| 86810 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
سائل کا نکاح مسماۃ منیبہ فہیم دختر مظفر حسین سے ہوا تھا۔ سائل نے گھریلو جھگڑے کی وجہ سے مسماۃ مذکورہ کو ایک دفعہ لفظِ طلاق کہا اور لڑکی کی خالہ کو فون کر کے کہا کہ اس کے گھر والوں کو کہیں کہ آ کر اسے لے جائیں، میں نے اسے طلاق دے دی ہے۔ پھر سائل اور اس کی بیوی کے درمیان صلح ہو گئی اور دونوں ایک ہفتے تک ساتھ رہے۔ اس کے بعد سائل خود اپنی بیوی کو والدین سے ملاقات کے لیے سسرال چھوڑ کر آیا اور تقریباً ایک مہینے بعد اسے واپس اپنے گھر لے آیا۔
جس دن طلاق دی تھی، اسی دن لڑکی کی خالہ نے فون کر کے ماموں کو بتایا کہ سائل نے اسے فارغ کر دیا ہے اور کہا کہ اسے لے جائیں۔ ایک مہینے کے بعد ماموں نے سائل سے پوچھا کہ انہوں نے سنا ہے آپ نے کہا ہے کہ میں نے بیوی کو فارغ کر دیا ہے، تو سائل نے انکار کر دیا۔ بعد میں جب سائل کے بھائی اور خالہ زاد بھائی نے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں نےبولے ہیں۔
نوٹ: سائل چونکہ "طلاق" اور "فارغ" کو ایک ہی سمجھ رہا تھا، اس لیے اس نے ہاں کہا۔ اب سائل کو شرعی رہنمائی درکار ہے۔ سائل نے تحصیل مفتی سے فتویٰ لیا ہے جو ساتھ منسلک ہے، لیکن بعض مقامی علماء اسے نہیں مانتے، اس لیے مزید وضاحت مطلوب ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں شوہر کے اپنی بیوی کو ایک دفعہ طلاق کا لفظ کہنے سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے۔ اور اس کے بعد بیوی کی خالہ کو فون پر جو الفاظ "میں نے اس کو طلاق دے دی ہے" شوہر نے کہے ہیں، ان سے کوئی مزید طلاق واقع نہیں ہوئی، اس لیے کہ ان الفاظ میں محض طلاق کی خبر دی گئی ہے۔ لہٰذا خاوند کے عدت میں رجوع کرنے سے رجوع صحیح ہو گیا ہے۔
خاوند نے جب سرے سے "فارغ" کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا، تو لڑکی کی خالہ کا لڑکے کے ماموں کو فون کرکے یہ کہنا کہ "اس نے فون کرکے مجھے کہا تھا کہ میں نے اس کو فارغ کر دیا ہے، اس کو لے جائیں" کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
مذکورسائل کاماموں کے سامنے انکار کے بعد بھائی اور خالہ زاد کے سامنے "ہاں" کہنے سے، اگر واقعتاً اس کی مراد وہی سابقہ پہلی طلاق ہے، تو اس سے بھی کوئی طلاق نہیں ہوئی۔ لہٰذا منسلکہ فتویٰ میں لکھا گیا حکم درست اور شریعت کے مطابق ہے۔
حوالہ جات
فی بدائع الصنائع(3/102)):
ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار.( كتاب الطلاق،فصل في النية في أحد نوعي الطلاق و هو الكناية.
فی الھندیۃ (۳۵۵/۱):
ولو قال لامرأته أنت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء كذا في البدائع.
فی الهداية( ج/405):
إذا طلق الرجل إمرأته تطليقة رجعية، أو تطليقتين، فله أن يراجعها في عدتها.( كتاب الطلاق،باب الرجعة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
06/8/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


