03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فری لانسنگ میں کام کرنےکی مختلف صورتوں کاحکم
82648خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم میں کلیۃ  الشریعہ سال اول کا طالب علم ہوں میں Freelancing کرتا ہوں پچھلے سال سے اور میں ہر وقت اس بات کی فکر میں رہتا ہوں کہ آیا میرا کام حلال یا حرام ہے ۔

دو پلیٹ فارمز میں fiverr اور UPwork چین پر میں کام کرتا ہوں - ان پلیٹ فارمز پر مختلف clients ہوتے ہیں مثلا کوئی امریکا سے کوئی Dubai سے کوئی UK سے  یا کسی بھی ملک کا بندہ مجھ سے رابطہ کرسکتا ہے کام کے سلسلے میں اور میں انہیں Business Plan بتا کر دیتا ہوں ۔

اب سوال یہ ہے کہ Business Plan کیا ہوتا ہےتو Business plan ایک Document ہوتا ہے تقریبا 20 سے 25 صفحات کا یہ اس سے کم یاز یادہ بھی  ہو سکتا ہے، اس Document کے اندر کاروبار سے متعلق معلومات ہوتی ہیں۔ یعنی کاروبار کس طرح اور کہاں پر واقع ہو گا؟ اس کا روبار کا مقصد کیا ہو گا؟ اور اس کا روبار کو آگے لے کر کسی طرح چلا جائے گا میں جو Business Plan بنا کر دیتا ہوں اپنے clients کو اس میں عمومی طور یہ مندرجہ ذیل حصےہوتےہیں۔

۱۔Executive summary اس حصے میں اس پورے یلان کا خلاصہ ہوتا ہے۔

۲۔ The Business اس حصے میں عام طور پر کاروبار یا کمپنی کا mission, vision اورکاروباری مقصد یعنی کاروبار کسی مسئلے کا حل پیش کرےگا۔

3 Management کاروبار کو کون چلائے گا؟مالک کون ہوگا وہ ملازم کونسے رکھےگا، ان کی Duties کیا ہونگی یہ سب تفصیلات اس حصےمیں ہوتی ہیں۔

۴۔ Products & Serviceاس حصے میں کمپنی  کیا بیچے گی اس کی تفصیلات ہوتی ہیں۔

۵۔marketing plan اس حصے میں کاروبار کی تشہیر سے متعلق تفصیلات ہوتی ہیں۔

۶۔Financial plan اس حصے میں کاروبار کی مالی ضروریات کا تخمینہ اورکاروبار کوا گلے 3 سے 5 سالوں میں ہونے والے  نقصان یا نفع کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ یہ کا روباری پلان مختلف مقاصد کے لیے بنائے جاتے ہیں جو درج ذیل ہیں اور یہ ہر کاروبار کے لیے مختلف ہو سکتے ہیں:

۱۔ کسی کو انکے ساتھ حصہ دار بنانے کے لیے۔

۲۔ کسی کو پیش کرنے کے لیے۔

۳۔ Funding حاصل کرنے کے لیے سرمایہ دا روں یا بینکوں کو پیش کرنے کے لیے ۔

۴۔ غرض یہ کسی بھی مقصد کے لیے۔ ، ہو سکتے ہے تے ہیں جن میں سےچند میں نے عرض کر دیے ہیں۔

میرے سوالات یہ ہیں ؟

 1 - کیا میرا یہ کام کرنا شرعی اعتبار سے جائز ہے ؟

۲۔کیا میں ہر قسم ہم کے کے کاروبار کو یہ Business plan بنا کر دے سکتا ہوں؟

۳۔میرے پاس ہر طرح کے clients آتے ہیں اور یہ سارے دوسرے ممالک کے ہوتےہیں، ان میں سے اکثر غیر مسلم جبکہ کچھ مسلمان بھی ہوتے ہیں،کچھ کےکاروبارحلال ہوتے ہیں اور کچھ کے حرام اور کچھ میں کچھ حصہ حرام پر مشتمل ہوتا ہےجبکہ کچھ  حصہ حلال پر، مثال کے طور پر ایک ہوٹل کا پلان جس میں بعض  اشیاء حلال جبکہ بعض حرام ہوتی ہیں

کیا میں ایسے فرد کو یہ پلان بنا کر دے سکتا ہو جس کا کا روبارمکمل  حرام ہو ؟ جیسے کہ اگر کوئی شخص موسیقی کا کام کرتا یا کسی کا شراب خانہ ہو۔

کیا ایسے کاروبار جس میں کچھ چیزیں حلال ہوں  یا کاروبار حلال ہو جیسے کہ اگر ایک شخص گاڑیوں کا کام کرتا ہو،اس کا کام تو حلال ہے مگر وہ کہتاہے میں Insurance بھی کرواؤں گا تو اس کے لیے میں Business Plan بنا کر دے سکتا ہوں ؟

۴۔ ایسا کیا روبار جس کا مجھے نہیں پتہ حلال ہے یا حرام اس کو کام کر کے دے سکتاہوں؟

۵۔جیسا کہ میں نے اوپر بتایا،  کا روبار کے اپنے Business Plan بنانے کے مختلف مقاصد ہوتےہیں، جن میں سے ایک مقصد کبھی کبھار یہ ہوتا کہ وہ اس  Business planبینک کو پیش کر کےسودپرقرض حاصل کریں گے،اوراس بات کامجھے اکثرعلم نہیں ہوتاکہ سامنے والا کس مقصد کےلیےبنوارہاہے،لیکن بعض دفعہ مجھے پتہ چل جاتاہےکہ بینک کوپیش کرکےسود پرقرض لےگا،تواس صورت میں میرااسےیہ پلان بتاکردینا کیساہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

3،2،1۔اصولی طورپرفری لانسنگ کامذکورہ بالا کام کرناشرعادرست ہے،لیکن اس کےلیےشرط یہ ہوگی کہ جس کاروبارکےلیےپلان تیارکرنےکاکام کیاجائےوہ شرعی طورپرجائزبھی ہواورپلان میں بھی غیرشرعی امورنہ ہوں۔

غیرمسلموں کےلیےکام کرنےمیں شرعاکوئی حرج نہیں،البتہ اس کاخیال رہےکہ وہ کاروبار شرعاجائزہواوراس میں کوئی غیرشرعی امور بھی نہ ہوں،جیسےاوپرتفصیل گزرچکی ہے۔کوشش کریں ایسےکام لیں جو مکمل طوپرحلال ہوں۔

ایسےکا م جن کےحرام ہونےکایقین یاظن غالب ہو،یاکاروبارکااکثرحصہ حرام ہو،مثلاہوٹل میں زیادہ خریدوفروخت  شراب کی ہوتی ہے،اسی طرح خنزیریادوسرےحرام جانوروں سےبنی ہوئی مصنوعات کی خریدوفروخت ہوتی ہویاپھرزیادہ کام موسیقی ،نامحرم تصاویروغیرہ پرمشتمل ایڈیٹنگ وغیرہ کا ہوتواس طرح کےکاروبارکاbusiness plan وغیرہ بنانا شرعاجائزنہیں ہوگا، اس کے بدلے کمائی ہوئی رقم بھی  حلال نہیں ہوگی ،لہٰذا اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔

ایسےکام جن کااکثرحصہ حلا ل ہو،لیکن جزوی طورپروہ یقیناناجائزامورپرمشتمل ہوتواس کاحکم یہ ہےکہ چونکہ اکثرحصہ حلال ہے،لہذاپلان بنانا تودرست ہے،جہاں تک غیر شرعی امور کی بات ہے،توکوشش کی جائےکہ غیرشرعی امور کوشامل ہی نہ کیاجائے،اوراگرشامل کرلیاگیاہےتووصول ہونےوالی اجرت میں اندازےسےاس کےبقدررقم بلانیت ثواب صدقہ کرناضروری ہوگا۔

ایسےکاروبارجن کاآپ کومعلوم نہ ہوتواس طرح کےکاروبارکےلیےبزنس پلان بنانےکاکام کرناشرعاجائزنہیں ہوگا،پہلےاچھی طرح معلومات کریں ،پھر ان سےمعاہدہ وغیرہ کریں۔

اپنےطورپرخارجی ذرائع سےمکمل معلومات کریں،اگرمقصدواقعتا ناجائزاورحرام ہوتوان سےاس طرح کاکام نہ لیاجائےاوراگردیگرجائزمقاصدبھی ہوں اوران مقاصد میں ایک حرام اورناجائز مقصد بھی ممکنہ طورپرہوسکتاہو،لیکن جوبندہ کام  کروارہاہے،اس نےان مقاصدمیں وہ ناجائزمقصدذکرنہیں کیاتوآپ کےلیےوہ کام کرناشرعاجائزہوگا،اس صورت میں اگروہ اس(business plan)کواپنےناجائزمقاصدکےلیےاستعمال کرتاہےتووہی گناہگارہوگا۔

حوالہ جات

"الدرالمختار باب ضمان الأجير"6/64:

 (الأجراء على ضربين مشترك وخاص فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير موقت)۔۔۔(أو موقتا بلا تخصيص)۔۔۔(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه)۔

"الفتاوى الهندية"4/411:

ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا۔

"الهدايةباب الإجارة الفاسدة"3/306:

  ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد۔ 

القرآن الکریم:{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2]

" رد المحتار": 9/553:

لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علی صاحبہ۔

"قواعد الفقہ، القواعد الفقھیۃ / 115) :

فیتصدق بلا نیۃ ثواب

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

10/رجب      1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب