| 82543 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
سسر کا بیان:
28 دسمبر 2023ء بروزِ جمعرات میری بیٹی اور داماد میں کسی بات پر جھگڑا ہوا، اس دوران میری بیٹی نے مجھے فون پر اطلاع دی کہ آکر اس کو سمجھائیں، میری داماد سے بھی بات ہوئی کہ ذرا سمجھ داری سے کام لیں، میں آرہا ہوں۔ میں اپنے چچا زاد بھائی کو لے کر وہاں پہنچا تو داماد گھر میں نہیں تھا، تھوڑی دیر بعد وہ اپنے والد اور بھائیوں کو لے کر آئے، انہوں نے کہا کہ میرے داماد محمد عمران نے لڑکی کو طلاق دیدی ہے۔ پھر ایک مفتی صاحب کو بلایا گیا، میرے داماد نے کہا: میں نے دو بار طلاق کی نیت کے ساتھ کہا ہے کہ "یہ معاملہ ختم ہوگیا"، تیسری دفعہ کا یاد نہیں۔ بچی سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ایک دفعہ کہنا مجھے یاد ہے، دو بار یاد نہیں۔ مفتی صاحب نے کہا طلاقِ بائن ہوگئی ہے، آپ بچی کو لے جائیں اور وہ عدت گزارلے۔ میں نے داماد سے منسلکہ سوال لکھوایا ہے، اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے فون پر دو دفعہ سسر سے یہ بات کی، لیکن مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات کی ہو، فون سے علیحدہ ہو کر کی ہو تو اس کا مجھے پتا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ میرے داماد کے بیان کے مطابق طلاق ہوگئی ہے؟ اگر ہاں تو کتنی؟ اور اب عدت کے اندر یا عدت کے بعد رجوع یا نکاح ہوسکتا ہے؟
داماد کا بیان:
ایک ہفتہ قبل میرا اپنی اہلیہ سے جھگڑا ہوا، نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس نے اپنے والد کو فون کیا اور کہا کہ آپ مجھے فوری یہاں سے لے جائیں، یہ شخص بدتمیزی پر اتر آیا ہے۔ اس دوران اہلیہ مسلسل زور زور سے چیختی جارہی تھی جس پر مجھے شدید غصہ آیا، وہ اپنے والد سے کہہ رہی تھی کہ آپ آکر معاملہ آر یا پار کردو یعنی ایک طرف کردو۔ اسی دوران سسر کے کہنے پر اہلیہ نے فون میرے حوالے کیا، میں نے ان سے کہا اب آپ ہی بتائیں کہ معاملہ برقرار رکھنے کا کیا جواز ہے، جبکہ اتنا شور شرابہ ہو رہا ہے؟ پھر میں نے نیت کے ساتھ دو مرتبہ سسر سے کہا کہ "بس اب معاملہ ختم ہوگیا"، یہ بات میرے سسر اور بیوی دونوں نے سنی۔ اس کے بعد بیوی نے فون میرے ہاتھ سے چھین لیا جس پر میں بھی چیخا اور کہا یہ جھگڑے روز روز کے ہوگئے ہیں، بس اب یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے، اس پر بیوی نے چیخ کر تین مرتبہ کہا "ہاں، ختم کردو"، جواب میں میں نے بیوی سے کہا "ہاں، میں نے معاملہ ختم کردیا اور کل لکھ کر بھجوادوں گا"، اس دوران بھی میری نیت چھوڑنے کی تھی۔
سوال یہ ہے کہ میری بیوی میرے نکاح میں ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو رجوع کی صورت ہوسکتی ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ اس وقت میری بیوی اپنے والد کے گھر میں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب آپ نے پہلی مرتبہ طلاق کی نیت سے "میں نے معاملہ ختم کردیا" کے الفاظ کہے تو اس سے آپ کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن ہوگئی ، اس کے بعد یہ الفاظ دوبارہ کہنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ ایک طلاقِ بائن واقع ہونے کی وجہ سے آپ دونوں کا نکاح ختم ہوگیا ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، البتہ آپ دونوں باہم رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر پر دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، یہ نکاح عدت کے اندر بھی ہوسکتا ہے اور عدت کے بعد بھی ہوسکتا ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 375):
ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك، أو قال: لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى.
رد المحتار (3/308):
( لا يلحق البائن البائن ) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
02/رجب المرجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


