| 82647 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
ہم دونوں میاں بیوی کی لڑائی ہوگئی تھی تو انہوں نےاس لڑائی میں بار بار مجھے گھر سے نکل جانے کا کہا کہ دفع ہو جاؤیہاں سے، تو میں نے اُنہیں کہا آپ چلے جائیں، تو انہوں نے کہا یہ گھر میرا ہے، تم دفع ہو،تو پھر میں نے کہا طلاق دو، کہ دفع ہو جاؤں،تو جواب میں کہا:ہاں،دفع ہوجاؤ،دفع ہوجاؤ،میں نے پھر کہا میں نے طلاق مانگی تو آپ نے جواب میں کہا:ہاں،دفع ہوجاؤ، اب اس بات سے نہیں مکرنا، تو بولے: نہیں مکرتا،تم دفع ہوجاؤ،تم رہنا ہی نہیں چاہتی تھی،پھر میں نے کہا:اب ختم سب کچھ؟تو انہوں نے کہا: ہاں دس دفعہ ختم، دفع ہو۔
اب میں نے ان سے کہا کہ آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں،میری تو نیت نہیں تھی اور ان الفا ظ سے طلاق کوئی نہیں ہوتی،جبکہ دو سال پہلے بھی میرے شوہر نے مجھے لڑتے ہوئے کہا تھا نکلو،دفع ہو جاؤ تو میں نے کہا تھا کہ مجھے آزاد کر دو پھر، تو انہوں نے جواب میں ایسے ہی بولا تھا کہ دفع ہوجاؤ اور اسی دن جائے نماز پر کھڑے ہو کر بھی بولا تھا کہ اللہ کو گواہ بنا کر تم سے اپنا رشتہ ختم کرتا ہوں، لیکن وہ بعدمیں پھر کہتے تھے نہیں،ان باتوں سے نکاح ختم نہیں ہوتے،لیکن میں نےپھر بھی آپ کا بیان سن کر اُن کے ساتھ تجدیدِ نکاح کیا تھا۔
تنقیح:شوہر کا بیان یہ ہے کہ اس کی مذکورہ بالا جملوں میں کسی سے بھی طلاق کی نیت نہیں تھی،نیز پہلی دفعہ جب بیوی نے کہا کہ طلاق دو کہ میں دفع ہوجاؤں تو جواب میں شوہر نے کہا کہ ہاں،دفع ہوجاؤ،جبکہ دوسری دفعہ جب بیوی نے کہا مجھے آزاد کردو پھر تو اس وقت جواب میں شوہر نے صرف یہ کہا تھا کہ دفع ہوجاؤ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں شوہر کے الفاظ "دفع ہوجاؤ "تو طلاق ان کنایہ الفاظ میں سے ہے جن سے طلاق واقع ہونے کے لئے بہرحال نیت کی ضرورت ہے،اس لئےصرف ان الفاظ سے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ ان الفاظ کے علاوہ آپ دونوں میاں بیوی کے درمیان تین مواقع پر جو مکالمہ ہوا ہے اس کا حکم درج ذیل ہے:
1۔دو سال پہلے جھگڑے کے دوران آپ کے شوہر نے آپ سے کہا کہ نکلو،دفع ہوجاؤ،جس پر آپ نے ان سے کہا کہ مجھے آزاد کردوپھر،تو انہوں نے جواب میں کہا کہ دفع ہوجاؤ،چونکہ شوہر کے بقول اس نے جواب میں مذکور الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں بولے تھے،اس لئے ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،کیونکہ" دفع ہوجاؤ "میں آپ کی جانب سے کئے گئے طلاق کے مطالبے کو رد کرنے کا احتمال بھی ہے اور تسلیم کرنے کا بھی،لہذا نیت نہ ہونے کی صورت میں طلاق نہیں ہوئی۔
2۔اس کے بعد اسی دن جائے نماز پر کھڑے ہوکر غصے کی حالت میں انہوں نے جو الفاظ کہے کہ" اللہ کو گواہ بناکر تم سے اپنا رشتہ ختم کرتا ہوں" ان سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی تھی،جس کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح لازم تھا جو آپ نے کرلیا تھا،البتہ اس کے بعد شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار رہ گیا تھا۔
3۔حال ہی میں شوہر اور آپ کا اس حوالے سے جو مکالمہ ہوا ہے،شوہر کی نیت نہ ہونے کی وجہ سے اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،جبکہ دو سال پہلے واقع ہونے والی طلاق کے بعد آپ تجدیدِ نکاح کرچکے ہیں،لہذا فی الحال آپ دونوں کا نکاح بدستور باقی ہے اور ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 298):
"فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة".
قال ابن عابدین رحمہ اللہ ": (قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب......
والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية".
"البحر الرائق " (3/ 274):
" وفي المحيط لو قالت المرأة أنا طالق فقال الزوج نعم كانت طالقا إن نوى به طلاقا مستقبلا، وإن نوى به الخبر عما مضى وقع، وفي البزازية قالت له أنا طالق فقال نعم طلقت ولو قالت طلقني فقال نعم لا، وإن نوى اهـ".
"الفتاوى الهندية" (1/ 356):
"ولو قالت أنا طالق فقال نعم طلقت ولو قاله في جواب طلقني لا تطلق".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
06/رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


