| 86574 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم کل چھ بہن بھائی ہیں. تین بھائی اور تین بہنیں. ہماری والدہ محترمہ حیات ہیں جبکہ ہمارے والد صاحب رحمہ اللہ وفات پا چکے ہیں. اب ان کے بعد ہمارے درمیان ان کی وراثت کی تقسیم بارے میں رہنمائی درکار ہے. ہماری کل جائداد میں زرعی زمین ، ایک کمرشل پلازہ ، دو الگ الگ کاروبار اور دیگر ساز و سامان شامل ہے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے.
مال تجارت و دیگر ساز و سامان وغیرہ کی تفصیل
|
|
اشیاء |
مالیت |
|
1 |
پولٹری سپلائی کاروبار کی دو گاڑیاں |
4500000 |
|
2 |
پولٹری سپلائی کاروبار میں کسٹمرز کی طرف ہمارا قرض |
3700000 |
|
3 |
پولٹری سپلائی کے ایک ملازم جمیل کی طرف ہمارا قرض |
160000 |
|
4 |
الیکٹرونکس شاپ کا کل سامان تجارت |
5000000 |
|
5 |
رفاقت نامی شخص کی طرف ہمارا قرض جو اسے ادھار دیا تھا |
300000 |
|
6 |
گھر کی کار |
3100000 |
|
7 |
موجودہ نقدی |
500000 |
|
8 |
رکشہ |
85000 |
|
9 |
3 موٹر سائیکلیں |
80000 |
|
10 |
مویشی |
755000 |
|
کل رقم |
18180000 |
|
زمین وغیرہ کی تفصیل
|
|
تفصیل |
پیمائش |
مالیت |
|
1 |
دیوثانی گاؤں میں زرعی زمین |
2 ایکڑ |
10000000 |
|
2 |
ہڈیارہ والی زرعی زمین |
4,6 کنال |
6700000 |
|
3 |
پلازہ |
تین مرلہ، تین مزلہ |
30000000 |
|
کل رقم |
46700000 |
||
مکمل تفصیل لکھنے کے بعد کچھ اہم امور میں معزز مفتیان کرام کی رہنمائی درکار ہوگی۔
1۔وفات پانے سے تقریبا دو ماہ قبل ہمارے والد صاحب رحمہ اللہ نے ایک دن زبانی طور پر وراثت کی تقسیم کی تھی جس کے مطابق مذکورہ بالا زمین( دو ایکڑ دیوثانی گاؤں ، 6 کنال ہڈیارہ اور کمرشل پلازہ) کا اس وقت کی قیمت کا حساب لگا کر فرمایا کہ اگر تینوں بھائی یہ زمین رکھنا چاہتے ہیں تو مبلغ 45 ، 45 لاکھ روپے ہر ایک بہن کو ادا کر دیں، لیکن اس تقسیم میں انہوں نے نہ تو دیگر مال تجارت ، ساز و سامان و نقدی وغیرہ کو شامل فرمایا تھا اور نہ والدہ محترمہ کے حصے سے متعلق کوئی بات فرمائی تھی ۔ تو کیا اب ہم اس زمین کو اسی تقسیم کے اعتبار سے تقسیم کریں یا اس کا ازسر نو حساب لگا کر تقسیم کر نا ضروری ہوگا۔ نیز ہم اس زمین کو ہی وراثت سمجھیں یا اب والد صاحب کی وفات کے بعد دیگر مال تجارت ،نقدی و ساز سامان وغیرہ بھی وراثت میں شامل ہوگا؟
2۔ہمارے والد صاحب رحمہ اللہ نے 2011 میں کاروبار کی نگرانی میرے سب سے بڑے بھائی محمد افضل کو سونپ دی تھی اور سب سے چھوٹا بھائی محمد رضوان ان کے ساتھ کام کے سنبھالنے میں معاونت کرتا تھا . یہاں اس بات کی وضاحت درکار ہوگی کہ کیا انہیں اس اضافی محنت کے نتیجے میں دیگر بہن بھائیوں سے زیادہ حصہ ملے گا یا سبھی کے برابرملے گا؟
ہمیں آپ ہی کے دار الافتاء کے ایک مفتی صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ کاروبار سنبھالنے والے کو اجرت کے طور پر کچھ اضافی دیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ہم بھائیوں نے والدہ محترمہ کے ساتھ بیٹھ کر یہ طے کیا کہ 21 مرلہ جگہ ( جس کی تفصیل آگے موجود ہے) میں سے بڑے بھائی جان کے حصہ میں موجود جگہ پر جو ڈبل سٹوری مکان موجود ہے،اسے اجرت کے طور پر بڑے بھائی جان کو دے دیا جائے اور چھوٹے بھائی کو کل سرمائے سے مبلغ 20 لاکھ روپے ادا کر دئیے جائیں ۔ تو کیا ایسا کرنا درست ہے ۔؟
3۔مذکورہ وراثت کے علاوہ ہمارے پاس 21 مرلہ جگہ اور بھی ہے جو والد صاحب نے خرید کر ( اس کی قیمت بھی بڑے بھائی محمد افضل نے کاروبار ہی سے ادا کی تھی) ہم تینوں بھائیوں کے نام کروا دی تھی۔ اور اسکے نام کروانے کی وجہ، اسے ہم تینوں بھائیوں کے لئے مختص کر دینا تھا۔ اس جگہ کے تین حصوں میں تقسیم ہوجانے کے بعد اسکے ایک حصے میں گھر تعمیر کر کے ہم نے مشترک طور پر رہائش رکھی ہوئی تھی جو آج بھی موجود ہے۔ اس رہائشی جگہ اور اس تعمیر شدہ مکان سے متعلق اب دو سوالات ہیں ۔
١: پہلا یہ کہ یہ جو جگہ ہمارے والد صاحب رحمہ اللہ نے ہم تینوں بھائیوں کے باقاعدہ نام کروا دی تھی تو اس کا حکم کیا ہوگا کیا یہ اب ہم تینوں بھائیوں ہی کے پاس رہے گی یا اس میں بھی کسی اور کا کوئی حصہ ہوگا۔؟
۲: دوسرا اس کے ایک حصے میں جو گھر مشترک مال سے تعمیر کیا گیا تھا، اس کا کیا حکم ہوگا۔ ؟ کیا ہم بہن بھائی اس تعمیر کو اپنے بڑے بھائی کے لئے کاروبار سنبھالنے کی اجرت کے طور پر چھوڑ سکتے ہیں ۔؟
4۔ مذکورہ بالا 21 مرلہ کے ساتھ ایک پلاٹ 10 مرلہ کا اور بھی ہے۔ اسے بھی والد صاحب نے خرید کر ہمارے بڑے بھائی جان کے نام کروا دیا تھا، میری والدہ محترمہ، بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی تینوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم اس پر گواہ ہیں کہ اسے والد صاحب نے صرف تینوں بھائیوں کو ہی دینے کی نیت سے خریدا تھا اور اسی لئے بڑے بھائی کے نام کروا دیا تھا ۔ البتہ اس کی تقسیم کے حوالے سے والد صاحب رحمہ اللہ نے تین الگ الگ باتیں فرمائی تھیں،
پہلی یہ کہ اسے بھی 21 مرلہ میں شامل کر کے تینوں بھائی دس دس مرلہ کے حساب سے تقسیم کر لیں ۔ ( اس کے باوجود کہ ان دونوں جگہوں کی ویلیو میں فرق ہے۔ )
دوسری یہ کہ یہ دس مرلہ پلاٹ بڑے بھائی جان ہی کو دے دیا جائے کہ "اس نے ساری زندگی کمایا ہے اور اسکی کئی بیٹیاں ہیں تو اس کے یہ کا م آجائے گا "۔
تیسری یہ کہ 21 مرلہ جگہ میں سے فرنٹ پر 5 مرلہ چھوٹے بھائی کو دے کر باقی( 16 مرلے) بڑے بھائی رکھ لیں اور دس مرلہ کا ا جو الگ پلاٹ ہے وہ درمیان والے بھائی کو دے دیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ
اس 21 مرلہ ( جسے والد صاحب رحمہ اللہ نے اپنی حیات ہی میں ہم تینوں بھائیوں میں باقاعدہ پیمائش کر کے تقسیم کر دیا تھا اور تینوں کے نام بھی کرا دیا تھا) اور دوسری دس مرلہ جگہ کو ہم آپس میں کس حساب سے تقسیم کریں ؟
5۔ یہاں ایک بات اور اہم ہے کہ کیا نمبر 4 میں بیان کردہ 10 مرلہ جگہ کو ہم ابو جان کے بیان نمبر 2 ( کہ اسے بڑے بھائی جان ہی کو دے دیا جائے کہ "اس نے ساری زندگی کمایا ہے اور اسکی کئی بیٹیاں ہیں تو اس کے یہ کا م آجائے گا "۔) کے مطابق بڑے بھائی جان کے لئے کاروبار کی اجرت کے طور پر چھوڑ سکتے ہیں۔؟ اور کیا ایسا کرنے پر انہیں مزید اجرت بھی دی جائے گی(جیسا کہ ہم تعمیر شدہ گھر کو انہیں اجرت کے طور پر دینے کی بات کر چکے ہیں۔؟) اگر نہیں تو کیا ہم بھائی جان کے حصے میں تعمیر شدہ گھر کی قیمت کو مشترک وراثتی مال میں شامل کریں گے۔؟ اگر شامل کریں گے تو اسکی موجودہ حیثیت کا اندازہ لگایا جائے گا یا اس لاگت کا کہ جو اسکی تعمیر کے وقت اس پر آئی تھی؟
6۔ جو دس مرلہ کا الگ پلاٹ ہے اس پر بھی مویشیوں کی ایک حویلی مشترک مال سے تعمیر کی گئی تھی۔ پوچھنا یہ ہے کہ یہ دس مرلہ کا پلاٹ اگر بھائیوں میں سے ( والد صاحب کے بھائیوں کے لئے مختص کرنے کی بنا پر) کسی بھائی کے حصہ میں آتا ہے تو کیا حویلی کی یہ تعمیر بھی اس کے حصہ میں آجائے گی یا اس تعمیر یا اس تعمیر کی لاگت کو مشترک وراثتی مال میں شامل کیا جائے گا۔؟ یہی سوال 21 مرلہ جگہ کے ان دو حصوں سے متعلق بھی ہے کہ جو درمیانے اور چھوٹے بھائی کے حصہ میں آ رہے ہیں کہ ان پر بھی چھوٹی موٹی تعمیرات موجود ہیں ۔
7۔ اس وقت گھر میں دو کاروبار ہیں ایک پولٹری سپلائی کا اور دوسرا الیکٹرونکس کا. بہت سا ادھار پولٹری سپلائی کے کاروبار سے منسلک ہے تو کیا ایسی صورت میں یہ ادھار سب پر تقسیم ہوگا یا اسی کے حصے میں آئے گا کہ جو اس کاروبار کو سنبھالے گا؟
8۔یہ وضاحت بھی فرمائی جائے کہ وراثت کی تقسیم کے وقت کیا فوری طور پر ہر ایک کو اس کا حصہ دینا ضروری ہوگا یا اس میں تاخیر ہوسکتی ہے، اور اگر تاخیر ہوسکتی ہے تو وقت کے ساتھ کرنسی کی ویلیو کی کمی کو کیسے پورا کیا جا سکتا ہے.؟
9۔ ہم نے اپنی دو بھابیوں ( بڑے اور چھوٹے بھائی کی اہلیہ ) سے ان کا زیور لے کر گھر کی ضروریات میں استعمال کر لیا تھا ۔ تو کیا اب انہیں مشترک وراثتی مال میں سے وہ لوٹا یا جائے گا۔؟ اور کیا زیور لوٹایا جائے گا یا وہ قیمت کہ لیتے وقت اس زیور کی تھی؟
10: کیا مذکورہ بالا وراثت میں سے زمین اور دیگر ساز و سامان ( جنہیں استفتاء کے شروع میں الگ الگ بیان کر دیا گیا ہے) کو الگ الگ تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں تو ازراہِ مہربانی اسے الگ الگ تقسیم کیجیے تاکہ ہمیں اسکی تقسیم اور سمجھنے میں آسانی ہو سکے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔آپ کےوالد صاحب نے جو زبانی طور پر تقسیم فرمائی تھی، اس کی حیثیت وارث کےلئے وصیت کی ہے اوروارث کےلیے وصیت شرعا جائزنہیں ہوتی،لہذا مذکوروصیت اصولاً درست نہیں ہے،البتہ اگرسب ورثہ عاقل بالغ ہوں اورسب اپنی دلی رضامندی سے والد صاحب کی مذکورہ وصیت نافذ کرنا چاہتے ہوں توپھراس کے نافذ کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
زمین سمیت آپ کی والد صاحب کی چھوڑی ہوئی جملہ اشیاء وراثت میں شامل ہوں گی،جس میں آپ کی والدہ سمیت تمام ورثاء کا حق ہوگا،جس کی تفصیل آخری جواب میں آرہی ہے۔
۲۔مذکورمفتی صاحب کا یہ فرمانا کہ کاروبار سنبھالنے والےاورمعاونت کرنے والے کو اجرت کے طور پر کچھ اضافی دیا جا سکتا ہےدرست ہے،لہذا آپ کاباہمی رضامندی سے طے کردہ فیصلہ درست اور مبنی بر انصاف ہے۔
۳۔
١۔اگرواقعةًآپ کے والد نے یہ 21 مرلہ زمین خرید کر آپ تینوں بھائیوں کے نام کروائی تھی، اورتقسیم کرکے آپ کو ان پر قبضہ کروادیاتھا تو یہ زمین آپ تینوں بھائیوں کی ملکیت شمار ہوگی اور دیگر ورثاء (بہنوں یا والدہ) کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔اگرچہ والد صاحب کا بیٹیوں کوچھوڑکرصرف بیٹوں کو دینا اچھاعمل نہیں تھا،کیونکہ یہ گفٹ تھاجس میں راجح قول کےمطابق اولاد میں برابری کرنا ضرور ہے۔تاہم پھربھی مذکوہ عمل سے 21 مرلہ زمین میراث سے خارج ہوکرمذکورہ بیٹوں ملکیت میں آگئی ہے۔
۲۔ جب اس مکان کی تعمیرمشترکہ مال سے ہوئی ہے جیسے کہ آپ نے لکھا تو یہ تمام ورثہ کی مشترکہ ملکیت ہوگی، اور ہر شریک کواس میں اپنے سرمایہ کے مطابق حصہ ملے گا۔
اگر تمام بہن بھائی باہمی رضامندی سےبغیر کسی جبر اوردباؤ کے اس تعمیر شدہ مکان کو بڑے بھائی کے لیے کاروبار سنبھالنے کی اجرت کے طور پر دینے پر متفق ہوں تو یہ جائز ہوگا۔
۴21 مرلہ کا حکم تو سابقہ جواب نمبر تین میں گزر چکا ہے۔ جہاں تک مذکورہ 10 مرلہ پلاٹ کا تعلق ہے،تو اس کے بارے میں تویہ یقین ہےکہ یہ مرحرم کی ملکیت تھی لیکن آگےجب مرحوم نےمختلف باتیں ارشادفرمائی ہےاورکسی ایک کی تعیین نہیں فرمائی اورباقاعدہ اس پر عمل پیرانہیں ہوئےتواصولاتو یہ ترکہ میں شامل ہوگا،تاہم پھربھی مشورہ یہ ہے کہ تمام ورثہ بیٹھ کر باہمی رضامندی سے والد صاحب کی نیت کے قریب ترین حل نکالیں اورکسی ایک بات پر اتفاق کرلیں، اگر کوئی متفقہ فیصلہ ممکن نہ ہو سکےاوراس پر سب راضی ہوں کہ بڑے بھائی کواجرت کے طورپر دیاجائےتو ایسابھی کرسکتے ہیں اوراگراس پربھی اتفاق نہ ہوسکے تو پھر اس پلاٹ کو ترکہ میں شمار کر کے شریعت کے مطابق تقسیم کیا جائے۔
۵۔بھائی جان ہی کو دے دیا جائے کہ اس نے ساری زندگی کمایا ہے اور اس کی کئی بیٹیاں ہیں تو یہ اس کے کام آئے گا") کے مطابق بڑے بھائی جان کے لیے کاروبار کی اجرت کے طور پر دیا جائے، تو شرعاً ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ تمام ورثہ باہمی رضا مندی سےیہ فیصلہ کریں ۔
رہی یہ بات کہ اس صورت میں انہیں مزید اجرت بھی دی جائے گی؟تو اس کاجواب یہ ہے کہ اگر ان کی اجرت دس مرلہ جگہ سے پوری ہورہی ہو تو انہیں مزید اجرت دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم، اگر ان کی اجرت اس سے زیادہ بنتی ہے، تو پھر کچھ اور انہیں دینا ہوگاتاکہ ان کی اجرت پوری ہوجائےجس میں تعمیر شدہ مکان بھی استعمال کیاجاسکتاہے۔
تعمیر شدہ مکان بھائی کواجرت کے طورپر دیناہویا ترکہ میں میں شامل کرناہوبہرصورت اس کی موجودہ مارکیٹ ریٹ کااعتبارہوگا۔
٦۔مشترکہ مال سے ہونے والی تمام تعمیرات کی موجودہ قیمت کا اندازہ لگا کر انہیں وراثتی مال میں شامل کرنا ضروری ہوگا، تاکہ تمام ورثہ کے حقوق برابر رہیں۔ جو بھائی وہ زمین اور تعمیرات اپنے حصہ میں لیتا ہے، اسے باقی ورثہ کے حصے کے برابر رقم ادا کرنی ہوگی، یا وراثتی مال کی تقسیم میں اس کے حصہ کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
۷۔ چونکہ پولٹری سپلائی اورالیکٹرونکس کاکاروبار والد صاحب کے ترکہ کا حصہ ہے اور اس کاروبار سے منسلک ادھار اسی کاروبار کے تحت لیا گیا تھا، لہذا یہ کاروبار اور اس سے متعلقہ ادھار وراثتی مال میں شامل ہوگا،اوروالدپر قرض سمجھاجائےگا،لہذاتقسیم سے پہلےیہ ادھار پورے ترکہ سے اتاراجائے گا اورپھرترکہ تقسیم کیاجائےگا۔
۸۔واضح رہے کہ میراث کی تقسیم میں حتی الامکان جلدی کرنی چاہیے،بغیر کسی سخت مجبوری کے تاخیر کرنا درست نہیں،اس لیے کہ اگر بر وقت میراث کی تقسیم نہ کی جائے تو آگے چل کر بہت سے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں،تقسیم کے بعدہرایک کو اپناحصہ فوری دیناضروری ہے۔
اگرکسی مجبوری سےتقسیم کے بعدمتعلقہ وارث کو اس کا حصہ دینےمیں تاخیرہورہی ہوتواگروہ کوئی جائیداد یا کاروباریعنی عین کی شکل میں ہوتووقت کے ساتھ اس کی قیمت بھی بڑے گی،اور اگروہ حصہ نقدیعنی کرنسی کی شکل میں ہو تو کرنسی کی ویلیو کی کمی کوپورانہیں کیاجائےگاورنہ سود بنےگا ۔
اگروارث کاحصہ جائیداد یا کاروبار کی شکل میں ہواورمتعلقہ وارث نےاسےکسی دوسرے وارث کو فروخت کردیاہواوراس کی قیمت ادھارہوتو اس کی تاخیر کی صورت میں کرنسی کی قدر میں جوکمی ہوگی اسےبھی پورانہیں کیاجائے گا۔
۹۔جی ہاں! انہیں مشترک وراثتی مال سے اتنی ہی وزن اور کیرٹ کا زیور لوٹایا جائے گا، ہاں اگر بھابیاں قیمت لینے پر راضی ہو جائیں تو انہیں ان کے زیورات کی موجودہ قیمت بھی دی جا سکتی ہے۔
١۰۔تقسیم الگ الگ کرنی ہو یا اکٹھی، طریقہ ایک ہی ہے ،اکٹھی کرنی تو سب کی قیمت لگا کر ایک ساتھ تقسیم کی جائے اورالگ الگ کرنی ہوتو ہر ایک کی الگ الگ قیمت لگا کر اسی نسبت سے تقسیم کی جائے۔ تقسیم کا طریقہ درج ذیل ہے:
آپ کے والد نے بوقتِ وفات جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و دولت چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، جس سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات، قرض اور وصیت کی علی الترتیب ادائیگی کی جائے گی،اس کے بعد جو بھی ترکہ بچے گا، وہ مرحوم کے ورثہ میں تقسیم ہوگا۔ اگر مرحوم کے انتقال کے وقت صرف وہی لوگ ہوں جو سوال میں مذکور ہیں، تو مذکورہ حقوق کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے ترکہ میں سے مرحوم کی بیوی کو% 12.5، ہر بیٹے کو% 19.444،اور ہر بیٹی کو %9.722 دیا جائے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (90/6):
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."
الدرالمختار وحاشیہ ابن عابدین:
"(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته."(کتاب الوصایا، ج: صفحہ: 655 و656، ط: ایچ، ایم، سعید)
وفی تکملہ فتح الملہم:
إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند ۲/)
"الأشباه والنظائر " (ص: 230):
"استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له".
المحيط البرهاني لمحمود النجاري - (ج 6 / ص 668)
والإرث إنما يجري فيما يبقى بعد الموت.
خلاصۃ الفتاوی( ج4، ص)
ولو وھب جمیع مالہ لابنہ جاز فی القضاء وھواثم.
صحيح مسلم - عبد الباقي (3/ 1242)
عن النعمان بن بشير قال * تصدق علي أبي ببعض ماله فقالت أمي عمرة بنت رواحة لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلق أبي إلى النبي صلى الله عليه وسلم ليشهده على صدقتي فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم أفعلت هذا بولدك كلهم قال لا قال اتقوا الله واعدلوا في أولادكم فرجع أبي فرد تلك الصدقة.
وفی خلاصة الفتاوی ج: 4ص: 400
رجل لہ ابن وبنت اراد ان یھب لھما فالافضل ان یجعل للذکرمثل حظ الانثیین عندمحمد وعند ابی یوسف رحمہ اللہ بینھماسواء ھو المختارلورود الآثار.
الفتاوى الهندية (4/ 391)
(الباب السادس في الهبة للصغير) ۔۔۔۔۔رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان. وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية، كذا في خزانة المفتين.
البناية شرح الهداية (1/ 461): اليقين لا يزول بالشك.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 104)
ثم لما احتمل المعنيين جميعا والملك لذي اليد فيها يقينا فلا نزيله بالشك.
المبسوط للسرخسي (13/ 53): وبالشك لا يثبت الحق للغير.
الأشباه والنظائر (ص: 230):
استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له.
فتاوی شامی :
أما إذا غلت قيمتها أو انتقضت فالبيع على حاله ولا يتخير المشتري، ويطالب بالنقد بذلك العيار الذي كان وقت البيع كذا في فتح القدير. (کتاب البیوع،مطلب مھم فی احکام النقود،ج:4،ص:533،ط:سعید)
وفی تکملہ فتح الملہم:
إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند ۲/)
وفی الشامیة :
أما إذا غلت قيمتها أو انتقضت فالبيع على حاله ولا يتخير المشتري، ويطالب بالنقد بذلك العيار الذي كان وقت البيع كذا في فتح القدير. ( مطلب مھم فی احکام النقود،ج:4،ص:533،ط:سعید)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 760)
(ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد)..... ثم) تقدم (وصيته) .. (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه.... (ثم) .... (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته).
وفى حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 760)
(قوله ويقدم دين الصحة) هو ما كان ثابتا بالبينة مطلقا أو بالإقرار في حال الصحة ط.
قال في واقعات المفتیین:
مات وترک امرأة بہا حبل، فإن کانت الولادة قریبة ینتظر لتقع القسمة عن علم، وإن لم تکن قریبة ینتظر لأن في ذلک تأخیرًا (واقعات المفتیین: ۲۲۶)
فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 155)
لو غلت قيمتها وازدادت فالبيع على حاله ولا يتخير المشتري ويطالب بالنقد بذلك العيار الذي كان وقت البيع.
فتاوی شامی:
"فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا".(باب الربا،مطلب في استقراض الدراھم عددا،177/5،ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها...قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها...الخ."( کتاب الرهن، فصل في مسائل متفرقة،6/525، ط: سعید)
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 224)
إذا غلت، أو رخصت كان عليه رد المثل بالاتفاق كذا في النهاية.
قال في كنز الدقائق :
يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ... (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ......... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12, 11]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
22/7/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


