03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عمرہ میں ماہواری کا مسئلہ
82815حج کے احکام ومسائلعمرہ کے مسائل

سوال

عمرہ میں ماہواری درپیش ہوتو کیا حکم ہے؟نیز اس کے لیے دوائی استعمال کرسکتے ہیں ؟کبھی ضرورت پیش آجاتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عمرہ میں ماہواری سے بچنے کےلیے دوائی استعمال کی جاسکتی ہے،اس سے حیض کا خون آنا رُک جائے، تو خاتون پاک شمار ہوگی،مکمل عمرہ کرسکتی ہے، اور اگر دوا کے استعمال کے باوجود حیض کا خون آرہا ہو، تو عمرہ کے لیے جانے کا طریقہ یہ ہے کہ خاتون غسل کرکے احرام کی نیت سے تلبیہ پڑھ لے، اور یہ تلبیہ میقات سے پہلے پڑھنا ضروری ہے، اُس کے بعد مکہ مکرمہ میں پاک ہونے کا انتظار کرے، جب پاکی حاصل ہوجائے تو دوبارہ غسل کرکے عمرہ ادا کرے،البتہ اگر حیض کا دورانیہ اتنا زیادہ ہوجائے کہ واپسی کی فلائٹ کا وقت آجائے، تو مجبوری کی وجہ سے حالتِ حیض  میں بھی عمرہ کرنے کی گنجائش ہے، تاہم حدودِ حرم میں ایک دَم(چھوٹا جانور  یا بڑے جانور کا ساتواں حصہ) دینا ضروری ہے، اگر وہ پاک ہوگئی اور طواف لوٹانے کا موقع مل گیا تو یہ دم ذمہ سے ختم ہوجائے گا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/222):

"وإذا أراد الإحرام، اغتسل أو توضأ، والغسل أفضل، إلا أن هذا الغسل للتنظيف، حتى تؤمر به الحائض، كذا في الهداية."

الفتاوى الهندية (1/38):

"يحرم عليهما [الحائض والنفساء] وعلى الجنب الدخول في المسجد، سواء كان للجلوس أو للعبور، هكذا في منية المصلي. وفي التهذيب: لا تدخل الحائض مسجدا لجماعة وفي الحجة، إلا إذا كان في المسجد ماء ... حرمة الطواف لهما بالبيت، وإن طافتا خارج المسجد، هكذا في الكفاية."

رد المحتار (8/316):

"[تنبيه] نقل بعض المحشين عن منسك ابن أمير حاج: لو هم الركب على القفول ولم تطهرفاستفتت هل تطوف أم لا؟ قالوا: يقال لها: لا يحل لك دخول المسجد، وإن دخلت وطفت، أثمت، وصح طوافك، وعليك ذبح بدنة، وهذه مسألة كثيرة الوقوع يتحير فيها النساء."

غنیۃ الناسک (ص: 276 ):

ولو طاف للعمرة كله أو أكثره أو أقله ، ولو شوطا جنبا ، أو حائضا ، أو نفساء، أو محدثا، فعليه شاة ..... ولو أعاده سقط عنه الدم۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

18/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب