| 83143 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
اگر کوئی شخص تمام اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام کا انکار کر دے ، تو کیا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صحابہ کرام کی جماعت اس پوری کائنات میں وہ خوش قسمت جماعت ہے جن کواللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کےلئے منتخب فرمایا،جن کی تعلیم وتربیت اورتزکیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی،ان کے ایمان اورتقوی کی سند اللہ تبارک وتعالی نےخود عطاکی،جن کواللہ تعالی نے معیارحق قراردیا اوران کی اقتداء کاحکم دیا،اللہ تبارک وتعالی کاارشادہے:
ترجمہ: تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے۔(سورۃ حدید،آیت نمبر10)
صحابہ کرام کومعیارحق تسلیم نہ کیاجائے اوران کومعاذاللہ کافرکہاجائے تواس کی وجہ سے توسارے دین پراعتمادختم ہوجائے گا اورصحیح دین دوسروں تک پہنچانے کاکوئی ذریعہ نہیں رہے گا،اسی طرح ان کے ایمان کوتسلیم نہ کرنے کامطلب ہے کہ قرآن کی ان متعددآیات کاانکارہے جن میں اللہ تعالی نے ان سے اپنی رضا کااعلان فرمایاہے اورجنت کاوعدہ کیاہے،قرآن کی آیت کاانکارتوکفر ہے،اس لئے جوشخص صحابہ کرام کے اسلام کاانکارکرتاہے تووہ اسلام سے خارج ہے۔
حوالہ جات
فی الشفا بتعريف حقوق المصطفى للقاضي عياض (ج 1 / ص 458):
و كذلك نقطع بتكفير كل قائل قال قولاً يتوصل به إلى تضليل الأمة و تكفير جميع الصحابة ، كقول الكميلية من الرافضة بتكفير جميع الأمة بعد النبي صلى الله عليه و سلم ، إذ لم تقدم علياً . و كفرت علياً ، إذ لم يتقدم و يطلب حقه في التقديم ، فهؤلاء قد كفروا من وجوه ، لأنهم أبطلوا الشريعة بأسرها ، إذ قد انقطع نقلها و نقل القرآن ، إذ ناقلوه كفرة على زعمهم ، و إلى هذا ـ و الله أعلم ـ أشار مالك في أحد قوليه بقتل من كفر الصحابة .
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۴/شعبان ۱۴۴۵ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


