03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امریکہ میں کاروبار یا مارکیٹنگ کے لیے انشورنس کرنے اور کروانے کا حکم
83048سود اور جوے کے مسائلانشورنس کے احکام

سوال

میں صفائی کے کاروبار سے متعلق ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ امریکہ میں صفائی کی صنعت بہت بڑی صنعت ہے۔یہ پاکستان کی طرح نہیں ہے جہاں ہر کوئی  گھر کی صفائی کے لیے ملازمہ رکھتا ہے اور اس کو تنخواہ  ادا کرتا ہے۔ امریکہ میں اگر کوئی گھر کا مالک اپنے گھر کی صفائی کرنا چاہتا ہے تو وہ صفائی کرنے والی کمپنیوں سے رابطہ کرتا ہے اور صفائی کرنے والی کمپنیاں اپنی نوکرانیوں کو صفائی کے لیے گاہک کے گھر بھیجتی ہیں۔

پچھلے 2-3 سالوں سے نیا ٹرینڈ آیا ہے جسے ریموٹ کلیننگ بزنس کہا جاتا ہے، اس کاروباری ماڈل میں پہلے مجھے ایک LLC بنانا ہو گا، پھر مجھے ایک ویب سائٹ بنانا ہو گی، پھر مجھے گوگل لوکل سروس اشتہارات کے لیے گوگل پر ایک اکاؤنٹ بنانا ہو گا، اگر گوگل لوکل سروس اشتہارات کے لیے میری درخواست کو قبول کرتا ہے تو مجھے گوگل گارنٹی بیج ملے گا جسے میں اپنی ویب سائٹ پر لگا سکتا ہوں۔ امریکہ میں یہ ایک نئی قسم کی تشہیر کا ذریعہ ہے جس میں گوگل کلائنٹ (کمپنی کے مالک) کو ایک گارنٹی بیج جاری کرتا ہے، اور گوگل اس کاروبار کی تشہیر کرتا ہے، لیکن ہر ایک کو نہ یہ بیج ملتا ہے اور نہ ہر کسی کو گوگل کے ذریعہ اس قسم کے اشتہار کی اجازت ملتی ہے، اس کے لیے چند شرائط ہیں۔

  1. گوگل غیر امریکی کو یہ سروس نہیں دیتا، صرف امریکی شہریت کے حامل افراد ہی اس کے لیے درخواست دے سکتے  ہیں، جس کے لیے میں نے اپنے ایک رشتہ دار کو کاروبار میں اپنا شریک بنایا ہے جو امریکی شہریت کے حامل ہیں؛ اس کے پاس سوشل سیکیورٹی نمبر ہے۔
  2. درخواست دینے والے کا ایل ایل سی ہونا بھی ضروری ہے، جو میرا بنا ہوا ہے۔
  3. ایک کاروباری ویب سائٹ ہونا بھی ضروری ہے،  میری وہ بھی پہلے سے بنی ہوئی ہے۔
  4. کاروبار کی انشورنس کا ہونا بھی ضروری ہے۔ امریکہ میں کاروباری کمپنی یا اس کے مالک کاانشورنش  ہونا ضروری ہے، اس کے بغیر کوئی کاروبار نہیں کرسکتا؛ تاکہ کسی حادثہ کی صورت میں بیمہ کمپنی کی طرف سے نقصان پورا کیاجاسکے۔

مجھے معلوم ہے کہ اسلام میں بیمہ حرام ہے، مگر مجبوری یہ ہے کہ امریکہ میں اس کے بغیر کوئی کاروبار   کرہی نہیں سکتا، اس لیے گوگل کی طرف سے اجازت کے بعد  کسی  سب کنٹریکٹر (ذیلی ٹھیکیدار) کو رکھنا ہوگا جو صارفین کے گھروں کی صفائی کرے گا۔ میں صرف ان سب کنٹریکٹرز کو ہی رکھوں گا جن کے پاس پہلے سے انشورنس ہے؛ اس لیے کہ کسی کسٹمر کے گھر کام کرتے ہوئے جان بوجھ کر یا انجانے میں اگر کوئی نقصان ہوجائے گا تو گھر کا مالک مجھ سے نقصان کی ادائیگی کا مطالبہ کرے گا، چونکہ مجھے معلوم  ہے کہ انشورنش جائز نہیں، اس لیے میں اپنا انشورنش استعمال نہیں کروں گا (اگرچہ کاروباری مجبوری کی وجہ سے انشورنش کروایا ہے)، دوسری بات یہ کہ میں نے یہ نقصان نہیں کیا تو میں کیوں نقصان بھروں؟  یہاں ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ نقصان چاہے جان کر ہو یا انجانے میں، کسٹمر اپنا نقصان کمپنی سے وصول کرتا ہے۔ اس لیے میں پہلے سے ہی ایسے سب ٹھیکیدار سے رابطہ کرتا ہوں جس کے پاس انشورنش ہو، اب اس نقصان کی صورت میں اس سب ٹھیکیدار کا بیمہ استعمال کیا جائے گا جس کے ملازم نے نقصان کیا ہوگا۔ میرا ذیلی ٹھیکیدار گھر میں کچھ توڑ دیتا ہے تو میں نقصان کی ادائیگی کے لیے اپنے ذیلی ٹھیکیدار کا بیمہ استعمال کروں گا یا میں اپنے ذیلی ٹھیکیدار سے کہوں گا کہ وہ اپنے بیمہ کے ذریعے گھر کے مالک کو ہونے والے نقصان کی ادائیگی کرے۔

گوگل لوکل سروس کے اشتہار  کے ذریعہ تشہیر کرنا گاہک حاصل کرنے کا سب سے   فائدہ مند طریقہ ہے،  اس میں گوگل مجھ سے صرف اس وقت پیسے لیتا ہے جب میرے پاس گھر کی صفائی کے حوالے سے کوئی کال آتی ہے، اگرچہ صفائی کا آڈر نہ ملے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر گاہک کا کوئی نقصان نہیں ہوا، مگر اس کو میری سروس پسند نہیں آئی تو گوگل اپنے پاس سے اس کسٹمر کو اس کے سروس چارجز کی رقم واپس کرتا ہے، جبکہ یہ بات ثابت بھی ہوجائے اور اس کی مقدار بھی ایک حد ہوتی ہے، ایسا نہیں کہ ہر کسٹمر کو (جب بھی وہ کلیم کرے) پیسے واپس کیے جائیں۔ مثلاً کسٹمر سے میری ڈیل ہوتی ہے کہ ایک گھر کی صفائی کا میں 300 ڈالر لیتا ہوں اور میرے سب ٹھیکیدار سے کوئی مالی نقصان بھی نہیں ہوتا، لیکن کسٹمر میری سروس سے مطمئن نہیں ہوتا تو گوگل  کسٹمر کو اس کے ادا شدہ 300 ڈالر واپس کرتا ہے۔ یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ گوگل گھر کے مالک کو 300 ڈالر کیوں ادا کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ گوگل کسٹمر کو  میری کاروباری سروس کے بارے میں اشتہار دکھاتا ہے، پھر اگر  میری سروس میں کوئی خرابی آئی جس کی وجہ سے کسٹمر مطمئن نہیں ہوسکا تو کسٹمر کا یہ نقصان گوگل پورا کرے گا، یہ گوگل کا قانون ہے۔

جیسا کہ میں نے بتایا کہ اس کاروبار کے بارے میں مجھے اپنے سب کنٹریکٹر کی انشورنس استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی، اگر وہ کچھ توڑتا ہے، تاکہ  کسٹمر کا نقصان پورا ہوسکے، اسی مجبوری کی وجہ سے میں صرف انشورنش شدہ افراد کو ٹھیکہ دیتا ہوں۔ میں نے ایک مفتی صاحب سے پوچھا کہ اگر کوئی ذیلی ٹھیکیدار میرے ساتھ کام کرنے کے لیے آتا ہے، لیکن اگر اس کے پاس انشورنس نہیں ہے تو میں اسے بتاؤں گا کہ اگر آپ میرے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو انشورنس کروانا ہو گی تو ان مفتی صاحب نے کہا کہ میرے لیے جائز نہیں کہ میں کسی کو انشورنس کروانے کا کہوں، ورنہ مجھے گناہ ہوگا۔ انہوں  نے مجھے بتایا کہ اگر کوئی ذیلی ٹھیکیدار میرے پاس کام کرنے کے لیے آتا ہے اور اس کے پاس انشورنس نہیں ہے تو مجھے صرف ذیلی ٹھیکیدار سے یہ کہنے کی اجازت ہے کہ میں صرف ان لوگوں کے ساتھ کام کرتا ہوں جن کے پاس انشورنس ہے۔ اس تفصیل کے بعد آپ بتائیں کہ:

(1)۔۔۔ کمپنی کا یا اس کے آنر کا انشورنش کروانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو شرعی متبادل کیا ہوگا؟

(2)۔۔۔کمپنی کا ٹھیکیدار کے لیے انشورنش کی شرط لگانا درست ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو شرعی متبادل کیا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)۔۔۔ اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے اور امریکہ میں حکومتی قانون کی رو سے کاروبار کے لیے انشورنس ضروری ہے، حکومت اس کے بغیر کاروبار کی اجازت نہ دیتی ہو اور کاروبار کے علاوہ کوئی ذریعۂ معاش بھی میسر نہ ہو، نہ ہی انشورنس کا کوئی شرعی متبادل موجود ہو تو ایسی مجبوری میں کسی غیر مسلم انشورنس کمپنی سے انشورنس کروانے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ البتہ حادثے یا نقصان کی صورت میں اپنی ادا کردہ اقساط (پریمیم) سے زائد ملنے والی رقم کو صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔  

لیکن اگر اصل کاروبار کے لیے حکومتی قانون کی رو سے انشورنس کرانا ضروری نہ ہو، صرف گوگل پر کاروبار کے اشتہارات چلانے اور مارکیٹنگ کرانے کے لیے ضروری ہو تو پھر انشورنس کرانا جائز نہیں ہوگا۔ اس صورت میں مارکیٹنگ کے ایسے طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں جن میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو، اگرچہ تشہیر کچھ کم ہو۔

(2)۔۔۔ ذیلی ٹھیکیدار کے لیے اگر حکومتی قانون کی رو سے ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے انشورنس کرانا ضروری ہو تو اس کے لیے انشورنس کی گنجائش ہوگی اور آپ کے لیے قانونی مجبوری کی وجہ سے یہ شرط رکھنے کی گنجائش ہوگی، لیکن اگر حکومتی قانون کی رو سے ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے انشورنس ضروری نہ ہو، صرف گوگل کے ذریعے تشہیر اور نقصان کی صورت میں اس کی تلافی کے لیے آپ انشورنس والے ٹھیکے دار کو رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ٹھیکہ دیتے وقت انشورنس کی شرط لگانا جائز نہیں، چاہے صراحتًا یہ شرط لگائی جائے یا ٹھیکیدار سے صرف اتنا کہا جائے کہ میں صرف ان لوگوں کے ساتھ کام کرتا ہوں جن کے پاس انشورنس ہو؛ کیونکہ یہ کہنا بھی شرط کے معنی میں ہے۔ اور جو کام خود کرنا جائز نہیں ہوتا، وہ کسی اور سے کروانا یا اس کی ترغیب دینا بھی جائز نہیں ہوتا۔ البتہ اگر از خود کوئی ایسا ٹھیکیدار آجاتا ہے جس نے انشورنس کرائی ہو اور آپ صرف اس کو ٹھیکہ دے تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار (5/ 187-185):

( ولا ربا بين سيد وعبده )…….( ولا بين حربي ومسلم ) مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار ( ثمة ) لأن ماله ثمة مباح فيحل برضاه مطلقا بلا غدر خلافا للثاني والثلاثة ( و ) حكم ( من أسلم في دار الحرب ولم يهاجر كحربي ) فللمسلم لربا معه خلافا لهما لأن ماله غير معصوم فلو هاجر إلينا ثم عاد إليهم فلا ربا اتفاقا جوهرة.

قلت: ومنه يعلم حكم من أسلما ثمة ولم يهاجرا، والحاصل أن الربا حرام، إلا في هذه الست مسائل.

رد المحتار (5/ 186):

قوله ( ولا بين حربي ومسلم مستأمن ) احترز بالحربي عن المسلم الأصلي والذمي وكذا عن المسلم الحربي إذا هاجر إلينا ثم عاد إليهم فإنه ليس للمسلم أن يراني معه اتفاقا كما يذكره الشارح ………… قوله ( ومسلم مستأمن ) مثله الأسير، لكن له أخذ مالهم ولو بلا رضاهم، كما مر في الجهاد.  قوله ( ولو بعقد فاسد ) أي ولو كان الربا بسبب عقد فاسد من غير الأموال الربوية، كبيع بشرط، كما حققناه فيما مر، وأعم منه عبارة المجتبى المذكورة، وكذا قول الزيلعي: وكذا إذا تبايعا فيها بيعا فاسدا. قوله ( ثمة ) أي في دار الحرب قيد به؛ لأنه لو دخل دارنا بأمان، فباع منه مسلم درهما بدرهمين لا يجوز اتفاقا، ط عن مسكين.  

قوله ( لأن ماله ثمة مباح ) قال في فتح القدير: لا يخفى أن هذا التعليل إنما يقتضي حل مباشرة العقد إذا كانت الزيادة ينالها المسلم، والربا أعم من ذلك؛ إذ يشمل ما إذا كان الدرهمان أي في بيع درهم بدرهمين من جهة المسلم ومن جهة الكافر. وجواب المسألة بالحل عام في الوجهين، وكذا القمار قد يفضي إلى أن يكون مال الخطر للكافر بأن يكون الغلب له، فالظاهر أن الإباحة بقيد نيل المسلم الزيادة، وقد ألزم الأصحاب في الدرس أن مرادهم من حل الربا والقمار ما إذا حصلت الزيادة للمسلم نظرا إلى العلة وإن كان إطلاق الجواب خلافه، والله سبحانه وتعالى أعلم بالصواب ا هـ  قلت: ويدل على ذلك ما في السير الكبير وشرحه حيث قال: وإذا دخل المسلم دار الحرب بأمان، فلا بأس بأن يأخذ منهم أموالهم بطيب أنفسهم بأي وجه كان؛ لأنه إنما أخذ المباح على وجه عري عن الغدر، فيكون ذلك طيبا له، والأسير والمستأمن سواء حتى لو باعهم درهما بدرهمين أو باعهم ميتة بدراهم أو أخذ مالا منهم بطريق القمار فذلك كله طيب له ا هـ ملخصا.  فانظر كيف جعل موضوع المسألة الأخذ من أموالهم برضاهم! فعلم أن المراد من الربا والقمار في كلامهم ما كان على هذا الوجه وإن كان اللفظ عاما؛ لأن الحكم یدور مع علته غالبا. قوله ( مطلقا ) أي ولو بعقد فاسد ط.  

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 34):

( المادة 22 )  ما أبيح للضرورة يتقدر بقدرها،  أي أن الشيء الذي يجوز بناء على الضرورة يجوز إجراؤه بالقدر الكافي لإزالة تلك الضرورة فقط ولا يجوز استباحته أكثر مما تزول به الضرورة. مثلا : لو أن شخصا كان في حالة الهلاك من الجوع يحق له اغتصاب ما يدفع جوعه من مال الغير لا أن يغتصب كل شيء وجده مع ذلك الغير.

   عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

     24/رجب المرجب/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب