03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا ویڈیو گیم کے لیے نظارے بنانا جایز ہے؟
82743جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میں خوبصورت نظارے بنا کر پیسے کما لیتا ہوں، کیا اگر مجھ سے اگر پیسے دے کر ویڈیو گیم کے نظارے بن واے جس میں حرام چیزوں کا اندیشہ ہے، جیسے گانا، شکلیں وغیرہ، تو کیا میرے لیے اس کے نظارے بنانا حلال ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مباح یعنی جائز چیزوں پر مشتمل گیمنگ سافٹ ویئرز ڈویلپمنٹ کرنا ،ان کو خدمات (support) فراہم کرنا جائز ہے،جیسے درخت پھول وغیرہ کے نظارے بنانا درست ہے۔

اگر ڈیجیٹل صورت انسان کے مکمل مشابہ نہ ہو ، اس کی آنکھیں کان ناک وغیرہ پوری طرح انسانی ساخت پر نہ بنائے جائیں ، دیکھنے سے ہی معلوم ہو جائے کہ یہ حقیقی انسانی ساخت کا عکس نہیں ہے بلکہ ایک تقریبی خاکہ ہے ، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

 اسی طرح کسی شرعی مقصد کے پیش نظر ،مثلا: عامۃ المسلمین کے دین وایمان  یا جان  ومال کی حفاظت کے لیے یا کسی اورجائز مقصد، مثلا :تعلیم وتربیت کے لیے واضح تصویر یا کارٹون پر مشتمل ویڈیو بنانے کی بھی گنجائش ہے، البتہ ایسےگیمنگ سافٹ ویئرز ،جو غیر شرعی امور پر مبنی ہوں،جیسےفحش تصاویر،میوزک وغیرہ، کی خرید وفروخت یا ان کی ڈیولپمنٹ کرنا یا ان کوخدمات(support)فراہم کرنا جائز نہیں ہے،اگر کسی نے ایسا کرلیاہوتو ملنے والی اجرت میں سے اس ناجائز کام کے بقدر مال صدقہ کرنا لازم ہے۔

 ویڈیوز میں میوزک کی جگہ ایکوساؤنڈ سسٹم کے ذریعہ گونج اور مختلف آوازیں پیدا کی جاسکتی ہیں، بشرطیکہ وہ بالکل موسیقی کی آوازوں کی طرح نہ ہوں، بلکہ اتنی مختلف ہوں کہ سننے والے کو بھی سمجھ آجائے کہ یہ میوزک نہیں۔ میوزک یا میوزک کی طرح واضح آوازیں شامل کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (3/ 82):

حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب حدثنا يزيد بن زريع أخبرنا عوف عن سعيد بن أبي الحسن قال كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما إذ أتاه رجل فقال يا أبا عباس إني إنسان إنما معيشتي من صنعة يدي وإني أصنع هذه التصاوير فقال ابن عباس لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول، سمعته يقول: من صور صورة، فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا. فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه، فقال: ويحك! إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح.

شرح معاني الآثار - الطحاوي (4/ 287):

عن أبي هريرة رضي الله تعالیٰ عنه قال : الصورة الرأس، فكل شيء ليس له رأس، فليس بصورة.

السنن الكبرى للبيهقي (7/ 270):

عن عكرمة عن ابن عباس رضى الله عنهما قال: الصورة الرأس، فإذا قطع الرأس، فليس بصورة.

فقه البیوع (1/193):

وإن لم یکن محرکًا وداعیًا، بل موصلًا محضًا، وهو مع ذلك سبب قریب بحیث لایحتاج في إقامة المعصیة به إلی إحداث صنعة من الفاعل، کبیع السلاح من أهل الفتنة، وبیع الأمرد ممن یعصي به، وإجارة البیت ممن یبیع فیه الخمر أو یتخذها کنیسة أو بیت نار وأمثالها، فکله مکروه تحریما، بشرط أن یعلم به البائع والآجر، من دون تصریح به باللسان؛ فإنه إن لم یعلم کان معذورًا، وإن علم وصرح کان داخلًا في الإعانة المحرمة. وإن کان سببًا بعیدًا بحیث لایفضي إلی المعصیة علی حالتها الموجودة، بل یحتاج إلی إحداث صنعة فیه، کبیع الحدید من أهل الفتنة وأمثالها، فتکره تنزیهًا

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

11/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب