کیا ہے، جس میں انہوں نے جہیز کا سامان اور تین تولہ زیور جھوٹ اور غلط بیانی پر مبنی میرے اوپر ڈالا ہے، جبکہ حقیقیت میں یہ لوگ دونوں چیزیں وصول کرچکے ہیں، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بقول جب وہ تین تولہ سونا اور جہیز کا مکمل سامان ادا کر چکی ہے تو اب لڑکی والوں کا عدالت میں جا کر لڑکے کے ذمہ تین تولہ زیور اور جہیز کے سامان کا لڑکے کے ذمہ دعوی کرنا ہرگز جائز نہیں، اس دعوی کی بنیاد پر لڑکی والوں کا لڑکے سے کوئی مال لینا شرعاً غصب کا حکم رکھتا ہے، جس پر قرآن وسنت میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اگر لڑکی والوں نے لڑکے سے اس طرح ناجائز طریقے سے کوئی مال لے لیا تو قیامت کے دن اس کا خطرناک نتیجہ بھگتنا پڑ سکتا ہے، اس لیے اگر واقعتاً سائل کا بیان درست ہے تو لڑکی والوں پر لازم ہے کہ وہ تین تولہ زیور اور جہیز سے متعلق اپنا دعوی واپس لیں، ورنہ وہ سخت گناہ گار ہوں گے۔
واضح رہے کہ مذکورہ بالا جواب سائل کے بیان کے مطابق دیا گیا ہے، لہذا اگر اس کا یہ بیان درست نہ ہو تو اس کاگناہ سائل کو ہو گا، مفتی پر اس کی کوئی ذمہ داری عائد نہ ہو گی۔
حوالہ جات
۔۔۔۔
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
12/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


