03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصے کی حالت میں تین طلاق دینے کا حکم
83630طلاق کے احکامبیمار کی طلاق کا بیان

سوال

میرا بھانجا محمد سعد بچپن سے ہی جنونی کیفیت کا ہے، رمضان میں سعد کا سالہ اپنی بہن سے ملنے کے لیے گھر پر آیا، سعد کے بڑے بھائی نے اس سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا، اس کے جواب دینے پر بہت لڑائی ہوئی، اس پر بڑے بھائی نے ابو کو بھی باتیں سنائی، فائرنگ بھی کی اور گھر میں پیٹرول چھڑک دیا۔ اس پر سعد نے بغیر کسی وجہ کے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، حالانکہ اس بیچاری کا کوئی قصور نہ تھا، سعد کی جنونی کیفیت کا سبب بڑے بھائی کا فائرنگ کرنا اور گھر میں پیٹرول چھڑکنا بنا، سعد کا ایک بیٹا ہے، ابھی چار سال شادی کو ہوئے ہیں۔ اب شریعت کی روشنی میں اس کا حکم بتایے۔

وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ سعد کا دماغی توازن درست ہے اور نفسیاتی اعتبار سے بھی بیمار نہیں ہے، البتہ کبھی کبھی غصے میں آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر طلاق دیتے وقت سعد کا دماغی توازن درست تھا تو اس صورت میں اس کے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینے سے اس کی بیوی  پر  تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، حرمتِ مغلظہ کا مطلب یہ ہے کہ اب فریقین کے درمیان  رجوع نہیں ہو سکتا اور  موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور یہ اہلِ السنة والجماعت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، اس لیے اب ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے،  البتہ اگر یہ عورت  اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے ہی نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ شخص عورت  کے ساتھ ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:

وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

                          الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

14/شوال 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب