| 83186 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب عرصہ دراز سے ایک دکان دار ناجائز تجاوز کرکے اپنی دکان کے سامنے گورنمنٹ کی ملکیتی جگہ پر ٹھیے والوں کو بٹھا کر ان سے اس جگہ کا باقاعدہ کرایہ وصول کررہا ہے اس عمل سے بازار میں پیدل چلنے والوں کو بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیا اس طرح کرایہ وصول کرنا شرعا جائز ہے ؟ اور اب تک وصول کیے گئے کرایہ کا کیا حکم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے جو جگہ گورنمنٹ کی ملکیت میں ہو اور افادہ عام کے لیے خالی چھوڑدی گئی ہو تو کسی شخص کا اس پر قبضہ کرلینا شرعاً جائز نہیں ہے، اگر کوئی شخص ایسی زمین پر قبضہ کرلے تووہ شرعاً اس کا مالک نہ ہوگا اور نہ ہی اس زمین پر اس کو مالکانہ تصرفات حاصل ہوں گے۔
صورت مسئولہ میں اگر اس دکان دار کے قبضہ کی وجہ سے آنے جانے والوں کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہو اور اس سے بازار کا نظام متاثر ہوتا ہو تو اس پر لازم ہے کہ اپنا قبضہ ختم کرے اور زمین کو فارغ کرکے چھوڑ دے اور ٹھیے والوں سے اب تک جو کرایہ وصول کیا ہے وہ شرعا جائز نہیں ہے ، اس لیےاب اس پر لازم ہے کہ اتنی مقدار کی رقم متعلقہ حکومتی ادارے میں جمع کرائے اور اگر کسی صورت میں یہ ممکن نہ ہو تو اسے بغیر نیتِ ثواب کے صدقہ کردے اور اس جگہ سے اپنے ناجائز تجاوزات ہٹا کر کاروبار کرنے سے گرہیز کرے۔
حوالہ جات
بذل المجهود في حل سنن أبي داود (9/ 224):
2629 - (حدثنا سعيد بن منصور، نا إسماعيل بن عياش، عن أسيد) ...(عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني، عن أبيه) معاذ بن أنس (قال: غزوت مع نبي الله - صلى الله عليه وسلم - غزوة كذا وكذا)...(فضيق الناس المنازل، وقطعوا الطريق) أي: وسدوا الطريق فلم يبق للناس مجال أن يخرجوا من منازلهم، ويرجعوا إليها بسبب تضييق المنازل.(فبعث رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مناديًا ينادي في الناس: أن من ضيق منزلًا أو قطع) أي: سدَّ (طريقًا فلا جهاد له)، فاللازم على الجماعة النازلة في السفر أن يتخذوا طريقًا، وينزلوا بجانبيه لئلا يتضيق الناس في الخروج من المنازل والرجوع إليها۔
صحيح البخاري (2/ 870):
2333 - حدثنا معاذ بن فضالة حدثنا أبو عمر حفص بن ميسرة عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ( إياكم والجلوس في الطرقات ) . فقالوا ما لنا بد إنما هي مجالسنا نتحدث فيها . قال ( فإذا أبيتم إلا المجالس فأعطوا الطريق حقها ) . قالوا وما حق الطريق ؟ قال ( غض البصر وكف الأذى ورد السلام وأمر بالمعروف ونهي عن المنكر ).
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 385)
وقال في النهاية: قال بعض مشايخنا: كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ
(معارف السنن:1/34):
أن من ملک بملکٍ خبیثٍ، ولم یمکنہ الردُّ إلی المالک، فسبیلہ التصدق علی الفقراء. والظاہرُ أن المتصدق بمثلہ ینبغي أن ینوي بہ فراغَ ذمتہ، ولا یرجو بہ المثوبة، نعم یرجوھا بالعمل بأمر الشارع، وکیف یرجو الثوابَ بمال حرام؟ ویکفیہ أن یخلص منہ کفافًا رأسًا برأس.
صفی اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
03/شعبان المعظم/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


