| 83046 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
میں پلاٹوں کے کاروبار سے وابستہ ہوں اور مختلف پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کرتا ہوں، میرا مختلف کاروباری لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور مختلف پراجیکٹس کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ بلڈرز حضرات اپنی سوسائٹیز کے لیے مختلف ذرائع اور طریقوں سے زمین حاصل کرتے ہیں، ان پراجیکٹس میں سے ایک پراجیکٹ نیا ناظم آباد کے نام سے بھی ہے جس میں میری طرح بہت سے لوگوں نے انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے، مجھے اب جا کر معلوم ہوا ہے کہ نیا ناظم آباد والوں کا اپنے پراجیکٹ کے لیے زمین حاصل کرنے کا طریقۂ کار یہ ہے کہ یہ لوگ جس جگہ ہاؤسنگ اسکیم یا کسی پراجیکٹ کا آغاز کرتے ہیں تو وہاں کی زمین لوگوں سے جبراً حاصل کرتے ہیں، اگر وہاں کوئی آبادی ہوتی ہے، گوٹھ ہوتا ہے یا کالونی ہوتی ہے تو وہاں کے مالکان اور باشندگان کو ڈرا دھمکا کر بندوق کی نوک پر اس گھر یا پلاٹ کی معمولی سی قیمت دے کر ان کو بے دخل کردیتے ہیں۔ چنانچہ نیا ناظم آباد پراجیکٹ کے لیے بے دخل کیے جانے والوں میں اکثریت بیواؤں، علماء، قراء اور سادات کی ہے، ان کے علاوہ متاثرین عموما مزدور پیشہ اور معاشی لحاظ سے کمزور لوگ ہیں۔ متاثرین کو پتا ہوتا ہے کہ اگر ہم مزاحمت کریں گے تو ہمارا گھر/ پلاٹ ہم سے چھین کر ہمیں بے دخل کردیا جائے گا اور جرائم پیشہ افراد کے ذریعے ہمیں نقصان پہنچایا جائے گا۔ سوسائٹی مالکان اپنے اس ہدف کے لیے بدمعاشوں، پولیس اور سرکاری مشنری کا بھرپور استعمال کرتے ہیں جس کو یہ لوگ سسٹم کا نام دیتے ہیں۔ اسی طریقے سے انہوں نے نیا ناظم آباد اور دیگر پراجیکٹس کے لیے زمین حاصل کی، مثلا عائشہ ویو نمبر 1، عائشہ ویو نمبر 2، شاہ گوٹھ، الجنت سوسائٹی اور تبلیغی مرکز کے آس پاس کے علاقے اسی طریقے سے حاصل کیے ہیں جس کی زد میں بہت سے نادار، بیواؤں، علمائے کرام، سادات اور مزدور طبقے کے مکانات اور پلاٹ آئے۔ یہاں کے باشندے انتہائی غریب تھے، انہوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی اور عورتوں کے زیورات بیچ کر یہ پلاٹ خریدے تھے یا گھر بنائے تھے۔
سوال یہ ہے کہ اس تناظر میں کیا سائل اور دیگر اشخاص کے لیے نیا ناظم آباد سوسائٹی سے پلاٹ/ مکان خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو پھر ہم ان کے ساتھ کاروباری تعلقات بحال رکھیں؟ اور اگر جائز نہیں تو اس ناجائز کام کے سد باب کے لیے ہمیں کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟ عوام کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ علمائے کرام کا کیا فرض بنتا ہے؟ حکومتِ وقت کو اس حوالے سے کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مفتی غیب نہیں جانتا، بلکہ وہ سوال کے مطابق جواب دیتا ہے، سوال کے درست یا غلط ہونے کی مکمل ذمہ داری سائل کی ہوتی ہے۔ نیز دار الافتاء کسی خاص فرد، ادارے اور سوسائٹی کے بارے میں فتویٰ نہیں دیتا، بلکہ صرف معاملے کا شرعی حکم بتاتا ہے، واقعے کی تحقیق دار الافتاء کا دائرۂ کار نہیں، عدالت کی ذمہ داری ہے۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ کسی سے اس کی زمین زبردستی لینا اسلام کی نظر میں بہت بڑا گناہ اور ظلم ہے، جس پر قرآن اور حدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو اس ظلم سے بچائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص ظلم اور ناجائز طریقے سے ایک بالشت زمین بھی کسی سے لے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالیں گے۔
اگر کسی سوسائٹی کے بارے میں یہ بات ثابت ہوجائے کہ وہ لوگوں سے جبراً زمینیں لیتی ہے تو حکومت، عدالت، پولیس اور دیگر تمام محکموں کی ذمہ داری ہے کہ اس کے مالکان کو اس ظلم کو روکیں، ان کو اپنے جرم کی سزا دیں اور مظلوموں کو ان کی زمینیں واپس کرادیں۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ حکومت کے علاوہ عوام اور علماء سمیت معاشرے کے ہر طبقے کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس ناجائز کام کو روکنے میں کردار ادا کریں اور اس کے خلاف آواز بلند کریں۔
جہاں تک ایسی سوسائٹی سے زمین خریدنے کا تعلق ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ:
(1)۔۔۔ اگر مکمل زمین جبراً حاصل کی گئی ہو تو ایسی سوسائٹی سے زمین لینا جائز نہیں۔ جبراً کا مطلب یہ ہے کہ اکراہِ تام یا ناقص پائی جائے، یعنی زمین خریدتے وقت ان زمینوں کے مالکان یا ان والدین، بچوں اور ذو رحم محرم رشتہ داروں کو جان سے مارنے، قید کرنے یا کوئی اور ناقابلِ برداشت نقصان پہنچانے یا اموال ضائع کرنے یا غصب کرنے کی دھمکی دے کر مجبور کیا گیا ہو، پھر ان سے عملاً زمین لیتے اور ان کو قیمت دیتے وقت بھی ایسی ہی دھمکی دی گئی ہو اور دھمکی دینے والے ان کو مذکورہ نقصانات پہنچانے پر قادر بھی تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے مجبوراً زمینیں بیچی ہوں اور قیمت وصول کی ہو۔
لیکن اگر مالکان سے ان کی زمینیں لیتے وقت یا ان کو قیمت دیتے وقت ایسی کوئی دھمکی نہیں دی گئی تھی، البتہ وہ اپنی زمینیں بیچنا نہیں چاہ رہے تھے، لیکن عمومی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے اختیار سے بیچ دی ہوں، یا زمین بیچتے وقت جبر تھا، لیکن زمین کی سپردگی اور قیمت کی وصولی کے وقت ایسی کوئی دھمکی نہیں تھی تو پھر اسے جبراً زمین لینا نہیں کہا جائے گا اور ایسی سوسائٹی کے ساتھ معاملات کی گنجائش ہوگی۔
اسی طرح اگر زمین بیچتے اور قیمت وصول کرتے وقت مالکان جبر کی حالت میں تھے، لیکن بعد میں اس خرید و فروخت پر راضی ہوگئے تو بھی اکراہ اور زبردستی کیا گیا وہ معاملہ درست ہوجائے گا اور اس کے بعد اس سوسائٹی کے ساتھ معاملات جائز ہوں گے۔
(2)۔۔۔ اگر کسی سوسائٹی کی کچھ زمین اپنی ہو اور کچھ لوگوں سے نمبر (1) میں ذکر کردہ طریقے سے حاصل کی گئی ہو تو ان کی اپنی زمین خریدنے کی گنجائش ہوگی، جبکہ لوگوں سے لی گئی زمینوں میں نمبر (1) میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
(3)۔۔۔ مذکورہ حکم اس وقت ہے جب سوسائٹی کی زمینیں ایسے لوگوں سے حاصل کی گئی ہوں جو شرعاً ان زمینوں کے مالک ہوں۔ لیکن اگر ان لوگوں نے خود ان زمینوں پر ناجائز قبضہ کیا ہو اور سوسائٹی کے مالکان نے یہ زمینیں ان کے اصل مالکان سے خریدی ہوں اور قابض لوگوں سے کسی بھی طریقے سے قبضہ چھڑایا ہو تو پھر یہ جبراً زمین لینا نہیں ہوگا اور ایسی سوسائٹی کے ساتھ معاملات بلاشبہہ جائز ہوں گے۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (3/ 1231):
عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين.
السنن الكبرى للبيهقي (6/ 30):
عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يركب البحر إلا حاج، أو معتمر، أو غاز في سبيل الله؛ فإن تحت البحر نارا، وتحت النار بحرا "، وقال: " لا يشتري من ذي ضغطة سلطان شيئا ".
الهداية (3/ 275):
كتاب الإكراه: قال: الإكراه يثبت حكمه إذا حصل ممن يقدر على إيقاع ما توعد به سلطانا كان أو لصا؛ لأن الإكراه اسم لفعل يفعله المرء بغيره، فينتفي به رضاه أو يفسد به اختياره مع بقاء أهليته، وهذا إنما يتحقق إذا خاف المكره تحقيق ما توعد به، وذلك إنما يكون من القادر، والسلطان وغيره سيان عند تحقق القدرة………. قال: وإذا أكره الرجل على بيع ماله أو على شراء سلعة أو على أن يقر لرجل بألف أو يؤاجر داره فأكره على ذلك بالقتل أو بالضرب الشديد أو بالحبس فباع او اشترى فهو بالخيار إن شاء أمضى البيع وإن شاء فسخه ورجع بالمبيع؛ لأن من شرط صحة هذه العقود التراضي، قال الله تعالى: { إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم }، والإكراه بهذه الأشياء يعدم الرضا، فيفسد، بخلاف ما إذا أكره بضرب سوط أوحبس يوم أو قيد يوم؛ لأنه لا يبالي به بالنظر إلى العادة، فلا يتحقق به الإكراه، إلا إذا كان الرجل صاحب منصب يعلم أنه يستضر به لفوات الرضا………… قال: فإن كان قبض الثمن طوعا فقد أجاز البيع؛ لأنه دليل الإجازة، كما في البيع الموقوف، وكذا إذا سلم طائعا بأن كان الإكراه على البيع لا على الدفع؛ لأنه دليل الإجازة……... قال: وإن قبضه مكرها فليس ذلك بإجازة، عليه رده إن كان قائما في يده لفساد العقد.
فقه البیوع (1/200-196):
لایجوز بیع المکره عند أحد؛ لکون الإکراه مفوتًا لرضا المکره…….. الحنفیة یدخلون بیع المکره في بیع فاسد موقوف…….. ومفاد کونه فاسدًا عند الحنفیة لا باطلًا أن المشتري یملکه إن قبض، فیصح منه کل تصرف لایمکن نقضه، مثل الإعتاق والتدبیر والاستیلاد، ولکن لایصح ما یقبل النقض، مثلا لبیع والهبة والتصدق. ومفاد کونه موقوفًا أنه ینقلب نافذًا بإجازة المکرَه، سواء کانت الإجازة بالقول أم بالفعل، مثل قبض الثمن وتسلیم المبیعم بشرط أن یکون في حالة الطوع بعد زوال الإکراه……. ذکرنا فیما سبق أن الإکراه الذي یبطل الرضا ویبطل العقد یستوي فیه الإکراه الملجئ وغیر الملجئ. وقد عرف الکاساني رحمه الله تعالیٰ الإکراه الملجئ (وسماه إکراهًا تامًا) وغیر الملجئ بقوله:
"نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد وأنه غير سديد لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لايخاف منه التلف وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".
وأدخل الحنفیة والشافعیة والحنابلة في الإکراه التهدید بإیذاء الولد أو الوالد أو أحد من ذوي رحم محرم؛ لأن إلحاق الأذی بهم یلحق المکرَه غما یعدم الرضا…… وکذلك یتحقق الإکراه بتهدید إتلاف المال………….. وقد عبر ابن مفلح رحمه الله تعالی من الحنابلة عن ذلك بقوله "أخذ مال یضره"، وهذا تعبیر جید؛ لأنه ینبغی أن یعتبر في إعدام الرضا ما یضر الإنسان أکثر مما أکره علیه، خاصة في العقود التي تنبني علی الرضا. وقد ذکر بعض الفقهاء أن المکره إن هدد الآخر بأنه یرافعه إلی الحاکم، فإنه یحقق الإکراه في بعض الأحوال، مثل أن یکون الحاکم ظالما یؤذي بمجرد الشکایة.
والحاصل من جمیع ما ذکرنا من صور الإکراه ما ذکره الحصکفي أن التهدید بکل ما یوجب غما یعدم الرضا، فهو إکراه في حق بطلان البیع. وهذا أمر ربما یترك للقضاء، والله سبحانه وتعالی أعلم.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
25/رجب المرجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


