03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈاڑھی رکھنے کامسنون طریقہ
82891جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

بعض  لوگوں  کو  دیکھا جاتا  ہے کہ  ڈاڑھی میں   کھینچی  مارتے  رہتے ہیں ،  تو سوال یہ ہے کہ ڈاڑھی رکھنے  کا مسنون  طریقہ کیا ہے ،اس کو  کھینچی  سے کاٹنا جائز ہے  یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کنپٹی  کے نیچے جو ابھری  ہوئی ہڈی ہے ۔ یہاں سے  ڈاڑھی شروع ہوجاتی  ہے ، اس سے  اوپر سر ہے ، سر منڈانا  جائز ہے۔جبڑے کی ہڈی پر جو بال  ہوں  ان کو   ڈاڑھی کہاجاتا  ہے، تینوں جانب  سے ایک مٹھی ڈاڑھی  رکھنا واجب  ہے ایک مٹھی سے کم کرنا حرام ہے ۔ایک مٹھی  سے  زائد بالوں کو کاٹنا مستحب ہے ،اسی طرح  ریش بچی یعنی  تھوڑی  پر  اگنے والے بال   بھی داڑھی میں شامل ہیں،  ان کو کاٹنا اور  صاف کرنا بھی جائز نہیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 100)

ظاهر كلامهم أن المراد بها الشعر النابت على الخدين من عذار وعارض والذقن.

وفي شرح الإرشاد: اللحية الشعر النابت بمجتمع الخدين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن، يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض بحر.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 407)

(قوله والسنة فيها القبضة) وهو أن يقبض الرجل لحيته فما زاد منها على قبضة قطعه كذا ذكره محمد في كتاب الآثار عن الإمام، قال وبه أخذ. محيط اهـ ط.

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

١۸رجب  ١۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب