03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیماری کی حالت میں تیمم
82816پاکی کے مسائلتیمم کا بیان

سوال

بیماری کی حالت میں تیمم کرسکتے ہیں؟اگر پانی استعمال کریں تو ممکن ہے کہ بیماری میں اضافہ ہو،اس لیے فقط تیمم کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں؟پھر اس کے بعد تلاوت وغیرہ بھی کرسکتےہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب انسان پانی پر قادر نہ ہو، پانی کے استعمال سے جان جانے یا اپنے غالب گمان یاکسی ماہر طبیب کے بقول بیماری  بڑھنے کا اندیشہ ہوتو تیمم کرنا جائز ہے، اگر بیماری میں گرم پانی کے استعمال سے کوئی نقصان نہ ہو تو  گرم پانی   سے وضوکرنا ضروری ہوگا،تیمم کی اجازت نہیں ۔تیمم درست ہوتو پھر اس سےنماز کے ساتھ تلاوت بھی کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

وفي الفتاوی الھندیۃ(الفتاوی الھندیۃ:1/28):

 وإذا خاف المحدث إن توضأ أن يقتله البرد أو يمرضه يتيمم. هكذا في الكافي واختاره في الأسرار لكن الأصح عدم جوازه إجماعا كذا في النهر الفائق والصحيح أنه لا يباح له التيمم. كذا في الخلاصة وفتاوى قاضي خان.ولو كان يجد الماء إلا أنه مريض يخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو أبطأ برؤه يتيمم.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

18/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب