| 82759 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میں عرصہ پانچ سال سے اپنے والدین کے گھر بیٹھی ہوں، عدالت میں شوہر کے ساتھ نفقہ کے حوالے سے مقدمہ چل رہا ہے، اس دفعہ پیشی کے موقع پر جو جج صاحبہ کے سامنے شوہر کی موجودگی میں جو گفتگو ہوئی وہ نقل کر رہی ہوں:
جج صاحبہ: کیا آپ دونوں کے درمیان خلع ہو گئی ہے؟
میں نے کہا نہیں۔میرے شوہر نے کہا: ميں نے دے دی ہے، دو مہینے ہو گئے ہیں۔میں نے کہا مجھے اس نے نہیں دی۔
جج صاحبہ نے اس سے کہا: یہ کہہ رہی ہے کہ مجھے نہیں دی؟ شوہر نے کہا میں نے دے دی ہے، ویسے بھی یہ کوئی بات نہیں مانتی۔
جج صاحبہ نے پوچھا آپ نے زبانی خلع دی ہے یا چیٹ میں دی ہے؟ شوہر نے کہا میں نے زبانی بھی دی ہے اور چیٹ میں بھی دی ہے۔
میں نے کہا ہمیں اس حوالے سے کوئی پیپر نہیں ملا۔ اس کے بعد جج صاحبہ نے نفقہ کا آرڈر جاری کر دیا۔سوال یہ ہے کہ کیا اس اقرار سے خلع ہوچکی ہے یا نہیں؟ اگر ہو گئی ہے تو اس سے کون سی طلاق واقع ہوئی ہے؟ اور عدت کب سے اور کتنی ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جج صاحبہ کے سوال "کیا آپ دونوں میں خلع ہو گئی ہے؟" کے جواب میں جب شوہر نے کہا کہ میں دے دی ہے، تو اسی وقت ایک طلاقِ بائن ہو گئی، کیونکہ خلع کا لفظ کنایاتِ طلاق میں سےہے، جس سے طلاق کی نیت یا کسی قرینہ کے پائے جانے کے وقت طلاق واقع ہو جاتی ہے اور یہاں چونکہ شوہر نے یہ الفاظ جج کے خلع سے متعلق سوال کے جواب میں کہے ہیں اس لیے اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی ہے، اگرچہ شوہرنے پہلے خلع نہ دیا ہو۔(لكون إقراره بحكم إنشاء الطلاق ولو كاذبا)
لہذا اب فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے اور شوہر کے یہ الفاظ کہنے کے وقت سے آپ کی عدت شروع ہو چکی ہے، عدت گزار کرآپ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہیں، نیز سابقہ شوہر سے بھی عدت کے دوران اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ کے شوہر نے اس سے پہلے یا س کے بعد بقیہ دو طلاقیں نہ دی ہوں۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 214) دار الفكر،بيروت:
(ولأنه) أي الخلع (من الكنايات) حتى لو قال خلعتك ينوي الطلاق وقع الطلاق البائن عندنا، لأن حقيقة الخلع لا تتحقق إلا به.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440) دار الفكر-بيروت:
لو قال: خلعتك - ناويا الطلاق - فإنه يقع بائنا غير مسقط للحقوق لعدم توقفه عليه.
قال ابن عابدين:لو قال خلعتك إلخ) أي ولم يذكر المال لأنه متى كان على مال لزم قبولها كما ذكرناه آنفا، وقيد بقوله بناء على ظاهر الرواية لأنه كناية فلا بد له من النية، أو دلالة الحال، لكن سيأتي أنه لغلبة الاستعمال صار كالصريح (قوله: غير مسقط للحقوق) أي المتعلقة بالزوجية.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 236) دار الفكر-بيروت:
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
11/رجب المرجب 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


