03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم سے پہلےوفات پانے والی اولاد کاحصہ میراث
82726میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

جناب مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ   محمد  علی جوکہ میرا بھائی ہے ، اس کی دماغی   کیفیت درست نہیں رہتی ، مستقل دماغی  دوائیاں استعمال کرتا ہے ۔

مجھے اور میرے  بھائی  کو  اپنی والدہ  کی طرف سے  میراث میں ایک  مکان ملا ،ہمارے دو بھائی  والدہ کی زندگی میں   انتقال کرگئے  تھے ،ان کی اولاد زندہ  ہیں ، والدہ  کے  انتقال کےوقت  ہم دو ہی  بہن بھائی  زندہ تھے،   شریعت کی رو سے   ہم دونوں  بہن بھائی اپنی   والدہ کی میراث   کے حق دار قرار پائے ،  اس لئے ہم دونوں نے اس  مکان  کو  تقسیم کرلیا ، چونکہ بھائی  کا دماغی توازن خراب رہتا ہے ، اس لئے  میراث میں  اس کو  ملنے والے  حصہ کے مال  سے ،  میں   نےاپنے نام  اس کے لئے مکان خریدا ،اس کی آمدن سے  اس کی کفالت کرتی ہوں ، میں  میرا شوہر  اور بچے ،اس بھائی کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں  ۔ہمارے دو مرحوم  بھائی   جو والدہ   کی زندگی میں انتقال  کرگئےتھے ،ان میں  سے ایک کی  اولاد   کا مطالبہ  ہے  کہ دادی  کی میراث  میں سے  ہمیں   حصہ دیاجائے ،اب سوال  یہ ہے کہ   کیا ہماری  والدہ  کی  میراث میں  مرحوم   بھائی  کی اولاد کاحصہ  بنتا ہے ،جبکہ  ہم نے  جامعة  الرشید سے   فتوی لیکر   اس کے مطابق   میراث کے مال کو تقسیم کیاہے ِ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح  ہوکہ  میراث  اس مال کو کہا جاتا ہے  جو مرحوم  کے انتقال کے وقت  اس  کی  ملک میں  موجود  ہو ، اور میراث  کےحقدار صرف  وہ  ورثاء  ہیں   جو  مرحوم   کے  انتقال  کے  وقت  زندہ  ہوں ۔

چونکہ آپ کے دونوں  مرحوم بھائی اپنی والدہ  کی زندگی میں وفات پاچکے ہیں  ،اس لئے  ان کو  اپنی والدہ   کی میراث سے  حصہ نہیں  ملا ۔ ہمارے  جامعة  الرشید  کا   سابقہ فتوی   آپ کے پہلے سوال کی  تحریر کے مطابق  ہے ،اور صحیح  ہے ۔لہذا    سوال کی موجودہ   تحریر کے مطابق   بھی مسئلہ کا  حکم  یہی ہے  کہ  آپ کے  مرحوم  بھائی کی اولاد کا اپنی دادی  کی میراث سے حصہ  مانگنا  اور اس پر  لڑائی  جھگڑےکرنا  شرعا  ناجائز  ہے ،اس لئے لڑائی سے  اجتناب لازم ہے ،ان کو شرعی  مسئلہ  سمجھا دیاجائے ،البتہ اگر وہ بھتیجے  محتاج،  ضرورت مند ہیں،  تو آپ کوحسب توفیق    ذاتی طورپران کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے ۔

حوالہ جات

{لرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (7) وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا (8) } [النساء: 7 - 9]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 769)

" بيانه أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث،

صحيح البخاري ـ م م (8/ 150)

عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر

موطأ مالك لمالك بن أنس (3/ 720)

فإن اجتمع الولد للصلب وولد الابن وكان في الولد للصلب ذكر فإنه لا ميراث معه لأحد من ولد الابن فإن لم يكن في الولد للصلب ذكر وكانتا ابنتين فأكثر من ذلك من البنات للصلب فإنه لا ميراث لبنات الابن معهن إلا أن يكون مع بنات الابن ذكرالخ۔         

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

       دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

١۲ رجب  ١۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب