| 82892 | نماز کا بیان | فرض نماز پانے کا بیان |
سوال
اگر بریلوی امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی ضرورت پڑھے ،تو کیاکرنا چاہئے پڑھ لینا چاہئے یا جماعت چھوڑ کر اپنی نماز الگ سے پڑھیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اہل بدعت میں سے جن کے عقائد حد شرک تک پہنچ چکے ہوں ان کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی ،اور جو اہل بدعت صرف عملی بدعت میں مبتلا ہوں اور عقائد درست ہوں صرف تیجہ چالیسواں جیسی بدعات میں مبتلا ہوں ان کی امامت مکروہ تحریمی ہے ،لہذا جب تک صحیح العقیدہ متبع سنت امام میسر ہو تو بدعتی کی اقتدا میں نماز نہ پڑھی جائے ،البتہ مجبوری میں ترک جماعت کی بجائے اس کی اقتدا ء میں نماز پڑھ لینی چاہئے ،لیکن اس کی مستقل عادت نہ بنائے بلکہ متبادل صحیح العقیدہ امام کا انتخاب کرکے وہاں نماز پڑھا کریں ﴿ ماخوذ از احسن الفتاوی ج3/ص 290﴾
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 560)
وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا، ولا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة، فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال، بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم لما ذكرنا قال: ولذا لم تجز الصلاة خلفه أصلا عند مالك ورواية عن أحمد، فلذا حاول الشارح في عبارة المصنف وحمل الاستثناء على غير الفاسق، والله أعلم.
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
١۸رجب ١۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


