| 83054 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
مفتیان کرام کی خدمت میں سوال یہ ہے کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے جب کسی کو پیسے بھیجنے ہوتے ہیں توکیا اس کے ساتھ اضافی کٹوتی کے پیسے بھی بھیجیں گے یا فقط کٹوتی کے علاوہ رقم بھیجیں گے؟کیا یہ سود میں شمار ہوگا یا نہیں ؟جب کوئی بندہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے پیسے نکالتا ہے تواس پر کٹوتی کے پیسے آتے ہیں۔
سائل نے اس کی دوصورتیں بیان کی ہیں:۔
1۔زید نے ایک ہزار نقد رقم عمرو کو دیدی ،عمرو نے جواب میں ایزی پیسے کے ذریعے زید کے اکاؤنٹ میں ہزار روپے ڈال دیے۔ زید جب یہ رقم نکالے گا تو اس سے کٹوتی ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیاعمرو اس ایک ہزار سے زائد رقم زیدکے اکاؤنٹ میں بھیجنے کا پابند ہوگا؟
2۔زید نے ایک تعلیمی ادارے کو مکمل فیس دی،سروسز کی رقم بھی ادا کی۔اس کے بعدادارے کی جانب سے مزید کچھ روپے اس مد میں لیے جارہے ہیں کہ مطلوبہ فیس کی رقم اکاؤنٹ سے نکالنے پر مزیدکٹوتی ہوتی ہے۔کیا یہ جائزہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔اگر یہ رقم زید نے عمرو کو بطور قرض نہیں دی ہے ،بلکہ ویسے ہی نقد دے کر اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنے کا کہا ہے تو پھر عمرو ایک ہزار روپے ہی ٹرانسفر کرے گا۔
اور اگر بطور قرض دی ہے،اور قرض خواہ کا منشاء یہ ہےکہ پہلے اکاؤنٹ میں رقم بھیج دے اور ساتھ میں کٹوتی کے اخراجات بھی لیتاہو تو اس کی اجازت نہیں ،البتہ اگر وہ کیش میں دینے کی شرط لگائے اور مقروض اپنے منشاء کے مطابق اس کو آنلائن ادائیگی کرے تو پھرادائیگی پر آنے والے تمام اخراجات مقروض کے ذمے ہیں، قرض دینے والے پر نہیں ، الا یہ کہ وہ اپنی رضا مندی سے واپسی کا خرچے اپنے ذمہ لے لے۔
2۔جتنی رقم کی کٹوتی ہوتی ہے،وہ لینا جائز ہے،بشرطیکہ فیس دہندہ نے نقد رقم میں فیس کی ادائیگی پرقدرت واجازت کے باوجود ازخود اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کی ہو،ورنہ اگر ادارے والے مطالبہ کریں کہ فیس اکاؤنٹ میں جمع کروائیں تو ایسے میں اضافی خرچہ کے نام پرکوئی اضافی رقم ادارے کےلیے لینا جائز نہیں۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 220):
قال: "وأجرة رد العارية على المستعير"؛ لأن الرد واجب عليه لما أنه قبضه لمنفعة نفسه والأجرة مؤنة الرد فتكون عليه "وأجرة رد العين المستأجرة على المؤجر" لأن الواجب على المستأجر التمكين والتخلية دون الرد، فإن منفعة قبضه سالمة للمؤجر معنى فلا يكون عليه مؤنة رده "وأجرة رد العين المغصوبة على الغاصب"؛ لأن الواجب عليه الرد والإعادة إلى يد المالك دفعا للضرر عنه فتكون مؤنته عليه.
المعیار الشرعی رقم(19):
یجوز للمؤسسۃ المقرضۃ أن تاخذ علی خدمات القروض مایعادل مصروفاتھا الفعلیۃ المباشرۃ، ولایجوز لھا أخذ زیادۃ علیھا، وکل زیادۃ علی المصروفات الفعلیۃ محرمۃ۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
28/رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


