| 82890 | ذبح اور ذبیحہ کے احکام | ذبائح کے متفرق مسائل |
سوال
کوئی رافضی قصائی ہو وہ اگر جانور ذبح کرے تو اس جانور کے گوشت استعمال کرنے کا کیا حکم ہوگا آیاجائز ہے یاناجائز وضاحت سے بیان کریں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حلال جانور کا گوشت کھانا حلال ہونے کے لئے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو, لہذا سوال میں ذکرکردہ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ جو لوگ قرآن وسنت کے نصوص کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کو مکمل نہیں مانتے ،اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی لانے میں غلطی کے قائل ہیں ، امی عائشہ رضی اللہ عنہا پرجھوٹی تہمت باندھتے ہیں ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حلول کا عقیدہ رکھتے ہیں ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحا بیت کا انکار کرتے ہیں ،ایسے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ، ان لوگوں کا ذبیحہ حلال نہیں اور روافض میں سے دیگر لوگ تفضیلہ وغیرہ نام سے یاد کیےجاتے ہیں ،جو مذکورہ بالا کفریہ عقائد تو نہیں رکھتے لیکن ان کا عقیدہ بھی گمراہ کن ہیں ایسے لوگوں کے کفر کا فتوی نہیں دیا جاتا ،اس لئے ان کا ذبیحہ فی نفسہ حلال ہے ،تاہم ان گمراہ لوگوں کے ذبیحہ کھانے سے بھی احتیاط کرنا چاہئے ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 237)
نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 346)
ومن شرطه أن يكون الذابح صاحب ملة التوحيد إما اعتقادا كالمسلم أو دعوى كالكتابي، وأن يكون حلالا خارج الحرم على ما نبينه إن شاء الله تعالى.
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
١۸ رجب ١۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


