| 82662 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
عام دنوں میں شوقیہ پتنگ اڑانا کیسا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پتنگ بازی میں امور دینیہ اور دنیویہ سے غفلت کا مفسدہ پایا جاتا ہے ، جبکہ انسانی زندگی کے لمحات بڑی قیمتی سرمایہ ہیں،ہر انسان کو چاہئے کہ اپنی زندگی کے اوقات کی قدر کریں ،اپنی زندگی کو فضول اور لایعنی کاموں میں ضائع نہ کریں، پتنگ بازی کے بہت سے نقصانات ہیں ۔
1۔ پتنگ عام طورپر گھروں کی چھتوں پر یاکسی اونچی جگہ پر اڑائی جاتی ہے ،جس سے آس پاس والے گھروں کی بے حرمتی ہوتی ہے، دوسروں کے گھروں میں جھانکنا ، یا اپنے گھر کی چھت پر اس طرح چڑھنا جس سے دوسروں کے گھروں کی بے پردگی ہو گناہ کےکام ہیں ،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کی چھتوں پر کبوتر اڑانے والے کو شیطان کہا یعنی شیطانی کام کرنے والا قرار دیاہے ۔
2۔اسی طرح پتنگ کی ڈٕوری سے آئے دن لوگوں کا گلے کٹ کر ہلاک ہونا یہ توروز کا معمول بن گیا ہے ،ایسی افسوس ناک خبریں اور واقعات اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں ،جو کام کسی انسان کی جانی مالی نقصان کا سبب بنے وہ شرعا بہت بڑا گناہ ہے ۔
3۔ پتنگ بازی میں مال کو بے جا خرچ کرنا ہے ، مال کو بے جا اڑانا ،اسراف اور فضول خرچی ہے جو کہ قرآن وحدیث کی رو سے ناجائز ہے ۔
پتنگ بازی میں مذکورہ بالاخرابیوں کے علاوہ بھی خرابیاں موجود ہیں ، لہذا عام دنوں میں شوقیہ پتنگ بازی بھی ناجائز ہے اس سے احتراز کرنا لازم ہے ۔
حوالہ جات
{إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (27) } [الإسراء: 27]
مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 521)
عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يتبع حمامة فقال : " شيطان يتبع شيطانة " . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
مشكاة المصابيح للتبريزي (3/ 122)
وعن عمرو بن ميمون الأودي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لرجل وهو يعظه : " اغتنم خمسا قبل خمس : شبابك قبل هرمك وصحتك قبل سقمك وغناك قبل فقرك وفراغك قبل شغلك وحياتك قبل موتك " . رواه الترمذي مرسلا
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۹ رجب ١۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


