| 83069 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ،جس کا نام عبداللہ ظفر ہے، اس نے اپنی بیوی کو مختلف موقعوں پر تین طلاقیں دیں، بعد ازاں انہی تین طلاقوں کے حوالے سے اس نے اپنا ایک بیان حلفی بھی لکھا، جس میں اس نے ان تین طلاقوں کی تاریخ بھی بتلائی اور اس بیان حلفی میں انہوں نے تینوں طلاقوں کا ذکر کیا اور یہ کہا کہ میں نے اپنی اہلیہ کو فلاں فلاں تاریخ میں یہ تین طلاقیں دے دی ہیں۔
اب موصوف اپنی اس تحریر سے بھی مکر رہے ہیں اور تیسری طلاق سے بھی مکر رہے ہیں اور رجوع کرنے کے دعویدار ہیں۔مفتیان کرام سے درخواست ہے کہ ہمیں یہ بتلائیں کہ کیا ان کا رجوع کسی بھی صورت میں جائز ہے ؟
نوٹ:شوہرکی طرف سےبیان حلفی ساتھ منسلک ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں شوہرنےاگرواقعی تین طلاق دی اورمنسلکہ بیان حلفی واقعی شوہرکاخودلکھاہواہےتواس صورت میں رجوع کی توکوئی صورت ممکن نہیں،بلکہ دوبارہ نکاح کی بھی کوئی صورت نہیں ہے،ہاں حلالہ ہوجائےتوپھربیوی پہلےشوہرکےلیےحلال ہوسکتی ہے۔
شوہرکوسمجھاناچاہیےکہ غلط بیانی کرکےحرام کاری میں مبتلاء ہوکراپنی آخرت کیوں برباد کرناچاہ رہاہے ،کیونکہ تین طلاق کےبعد بیوی شوہرپرحرمت مغلظہ کےساتھ حرام ہوجاتی ہےاوربغیرحلالہ کےساتھ رہنےمیں زناء اورحرام کاری کا گناہ بھی ہوتاہے۔
موجودہ صورت میں حلفیہ بیان میں غلط بیانی اورجھوٹی قسم کابھی گناہ ہوگا،شرعااس سےبھی اجتناب لازم ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ 229،223:
الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔۔۔فان طلقہافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ۔
ھدایۃ " 2 /378:
وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ الخ لاتحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاصحیحاویدخل بہاثم یطلقہاأویموت عنہا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
29/رجب 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


