| 83646 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
تین آدمیوں یعنی1۔ حمد اللہ ولد ملا قلند ر 2۔ مولوی محمد حنیف ولد ملا قلندر 3۔ ضیاء الدین ولدجمال الدین (یہ اول دونوں کے چچا زادبھائی ہیں) قوم تو خئی ساکنان لورالائی نے مشترکہ ایک دکان واقع صدر بازار لورائی ہوٹل کے کاروبارکے لیے کرایہ پر لیا، اور یہ طے کیا کہ جو منافع حاصل ہو گا وہ تینوں شرکاء پر برابر تقسیم ہو گا، کاروبار کی ابتداء مولوی محمد حنیف نے کی تھی، پھر اپنے بھائی محمداللہ کو شریک کیا، پھر ضیاء الدین کو۔
اس کاروبار کے چلتے چلتے مولوی محمد حنیف بقضاء الہی وفات پاگئے ، جن کے جائز وارث دو سگے بھائی ہیں، 1- حمد اللہ 2۔لطف اللہ ، ان کے اصول اور فروع میں اور کوئی وارث نہیں ہے، بیوی بھی نہیں ہے۔ یہ کاروبار چلتا رہا، اب اس کاروبار میں ضیاء الدین نے مولوی محمد حنیف کا حصہ دینے سے انکار کیا ہے ، کہ ان کی وفات کے ساتھ ہی ان کا حصہ ختم ہو چکا ہے، شریعت کےمطابق اب اس کا کیا حکم ہے؟ کیا واقعتاً مولوی محمد حنیف کے انتقال کے بعد ان کا حصہ ختم ہو چکا ہے ؟ اگر ختم نہیں ہوا تو وہ کس کو اور کس حساب سے ملے گا؟ ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق مولوی محمد حنیف چونکہ کاروبار میں باقاعدہ شریک تھا، بلکہ کاروبار شروع ہی اس نے کیا تھا، اس لیے وہ کاروبار میں اپنے شرعی حصہ کے مطابق زندگی میں حق دار تھا اور اب اس کی وفات کے بعد اس کا شرعی حصہ اس کے ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا، کیونکہ کسی شریک کے وفات پانے سے اگرچہ اس شریک کے ساتھ شرکت کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے، لیکن اس کاروبار میں موجود اس کا مالی حصہ اس کی ملکیت سے ختم ہو کر اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور پھر شرعاً اس کےورثاء ہی اس کے مالک ہوتے ہیں اور اگر چاہیں تو تمام شرکاء کی باہمی رضامندی سے نئے سرے سے شرکت کا معاملہ بھی کر سکتے ہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ وفات پانے والے شریک کی ملکیت ختم ہونے سے اس کے ورثاء بھی حق دار نہیں ہیں۔ بلکہ ضیاء الدین کے ذمہ لازم ہے کہ وہ کاروبار میں موجود مولوی محمد حنیف کا حصہ ان کے شرعی وارث یعنی بھائیوں کے حوالے کرے، نیز وفات کے بعد محمد حنیف کے ورثاء کی اجازت کے بغیر ان کے حصہ سے جو نفع کمایا کیا گیا وہ بھی شرعاً بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا واجب ہے اور اگر یہ نفع ان کے ورثاء کو دے دیا جائے تو بھی جائز ہے، کیونکہ یہ نفع انہی کے مال سے حاصل کیا گیا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگر ضیاء الدین محمد حنیف کے ورثاء کو ان کا حصہ نہیں دے گا یا بلا وجہ ٹال مٹول سے کال لے گا تو وہ سخت گناہگار ہو گا اور قرآن وحدیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہوئی ہیں، چنانچہ حجة الوداع کے خطبہ میں سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید کے ساتھ مسلمانوں کے اموال کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا کہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (1/ 24) دار طوق النجاة:
عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه، ذكر النبي صلى الله عليه وسلم قعد على بعيره، وأمسك إنسان بخطامه - أو بزمامه - قال: «أي يوم هذا»، فسكتنا حتى ظننا أنه سيسميه سوى اسمه، قال: «أليس يوم النحر» قلنا: بلى، قال: «فأي شهر هذا» فسكتنا حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه، فقال: «أليس بذي الحجة» قلنا: بلى، قال: «فإن دماءكم، وأموالكم، وأعراضكم، بينكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، ليبلغ الشاهد الغائب، فإن الشاهد عسى أن يبلغ من هو أوعى له منه»
مجلة الأحكام العدلية (ص: 260، المادة :1352) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
إذا توفي أحد الشريكين أو جن جنونا مطبقا تنفسخ الشركة أما في صورة كون الشركاء ثلاثة أو أكثر فيكون انفساخ الشركة في حق الميت أو المجنون فقط وتبقى الشركة في حق الآخرين.
مجمع الضمانات (ص: 145) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:
ولو استعمل المغصوب بأن كان عبدا فأجره فالأجرة له، ولا تطيب له فيتصدق بها. وكذا لو ربح بدراهم الغصب كان الربح له، ويتصدق به، ولو حل للمالك تناولها كما في الهداية.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
15/شوال 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


