| 83100 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک ماہ سے مکہ مکرمہ میں ہوں،حج کے بعد دو دن کے لیے مدینہ منورہ گیا تھا،اپنا سارا سازو سامان بھی اسی ہوٹل اور کمرے میں رکھ کر گیا تھا ،صرف ضروری کچھ سامان ساتھ تھا،اب واپسی میں صرف دو یاتین دن مزید مکہ مکرمہ میں قیام ہے اور پھر وطن واپسی ہے،اب یہاں واپسی میں قصر کروں گا یا اتمام؟متضاد آراء بتائی جارہی ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ وطن اقامت سفر سے اس وقت باطل ہوتا ہے جب کہ مع نقلِ ثقل ہو یعنی اپنے سازو سامان وغیرہ کے ساتھ واپس نہ آنے کی نیت سے سفر کرے،البتہ اگر وطن اقامت میں سازو سامان چھوڑ کر واپس آنے کی نیت سے سفر کیا جائے تو وطن اقامت باطل نہیں ہوتا،لیکن اس دوسری صورت میں احسن الفتاوی میں ایک قید مذکور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ سامان چھوڑنا امانت کے طور پر نہ ہو لہٰذا مسؤولہ صورت میں اگر سامان اپنے رہائشی کمرے میں اپنے قبضے کے طور پر رکھا ہو تو آپ واپس مکہ مکرمہ آکر اتمام کریں گے نہ کہ قصر،اور اگر امانت کے طور پر کسی کے پاس رکھوا کر گئے تھے تو واپس مکہ مکرمہ میں پندرہ دن سے کم ٹہرنے کی نیت ہونے کی وجہ سے قصر کریں گے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 147)
وفي المحيط، ولو كان له أهل بالكوفة، وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل البصرة لا تبقى وطنا له؛ لأنها إنما كانت وطنا بالأهل لا بالعقار، ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطنا له، وقيل تبقى وطنا له؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر اهـ.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 164)
وفي محيط السرخسي: لو كان له أهل بالكوفة وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل: البصرة لا تبقى وطنا له لأنه إنما كانت وطنا له بالأهل لا بالعقار ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة ولم يكن عقار صارت وطنا له وقيل تبقى وطنا له لأنه كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كموطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 752)
(قوله حلف لا يساكن فلانا) فإن كان ساكنا معه فإن أخذ في النقلة وهي ممكنة وإلا حنث قال محمد فإن كان وهب له المتاع وقبضه منه وخرج من ساعته وليس من رأيه العود فليس بمساكن. وكذلك إن أودعه المتاع أو أعاره ثم خرج ولا يريد العود بحر. وفي حاشية الرملي عن التتارخانية لا تثبت المساكنة إلا بأهل كل منهما ومتاعه…
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۲۶.رجب۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


