| 83132 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
آج کل آرٹیفیشل جیولری کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے،مجھے پوچھنا یہ ہے کہ آرٹیفیشل زیورات کا استعمال عورتوں کے لیے جائز ہے یانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہرقسم کی دھات کا بنا ہوا زیورسوائے انگوٹھی کے خواتین کے لیےاستعمال کرناجائز ہےاورسونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات(لوہا، تانبا، پیتل،ا سٹیل وغیرہ)کی انگوٹھی پہننے میں علماء کرام کا اختلاف ہے،عام فقہی کتب میں اس کی ممانعت درج ہے،اس لئے خواتین کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے،البتہ اس بارے میں حضرت گنگوہیؒ نے علماء کے اختلاف کی وجہ سے مکروہ تنزیہی کا قول کیا ہے( تالیفاتِ رشیدیہ،ص: 491)۔
تاہم اگرسونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات(لوہا، تانبا، پیتل،ا سٹیل وغیرہ)کی انگوٹھیوں پر سونے یا چاندی کا پانی اس طرح چڑھایاجائےکہ اس انگوٹھی کی دھات چھپ جائےتو پھرخواتین کے لئے بلا کراہت اس کا استعمال جائزہوگا۔
حوالہ جات
وفی الفتاوى الهندية( 5/335):
التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا، وأما العقيق ففي التختم به اختلاف المشايخ، وصحيح في الذخيرة أنه لا يجوز وقال قاضي خان الأصح أنه يجوز، كذا في السراج الوهاج.
إعلاء السنن( 17/294):
یباح للنساء من حلي الذہب والفضۃ والجواہر کل ما جرت عادتہن یلبسہ کالسوار، والخلخال،
والقرط، والخاتم، وما یلبسہ علی وجوہہن وفي أعناقہن وأرجلہن وأذانہن وغیرہ.
وفی الفتاوى الهندية (5/) 335):
ولا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوي عليه فضة أو ألبس بفضة حتى لا يرى كذا في المحيط.
وفی الموسوعۃ الفقہیۃ( 18/112):
اتفق العلماء علی جواز تحلی المرأۃ بأنواع الجواهر النفیسیۃ کالیاقوت والعقیق واللؤلؤ.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
4/08/1445
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


