03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح پڑھانے والے کا عورت کو پہچاننا ضروری نہیں
83671نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں نے ایک شخص کے ساتھ فون پر نکاح کیا، اُس مرد کے پاس ۲ گواہ ،ایک مفتی اور ایک وہ آدمی خود تھا مرد کی طرف مجلس ایک تھی، جبکہ ہم ایک ہی شہر میں تھے، پھر بھی ہم نے فون پر نکاح کیا، مجھے اپنا وکیل اُن مفتی صاحب کو کرنا تھا جو اُس وقت نکاح پڑھا رہا تھا ۔ جب مفتی صاحب نے مجھ سے اجازت کے لئے فون پر بات کرنا چاہی، مجھے معلوم تھا کہ ابھی وہ  مجھ سے ایجاب و قبول کے لئے بات کرنا چاہتے ہیں تو میں نے نکاح نہ کرنے کے ارادے سے اپنی بھانجی کو فون دے دیا ۔ اور اس کو کہا کے میری جگہ تم بولو اور مجھ سے دور لے جاؤ، تا کہ میرے کان میں آواز بھی نہ  آئے اس نے میری جگہ عائشہ بن کر نکاح کا  اختیار دے دیا ۔ اس نے مجھ سے اس شرط پر نکاح کیا کہ اگر کہیں اور رشتہ آئے گا تو میں تمہاری شادی کے تین ماہ پہلے طلاق دے دوں گا ۔نیزجن مفتی صاحب کو میں نے اپنا وکیل بنایا نہ وہ مجھے جانتے تھے نہ میں ان کو جانتی تھی۔

وضاحت: سائلہ نے فون پربتایا کہ طلاق دینے والی شرط نکاح کے وقت نہیں لگائی گئی تھی۔ باقی میں نے پہلے اپنی بھانجی سے کہا تھا کہ تم میری طرف سے یا میری جگہ بات کرنا، پھر جب مفتی صاحب کا فون آیا تو میں نے کہا تم میری جگہ بولو، مفتی صاحب نے اس سے پوچھا آپ عائشہ (جبکہ بھانجی کا نام عائشہ نہیں تھا، بلکہ یہ میرا نام ہے) بات کر رہی ہو تو اس نے کہا جی! پھرانہوں نے پوچھا کیا تم اپنی ذات پر مجھے اختیار دیتی ہو؟ تو اس نے جواب دیا جی ہاں! پھر مفتی صاحب نے میرا  اور میرے  والد کا نام لے کر نکاح پڑھا دیا۔اس کے بعد جب مجھے نکاح کی خبر پہنچی تو میں نے خاموشی اختیار کی اور ایک بارہمارے درمیان ازدواجی تعلقات بھی قائم ہوئے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق مفتی صاحب کے سامنے آپ کی بھانجی  کا یہ کہنا کہ میں عائشہ بات کر رہی ہوں  یہ غلطی بیانی  اور خلاف حقیقت بات تھی، جس سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوا، اور پھر اس کا اپنے نفس پر مفتی صاحب کو نکاح کا اختیار دینا  اپنی طرف سے نکاح کا وکیل بنانا تھا، کیونکہ مفتی صاحب اسی کی ذات سے مخاطب تھے،  لہذا اس کے بعد اگر مفتی صاحب اس کا نام لے کر نکاح پڑھا دیتے تو شخصِ مذکور سےاس کا نکاح منعقد ہو جاتا، مگر چونکہ مفتی صاحب نے آپ اور آپ کے والد کا نام لے کر نکاح پڑھایا، جبکہ آپ نے ان کو اپنے نکاح کا وکیل نہیں بنایا تھا، اس لیے یہ فقہی اعتبار سے فضولی شخص کا نکاح پڑھانا ہوا، جس کا حکم یہ ہے کہ یہ نکاح آپ کی اجازت پر موقوف  تھا، لہذا نکاح کی خبر ہونے پر اگر آپ اس نکاح کو رد کر دیتی تو نکاح منعقد نہ ہوتا، لیکن جب آپ نے خاموشی اختیار کی اور پھر اس کے بعد اس شخص کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کر لیے تو عملی طور پر اجازت دینے سے نکاح منعقد ہو گیا، لہذا اب آپ کا اپنے شوہر سے طلاق یا باہمی رضامندی سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا ہرگز جائز نہیں۔

باقی نکاح کے درست ہونے کے لیے دادا کا نام لینا ضروری نہیں، اسی طرح ان کا ذاتی طور پر بھی آپ سے واقف ہونا شرط نہیں، بلکہ نکاح کے درست ہونے کے لیے صرف عورت کی ذات کا متعین اور معلوم ہونا ضروری ہے، جس کے لیے نکاح پڑھاتے وقت عورت کا نام اور اس کی ولدیت ذکرکرنایا کسی اور طریقہ سے عورت کی تعیین کر دینا بھی  کافی ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 97) دار الفكر-بيروت:

الفضولي من يتصرف لغيره بغير ولاية ولا وكالة أو لنفسه، وليس أهلا وإنما زدناه أي قوله أو لنفسه ليدخل نكاح العبد بلا إذن إن قلنا إنه فضولي، وإلا فهو ملحق به في أحكامه اهـ والصبي كالعبد وإنما قال من يتصرف لا من يعقد ليدخل اليمين، كما لو علق طلاق زوجة غيره على دخول الدار مثلا، فإنه يتوقف على إجازة الزوج، فإن أجاز تعلق.

حاشية ابن عابدين على الدر المختار (3/ 26) دار الفكر-بيروت:

 (قوله: لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط خلافا لابن الفضل وعند الخصاف يكفي مطلقا والظاهر أنه في مسألتنا لا يصح عند الكل؛ لأن ذكر الاسم وحده لا يصرفها عن المراد إلى غيره، بخلاف ذكر الاسم منسوبا إلى أب آخر، فإن فاطمة بنت أحمد لا تصدق على فاطمة بنت محمد تأمل، وكذا يقال فيما لو غلط في اسمها (قوله: إلا إذا كانت حاضرة إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشارا إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية، لما في التسمية من الاشتراك لعارض فتلغو التسمية عندها.

قال العلامة الحصكفي  في الدر:ولو له بنتان أراد تزويج الكبرى فغلط فسماها باسم الصغرى صح للصغرى خانية.

قال ابن عابدين: قوله: ولو له بنتان إلخ) أي بأن كان اسم الكبرى مثلا عائشة والصغرى فاطمة. فقال زوجتك بنتي الكبرى فاطمة وقبل صح العقد عليها، وإن كانت عائشة هي المرادة وهذا إذا لم يصفها بالكبرى، أما لو قال زوجتك بنتي الكبرى فاطمة ففي الولوالجية: يجب أن لا ينعقد العقد علىإحداهما: لأنه ليس له ابنة كبرى بهذا الاسم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 242) دار الفكر-بيروت:

(قوله فكالنكاح) أي فكما أن نكاح الفضولي صحيح موقوف على الإجازة بالقول أو بالفعل فكذا طلاقه ح.

الفتاوى الهندية (1/ 268) دار الفكر،بيروت:

رجل قال لقوم: اشهدوا أني تزوجت هذه المرأة التي في هذا البيت فقالت المرأة: قبلت فسمع الشهود مقالتها ولم يروا شخصها فإن كانت في البيت وحدها جاز النكاح.

  مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 320) دار إحياء التراث العربي:

ولا يشترط معرفة الشاهدين للمرأة ولا رؤية وجهها فلو سمعا صوتها من بيت لم يكن فيه غيرها جاز وإلا فلا، وكذا لو كانت متنقبة جاز وهو المختار والاحتياط حينئذ أن تكشف وجهها، أو يذكر أبوها وجدها وتنسب إلى المحلة إلا إذا كانت معروفة عند الشهود وعلم الشهود أنه أراد تلك المرأة لا غير.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 19) دار الكتب العلمية، بيروت:

وفي «البقالي» : إذا لم ينسبها الزوج ولم يعرفها الشهود وسِعَهُ فيما بينه وبين ربِّه. وفيه أيضاً: إذا قال: المرأة التي في هذا البيت جاز إن كانت وحدها وإن كانت المرأة حاضرة إلا أنها متنقبة لا يعرفها الشهود فقال الرجل: تزوجت هذه، وقالت المرأة زوجت جاز، هو المختار۔

الفتاوى الهندية (1/ 270) دار الفكر،بيروت:

(ومنها) أن يكون الزوج والزوجة معلومين فلو زوج بنته وله بنتان لا يصح إلا إذا كانت إحداهما متزوجة فينصرف إلى الفارغة.

لسان الحكام لابن الشحْنة الحلبي (المتوفى: 882هـ) (ص: 316) البابي الحلبي – القاهرة:

ولو كان له بنتان اسم الكبرى عائشة واسم الصغرى فاطمة فقال زوجت بنتي فاطمة منك ينعقد النكاح على الصغرى وإن كان يريد تزويج الكبرى ولو قال زوجت بنتي الكبرى فاطمة يجب أن لا ينعقد النكاح على إحداهما.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 91) دار الكتاب الإسلامي:

فلو كان له بنتان كبرى واسمها عائشة وصغرى اسمها فاطمة فأراد تزويج الكبرى فغلط فسماها فاطمة انعقد على الصغرى فلو قال: فاطمة الكبرى لم ينعقد لعدم وجودها.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/شوال المکرم 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب