| 83448 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
میرے ہونٹ کے نیچے پیپ والا دانہ تھا۔غسل کے بعد میں نے احتیاط کے ساتھ (تاکہ پیپ والا دانہ مس نہ ہو ) تولیہ سے منہ پونچھ لیا۔اب باہر نکلنے کے بعد میں نے شیشے میں دیکھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ دانے کا پیپ یا پانی نکل گیا ہے۔تھوڑی دیر بعد میں نے اپنے آنکھ کے پپوٹے (آ نکھ کے اوپری حصے )پر سفیدی مائل خشکی محسوس کی۔مجھے صابن کی خشکی کا گمان ہوا۔لیکن یہ وہم بھی ہونے لگا کہ پیپ والی خشکی ہے اور اس سے تولیہ بھی ناپاک ہوا۔میں دو ماہ سے وہم کا بیمار ہوں ۔اور کوشش رہتی ہے کہ وہم پر عمل نہ کروں اس لیے وہی تولیہ غسل کے بعد بدن پونچھنے کے لیے استعمال کرتا ہوں۔
نوٹ.دانہ کے بارے میں میرا یہ بھی گمان ہے کہ غسل کے دوران صابن لگانے سے پھوٹ گیا ہو۔
براہ کرم اس مسئلہ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ تولیہ ناپاک ہوا یا نہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب آپ کو یقین نہیں کہ دانے سے پیپ نکلی ہے اور مقدار بھی کم ہے تو محض وہم کی بناء پر آپ پریشان نہ ہو ں۔ آپ کا غسل ،نماز سب درست ہے اگر تولیے پر کوئی خون وغیرہ نہیں لگا ہوا ہو تو تولیہ بھی پاک ہے ۔
حوالہ جات
عن أبي بن كعب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن للوضوء شيطانا يقال له ولهان، فاتقوا وسواس الماء.رواه الترمذي وابن ماجه .(مشكاة المصابيح : 419)
قال العلامة ابن نجیم المصري: الیقین لایزول بالشک. (الأشباه والنظائر:183/1)
(و) كل (ما ليس بحدث) أصلاً بقرينة زيادة الباء كقيء قليل ودم لو ترك لم يسل (ليس بنجس) عند الثاني، وهو الصحيح رفقًا بأصحاب القروح. (الدر المختار: 140/1)
النجاسة :إن كانت غليظةً وهي أكثر من قدر الدرهم ،فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة .وإن كانت مقدار درهم ،فغسلها واجب والصلاة معها جائزة. وإن كانت أقل من الدرهم ،فغسلها سنة وإن كانت خفيفة؛ فإنها لا تمنع جواز الصلاة حتى تفحش. كذا في المضمرات.(الفتاوی الھندیة: 58/1)
محمد مفاز
دارالافتاء، جامعۃ الرشید،کراچی
2 شعبان 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مفاز بن شیرزادہ خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


