03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
علمائے کرام کو بُرا بھلا کہنے کا حکم
83168جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرے شوہر نے ایک مرتبہ کہا کہ میرے پاس ایسا علم ہے جو اللہ کے پاس، نبی کے پاس اور میرے پاس ہے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ کہا کہ میرے پاس ایسا علم ہے جو صرف اللہ کے پاس، میرے پاس اور شیطان کے پاس ہے۔ ایک موقع پر میرے اور میرے شوہر کے درمیان کسی شرعی مسئلہ پر بات ہو رہی تھی تو انہوں نے مجھ سے ایک شرعی مسئلے کا جواب پچھوایا تھا جو کہ میں نے ایک دیوبندی عالم سے پوچھ کر ان کو بتایاجن کو وہ جانتے نہیں ہیں۔  تو شوہر کہنے لگے میرے  کہ میں ان جھوٹے زندیق علماء کی بات نہیں مانتا۔ اس کے علاوہ میرے شوہر علماء کے بارے میں غلط باتیں بھی کرتے ہیں کہ علماء سوئے ہوئے ہیں اور اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ کیا میرے شوہر کے یہ الفاظ کہنا درست ہیں؟ کیا ایسے الفاظ کہنے والا شخص اسلام پر باقی رہے گا؟ اور ہم دونوں کے نکاح کا کیا حکم ہے؟

انہوں نے حکمت کی کچھ کتابیں خود پڑھی ہوئی ہیں اس کی بنیاد پر یہ بات کہی ہے ۔کسی خاص عالم کا نام نہیں لیتے اور نہ ہی کوئی تخصیص کرتے ہیں، بلکہ مطلق علماء کوانہوں نے اس طرح کہا ہے، خود حافظ ہیں، مگر علماء کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں کہ علماء سود کے خلاف فتوی نہیں دیتے۔بس اسی طرح لگے رہتے ہیں کہ علماء ایسے علماء ویسے. اور پھر ایک دن کہہ دیا کہ میں ان جھوٹے زندیق علماء کو نہیں مانتا۔

وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ انہوں نے حکمت کی کچھ کتابیں خود پڑھی ہوئی ہیں اس کی بنیاد پر یہ کہا کہ میرے پاس ایسا علم ہے، بس ایسے ہی بھڑکیں مارتے رہتے ہیں اور علماء کو برا بھلا کہتے ہیں، نیز اس شخص کا کہنا ہے کہ علماء کو زندیق کہنا چھوٹی سی بات ہے، زندیق والی بات اس نے اس وقت کہی جب اس کو یہ کہا گیا کہ بعض علماء اس پر تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کہہ رہے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کی ان کلمات "میرے پاس ایسا علم ہے جو اللہ کے پاس، نبی کے پاس اور میرے پاس ہے يا يہ کہنا کہ میرے پاس ایسا علم ہے جو صرف اللہ کے پاس، میرے پاس اور شیطان کے پاس ہے" سے مراد بظاہر "علم طب" ہے، لہذا مذکورہ جملہ کہنے سے کفر تو لازم نہیں آیا، تاہم چونکہ یہ الفاظ کہنے والا اپنے لیے اعلم (یعنی تمام انسانوں سے زیادہ حکمت جاننے والا) ہونے کا دعوی کر رہا ہے، جس کا غیر محتاط اور خلاف واقع ہونا واضح ہے، اس لیے یہ الفاظ کہنے سے احتراز لازم ہے۔

باقی بغیرتعیین اور بغیر کسی وجہ کے علمائے کرام کو جھوٹے اور زندیق کہنا انتہائی خطرناک فعل ہے،  مذکورہ کلمات سخت گستاخانہ ہیں اور تحقیق کے بغیر علماء کی پوری جماعت کو اس قسم کے  قبیح اور شنیع کلمات کہنا نہ صرف بدترین فسق اور گمراہی ہے، بلکہ ان کلمات کے کفریہ ہونے کابھی  اندیشہ ہے ،کیونکہ زندیق حقیقت میں اس شخص کو کہتے ہیں جو ظاہرا مسلمان ہو، مگر اپنے دل میں کفریہ عقائد رکھنے کی وجہ سے دائرہٴ اسلام سے خارج ہو اور کسی صحيح العقيده مسلمان کو کافر قرار دینا خود کفر ہے۔  لہذا اس شخص پر واجب ہے کہ فورا ان کلمات سے صدق دل سے  توبہ کرے اور آئندہ کے لیے اس طرح کے کلمات استعمال کرنے سے مکمل طور پر اجتناب کرے، نیز توبہ کرنے کے بعد  احتیاطا تجدیدِ ایمان اورتجدیدِ نکاح بھی کر ے۔

(ماخذہ بتصرف فتاوی عثمانی:77/1)

حوالہ جات

صحيح البخاري: (رقم الحدیث: 7076، ط: السلطانیة:

حدثنا ‌عمر بن حفص، حدثني ‌أبي، حدثنا ‌الأعمش، حدثنا ‌شقيق قال: قال ‌عبد الله : قال النبي صلى الله عليه وسلم: سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر.

مجمع الأنهر: (695/1، ط: دار إحياء التراث العربي:

 (الرابع في ‌الاستخفاف بالعلم) وفي البزازية فالاستخفاف ‌بالعلماء لكونهم علماء استخفاف بالعلم والعلم صفة الله تعالى منحه فضلا على خيار عباده ليدلوا خلقه على شريعته نيابة عن رسله فاستخفافه بهذا يعلم أنه إلى من يعود فإن افتخر سلطان عادل بأنه ظل الله تعالى على خلقه يقول العلماء بلطف الله اتصفنا بصفته بنفس العلم فكيف إذا اقترن به العمل الملك عليك لولا عدلك فأين المتصف بصفته من الذين إذا عدلوا لم يعدلوا عن ظله والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر.

ومن قال للعالم عويلم أو لعلوي عليوي قاصدا به ‌الاستخفاف كفر. ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر ومن بغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر ولو شتم فم عالم فقيه أو علوي يكفر وتطلق امرأته ثلاثا إجماعا كما في مجموعة المؤيدي نقلا عن الحاوي لكن في عامة المعتبرات أن هذه الفرقة فرقة بغير طلاق عند الشيخين فكيف الثلاث بالإجماع، تدبر.

 

 

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 134) دار الكتاب الإسلامي:

 ومن أبغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر ولو صغر الفقيه أو العلوي قاصدا الاستخفاف بالدين كفر لا إن لم يقصده.

لسان الحكام (ص: 415) الناشر: البابي الحلبي – القاهرة:

من ابغض عالما بغير سبب ظاهر خيف عليه الكفر وفي نسخة الخسرواني رجل يجلس على مكان مرتفع ويسألون منه مسائل بطريق الاستهزاء وهم يضربونه بالوسائد ويضحكون يكفرون جميعا.

إكفار الملحدين في ضروريات الدين (ص: 13) الناشر: المجلس العلمي – باكستان:

قوله: "المعروف" اهـ. فإن الزنديق يموه يكفره، ويروج عقيدته الفاسدة، ويخرجها في الصورة الصحيحة، وهذا معنى إبطان الكفر، فلا ينافي إظهاره الدعوى إلى الضلال، وكونه معروفاً بالإضلال اهـ. ابن كمال.وقيل: لا يقبل إسلامه إن ارتد إلى كفر خفي، كزنادقة، وباطنية، فالمراد بابطان بعض عقائد الكفر ليس هو الكتمان من الناس، بلالمراد: أن يعتقد بعض ما يخالف عقائد الإسلام مع ادعائه إياه وحكم المجموع من حيث المجموع الكفر لا غير.

  محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

2/شعبان 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب