03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلع کی نیت سے کاغذ پرتین طلاقیں لکھ کر دینے کا حکم
83662طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

سوال یہ ہے کہ اگر خلع کے بعد شوہر گھر آکر یا فون پر بیوی کو مخاطب کر کے کہہ دے کہ میں نے تم سے رجوع کیا، تم اب بھی میری بیوی ہو۔ کیا اس سے رجوع ہو جاتا ہے، بیوی کا قبول کرنا ضروری ہےیا نہیں؟ دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنے کا سنا تھا، مجھے علم نہیں کہ اس میں کتنی صداقت ہے؟ نیز اس نے پیپر لکھ کر خلع دیا ہے، جو سوال کے ساتھ منسلک ہے، ازراہ کرام جواب دے کر ممنون فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال کے ساتھ منسلکہ اسٹامپ پیپر پر اگرچہ عنوان خلع نامہ کا دیا گیا ہے، لیکن آگے تحریر میں واضح طور پر تین طلاقیں علیحدہ علیحدہ لکھی گئی ہیں اور شوہر کے اس پر دستخط بھی موجود ہیں، اس لیے منسلکہ تحریر کے مطابق عورت پر  تین طلاقیں واقع ہوکر فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے  اور اس پر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، حرمتِ مغلظہ کا مطلب یہ ہے کہ اب فریقین کے درمیان  رجوع نہیں ہو سکتا اور  موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور یہ جمہور امت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، جس پر قرآن وسنت میں واضح دلائل موجود ہیں،  اس لیے اب ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے،  البتہ اگر یہ عورت  اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے ہی نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد گواہوں کی موجودگی میں فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، اس كے علاوهکسی صورت میں نکاح جائز نہیں۔

نیز اگربالفرض فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے خلع کا معاملہ ہوا ہوتا تو بھی صرف رجوع کافی نہیں تھا، بلکہ خلع واقع ہونے کے بعد فریقین کا نئے مہر کے ساتھ باقاعدہ نکاح کرنا ضروری ہے، کیونکہ خلع طلاق بائن کے حکم میں ہوتا ہے، جس سے نکاح ختم ہو جاتا ہے۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (3/ 168، رقم الحدیث: 2639) دار طوق النجاة:

حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها: جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فأبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب، فقال: «أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك»

حاشية ابن عابدين (3/ 304)ايچ ايم سعيد، كراچي:

 (قوله فواحدة ديانة) لاحتمال قصده التأكيد كأنت طالق طالق فتح (قوله وثلاث قضاء) لأنه يكون ناويا بكل لفظ ثلث تطليقة، وهو مما لا يتجزأ فيتكامل فيقع الثلاث بحر عن المحيط. قال في الفتح: والتأكيد خلاف الظاهر، وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.

تبيين الحقائق (2/ 198) دار الكتب الإسلامي:

لو قال لها أنت طالق ونوى به الطلاق عن وثاق لم يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى لأنه خلاف الظاهر والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 335) دار الكتب العلمية، بيروت:

قال علماؤنا رحمهم الله: الخلع طلاق بائن ينتقص به من عدد الطلاق، به ورد الأثر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وعن عمر وعلي وابن مسعود رضي الله عنهم.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

21/شوال المکرم 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب