03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایلفی لگی ہوتو وضو اور نماز کاحکم
82817پاکی کے مسائلوضوء کے فرائض

سوال

کچھ کام کیاتھا،جس کی وجہ ہاتھ  پر ایلفی لگی تھی،اس وقت تو معلوم نہ ہوسکا،بعد میں تقریباتین چار نمازوں کے بعدمعلوم ہوا کہ ہاتھ پر ایلفی لگی ہوئی ہے۔اب ایسی صورت میں وضو اور غسل کا کیا حکم ہوگا،جو نمازیں پڑھی گئی ہیں،ان کے بارے میں بھی وضاحت کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہاتھ کو وضواورغسل میں دھوناضروری  ہوتاہے،ایلفی لگنے سے ہاتھ کی جلد تک پانی نہیں پہنچا ہے،لہذااگر پہلے سے وضو تھا اس میں نمازیں پڑھی گئی ہیں،وہ درست ہوگئی ہیں،البتہ ایلفی لگنے کے بعد اگر وضو یا غسل کی ضرورت پیش آئی ہے،اوراس ایلفی کو چھڑانا مشکل نہ تھا،پھر بھی چھڑانے کی کوشش کیے بغیر وضو یا غسل کیا تھا تو وہ نمازیں نہیں ہوئی ہیں،ایلفی زائل کرکے وضو اور غسل کیاجائے،پھران نمازوں کااعادہ کیاجائے۔

حوالہ جات

وفی مراقي الفلاح (1 / 33):

( وشرط صحته ) أي الوضوء ( ثلاثة ) الأول ( عموم البشرة بالماء الطهور ) حتى لو بقي مقدار مغرز إبرة لم يصبه الماء من المفروض غسله لم يصح الوضوء ۔

فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1 / 39):

ولو لصق بأصل ظفره طين يابس وبقي قدر رأس إبرة من موضع الغسل لم يجز.

الفقه على المذاهب الأربعة(1/93 ) :

 “واتفقوا على ازالة كل حائل يمنع وصول الماء الى ماتحته كعجين وشمع وعماص في عينه الا أن الحنفية قد اغتفروا للصناع ما يلصق برؤوس اناملهم تخت الأ ظافر إذا كان يتعذر عليهم ازالته دفعا للحرج “

الفتاوى الهندية (1/ 4):

وفي الجامع الصغير سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لا يستطاع الامتناع عنه إلا بحرج والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلا عن الجامع الأصغر

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

18/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب