| 83667 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
حضرت مفتی صاحب،زید کی ایک جگہ رشتہِ کی بات چلی، اسی دوران دونوں خاندانوں کے درمیان ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہوا۔جب لڑکا اور لڑکی کے گھر والے مطمئن ہوگئے ،اُس کے بعد لڑکے اور لڑکی کی مختصر ملاقات تقریبا پانچ سات منٹ کرائی گئی،لڑکے کی بہنوں کی موجودگی میں۔اسی دوران لڑکے نے دو تین جھلک لڑکی کو دیکھ بھی لیا۔
جب رخصتی ہوگئی اور لڑکی نے میکپ ہٹایا تو لڑکا انتہائی غمگین ہوا۔(مسجد جا کر پھوٹ پھوٹ کر رویا)۔اس لئے کہ لڑکی نے ہر بارجب بھی لڑکے والوں کا آنا جانا ہوا میکپ کر رکھا تھا اور گھر والے بھی اس کی اصل رنگت کا اندازہ نہیں لگا سکے۔لڑکی کے میکپ سے اسکی رنگت یکساں گوری ہوجاتی ہے، جبکہ حقیقت اس کے بلکل بر عکس ہے، یہ بات لڑکے کے گھر والوں نے رخصتی کے بعد جب لڑکی نے نماز پڑھنے کیلئے میکپ ہٹایا، نوٹ کر لی تھی اور لڑکے کی والدہ اپنے کمرے میں جاکر روئیں، مگر انہوں نے اپنے بیٹے سے کچھ نہیں کہا یہ سوچتے ہوئے کہ اگر بیٹا مطمئن ہو جاتا ہے تو یہ رشتہ چلتا رہے ۔اسی طرح بیٹے نے اپنے والدین کو کچھ نہیں بتایا۔صرف اپنی بڑی بہن کو بتایا، جنہوں نے بھائی کو تسلی دی۔
اسی طرح اسکی قد قامت اُسکے BioData میں"5.2 بتائی گئی،جبکہ اسکا قد0 .5 فٹ یا اس سے بھی کچھ کم ہے۔شادی کو ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے اور ایک بیٹی بھی ہوگئی۔لیکن انتہائی پریشانی کی صورتحال ہے۔زیدکا لڑکی کی طرف دل مائل نہیں ہوتا۔دل غمگین اور رنجیدہ رہتا ہے۔یہاں تک کہ بیوی اپنے میکے جاتی ہے تو نسبتاً ایک سکون سا محسوس کرتا ہے۔ اسی وجہ سے لڑکا بھی اپنی بیوی کو وہ توجہ نہیں دیپا تا، جیسے ہونا چاہیے اور اس کی شکایت لڑکی کو بار بار ہوتی ہے جو کہ غلط نہیں ہے۔
اب یہ نہیں پتہ کہ ایسا لڑکی کے گھروالوں نے جان بوجھ کر کیا، یعنی اسکو میکپ میں دکھایا، یہاں تک کہ اسکی رنگت ہی بلکل بدل گئی،قدبھی غلط لکھا۔عمر 25 کے بجائے 23 لکھی، لڑکے نے ان کے بتائے ہوئے ڈیٹا پر اعتماد کرتے ہوئے مزید تحقیق نہیں کی اور جب لڑکی کو دیکھنے گیا تو لڑکی ایک صوفے پہ بیٹھی ہوئی تھی۔اس وجہ سے بھی قد کا اندازہ نہیں کرسکا۔
لڑکی کے گھروالے اچھے ہیں ،خیال کرنے والے اورعزت دینے والے ہیں۔لڑکی میں بھی کچھ خوبیاں بھی ہیں،اخلاق و فرمانبرداری کے حوالے سے شکایت نہیں ہے۔تحفے بھی دیتی ہے ۔
اسی طرح لڑکے نے بھی شادی کے پہلے دن سے کوشش کی، کسی کو پتہ نہیں چلنے دیا اور ایسا ہی سب کو دکھایا گویا کہ زندگی اچھی گزر رہی ہے۔انتہائی غمگین ہونے کے باوجود لڑکی کو گھمایا بھی،کبھی اُس پر سختی نہیں کی،نہ نان نفقہ میں کمی کی۔اُس کے والدین سے یہ دیگر سہیلیوں اور احباب سے ملنے ملانے کا بھی بھرپور موقع دیا۔گپ شپ بھی چلتی رہی۔لیکن آخر کہاں تک یہ مصنوعی خوشی سامنے رہتی اور لڑکی کو شکایت ہونا شروع ہوگئی کہ آپکا رویّہ میرے ساتھ بدل گیا ہے ۔
شادی کے سوا سال بعد جب مسئلے بڑھنے لگے لڑکی کو شکایتیں زیادہ ہونے لگیں تو یہ سارے معاملات لڑکی اور اس کے گھر والوں کے سامنے رکھے گئے کہ مسئلے مسائل کی اصل وجہ کیا ہے؟لڑکی بھی اپنے گھر بار بار پریشان ہو کر جاتی رہتی ہے، کبھی تین ہفتے کے لیے کبھی دو مہینے کے لیے اور پریشان ہی رہتی ہے اور یہ شکایت رہتی ہیں کہ اگر کبھی باہر کھانا کھانے یا گھومنے کی غرض سے جاتے بھی ہیں تو محض ایک فارملٹی/رسمی کے طور پر ساری چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں اور اس میں پیاراورمحبت والا عنصر نہیں پایا جاتا۔
آخر میں بات وہی آتی ہے کہ دل مائل نہیں ہوتا،اور اللہ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لئے سکون کا باعث جو بتایا ہے وہ محسوس نہیں ہوتا۔ہر وقت ایک مایوسی اور غم کی کیفیت طاری رہتی ہے۔غرض یہ کہ لڑکا اور لڑکی دونوں ہی پریشان ہیں۔۔لڑکی نے بھی کوششیں کی اور لڑکا بھی کوششیں کرتا رہا، لیکن زندگی میں خوشی اور سکون نہیں ہے۔اب لڑکا اس رشتے کو ختم کرنا چاہتا ہے،آپ سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔کیا ایسی صورت حال میں لڑکا طلاق دینے سے گنہگار ہوگا؟
2۔ طلاق دینے کا شرعی طریقہ عرض کردیں اور یہ بھی بتادیں کہ لکھ کر دی جائے یا زبانی اور کن الفاظ سے دی جائے جس میں کم سے کم تکلیف محسوس ہو ؟ اور کیا اس میں گواہ بنانا ضروری ہے ؟
3۔اگر کوئی عورت پچھلے ڈھائی مہینے سے اپنے میکے میں ہو اور اگر اس دوران اس کو طلاق ہوجائے تو وہ عدت کہاں گزارے گی؟ جبکہ اُس کے شوہر کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہوں(کوئی ظلم نہیں ہوتا، لیکن ایک ساتھ رہنا کوئی خوشگوار نہیں ہوتا)۔کیا وہ اپنےمیکے میں ہی عدت گزار سکتی ہے؟ جبکہ شوہر کی اجازت نہیں ہو میکے میں عدت گزارنے کی، تاکہ وہ اپنی آٹھ ماہ کی بیٹی سے دور نہیں رہے؟
4۔عدت کے دوران میاں بیوی کا پردہ ہوگا ؟اور کیا وہ بات چیت کرسکتے ہیں؟ تفصیل بتادیں۔
5۔طلاق کے بعد بیٹی(جو اس وقت آٹھ ماہ کی ہے ) کی تربیت کا حق کس کے پاس ہے؟
6۔ بیٹی کی تعلیم و تربیت یا دوسرے اہم امور سے متعلق فیصلوں کا اختیار کس کے پاس ہوگا ؟
7۔ بیٹی ماں کے پاس رہے گی یا باپ کے پاس؟ تفصیل عرض کردیں۔
8۔ طلاق کے بعد بچوں سے ملنے اور ان کو اپنے گھر لے جانے کےمتعلق شریعت نے والد کو کیا حقوق دیے ہیں؟ اور اگر طلاق کے بعد بیوی یا اُس کے گھر والے والد کو اس کی بیٹی سے نہیں ملنے دیں یا اپنے گھر ملنے کے لیے نہ لے جانے دیں۔ اس بارے میں بھی تفصیل بتا دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ سوال کے جواب سے پہلے بطور تمہید جاننا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: اس کی مالداری، اس کے حسب ونسب، اس کے حسن وجمال اور اس کی دینداری کی وجہ سے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں تو دیندار عورت کے ساتھ نکاح کر کے کامیابی حاصل کر۔ بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا:"عليك بذات الدين" یعنی تجھ پر لازم ہے کہ تو دیندار عورت سے نکاح کر۔
ایک اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی شخص رشتہ کے لیے آئے اور تمہیں اس کی دینداری اور اخلاق پسند آ جائیں تو اس کا نکاح کر دو، اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بہت زیادہ فتنہ اور فساد ہوگا۔
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے نکاح میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز اس کا دیندار اور صاحب اخلاق ہونا ہے، جبکہ ہمارے معاشرے میں نکاح کے معاملات میں عام طور پر ان دو چیزوں کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ حسن وجمال، مالداری اور دنیوی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے اورپھردینداری نہ ہونے کی وجہ سےنتیجہ طلاق تک پہنچتا ہے، اسی لیے طلاق کی شرح آئے دنوں بہت زیادہ ہوتی جا رہی ہے اور ایک عورت کو طلاق ہونے سے دو خاندانوں کے درمیان نفرت، عداوت، قطع تعلقی، ایک دوسرے پر لعن طعن اور غیبتوں کی فضا جنم لیتی ہے اور یہی وہ بڑا فساد ہے جس کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ حدیث میں اشارہ فرمایا ہے۔ اس لیے اگر آپ اپنی بیوی کی دینداری اور اخلاق سے مطمئن ہیں، جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ صرف رنگت کی وجہ سے اس کو طلاق نہ دیں، کیونکہ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ اسی لیے شیطان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا کے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے آپ کو ایک بیٹی بھی عطا فرمائی ہے، اور آپ دونوں کے علیحدگی کے بعد دوسری جگہ شادی کرنے سے اس بچی کا مستقبل تباہ ہو کر رہ جائے گا، کیونکہ علیحدگی کے بعد یہ بچی باپ یا ماں کے سایہ سے زندگی بھرمحروم رہے گی۔ نیزاس کو چھوڑ کر دوسری عورت اگر بالفرض خوبصورت ہو گی تو اس میں یہ بھی امکان ہے کہ اس میں یہ اخلاق اور صفات موجود نہ ہوں، جس کے نتیجے میں گھر کا سکون برباد ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اگر کوئی وجہ موجود نہیں ہے تو اپنی بچی کی خاطر اس کی ماں کو طلاق نہ دیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ آپ کے دل میں اس کی محبت پیدا ہو جائے۔ البتہ اگر آپ کا اس کے ساتھ دل بالکل نہیں لگ رہا تو شریعت نے آپ کو دوسری شادی کا اختیار دیا ہے، آپ دوسری شادی کرلیں اور شریعت کے مطابق دونوں کے حقوق ادا کرتے رہیں تو ان شاء اللہ زندگی میں بھی سکون آ جائے گا۔ باقی مذکورہ صورت میں طلاق دینے سے آپ گناہ گار تو نہیں ہوں گے، لیکن اللہ کی نظر میں ایک ناپسندیدہ کام کے ضرور مرتکب ہوں گےاوربچی کی جدائی وغیرہ کی پریشانی علیحدہ ہو گی۔
سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 62) دار الرسالة العالمية،بيروت:
عن أبي هريرة، أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "تنكح النساء لأربع: لمالها، ولحسبها، ولجمالها، ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك"
صحيح مسلم (2/ 1087) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
عن عطاء، أخبرني جابر بن عبد الله، قال: تزوجت امرأة في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلقيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: «يا جابر تزوجت؟» قلت: نعم، قال: «بكر، أم ثيب؟» قلت: ثيب، قال: «فهلا بكرا تلاعبها؟» قلت: يا رسول الله: إن لي أخوات، فخشيت أن تدخل بيني وبينهن، قال: «فذاك إذن، إن المرأة تنكح على دينها، ومالها، وجمالها، فعليك بذات الدين تربت يداك»
سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 141) دار الرسالة العالمية،بيروت:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "إذا أتاكم من ترضون خلقه ودينه فزوجوه، إلا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد عريض"
2۔ طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ عورت کے پاکی کے زمانے میں صریح الفاظ میں ایک طلاق دے دی جائے اور پھر عدت کے دوران اس سے رجوع نہ کیا جائے تو عدت مکمل ہونے پر نکاح ختم ہو جائے گا، اوراگر عدت کے اندر رجوع کا اندیشہ ہو تو پھر ایک طلاقِ بائن (یہ طلاق کی ایک قسم ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ یوں کہہ دیں کہ میں نے اس کو ایک طلاق ِ بائن دی) دے دیں تو فورا نکاح ختم ہو جائے گا۔ تین طلاقیں نہ دیں، تاکہ دوبارہ نکاح کی گنجائش باقی رہے۔ باقی لکھ کر اور زبانی دونوں طرح طلاق دینا درست ہے، بہتر یہ ہے کہ لکھ کر دیں، تاکہ ریکارڈ میں رہے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 88) دار الكتب العلمية:
إذا عرف هذا فنقول وبالله التوفيق أحسن الطلاق في ذوات القرء أن يطلقها طلقة واحدة رجعية في طهر لا جماع فيه ولا طلاق ولا في حيضة طلاق ولا جماع ويتركها حتى تنقضي عدتها ثلاث حيضات إن كانت حرة وإن كانت أمة حيضتان، والأصل فيه ما روي عن إبراهيم النخعي - رحمه الله - أنه قال كان أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يستحسنون أن لا يطلقوا للسنة إلا واحدة ثم لا يطلقوا غير ذلك حتى تنقضي العدة.
لسان الحكام (ص: 324) البابي الحلبي - القاهرة:
اعلم أن الطلاق ينقسم إلى أحسن الطلاق وإلى طلاق السنة وإلى طلاق البدعة فأحسنه أن يطلق الرجل امرأته طلقة واحدة في طهر لم يجامعها ويتركها حتى تنقضي عدتها.
3۔ طلاق کے بعد عورت کااپنے شوہر کے گھرمیں ہی عدت گزارنا ضروری ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر اس کا حکم دیا ہے، لہذا عورت کا عدت کے زمانے میں اپنے والدین کے گھر ٹھہرنا جائز نہیں، البتہ شوہر پر لازم ہے کہ وہ اس کے لیے پردے وغیرہ کا اس طرح انتظام کرے کہ گھر کے مرد حضرات کے ساتھ خلوت اور بے پردگی وغیرہ کا اندیشہ نہ ہو۔
تحفة الفقهاء (2/ 249) دار الكتب العلمية، بيروت:
فإن كانت عن طلاق ينبغي لها أن لا تخرج من بيتها ليلا ولا نهارا بل يجب عليها السكنى في البيت الذي تسكن فيه وأجر السكنى والنفقة على الزوج. وأصله قوله تعالى و
{لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة}
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 205) دار الكتب العلمية:
أما في الطلاق الرجعي فلقوله تعالى {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [الطلاق: 1] قيل في تأويل قوله عز وجل {إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [الطلاق: 1] إلا أن تزني فتخرج لإقامة الحد عليها، وقيل: الفاحشة هي الخروج نفسه أي إلا أن يخرجن فيكون خروجهن فاحشة، نهى الله تعالى الأزواج عن الإخراج والمعتدات عن الخروج وقوله تعالى {أسكنوهن من حيث سكنتم} [الطلاق: 6] والأمر
بالإسكان نهي عن الإخراج والخروج ولأنها زوجته بعد الطلاق الرجعي لقيام ملك النكاح من كل وجه فلا يباح لها الخروج كما قبل الطلاق إلا أن بعد الطلاق لا يباح لها الخروج وإن أذن لها بالخروج بخلاف ما قبل الطلاق.
4۔ طلاق رجعی کے بعد عدت کے اندر فی نفسہ نکاح باقی رہتا ہے، اس لئے عدت میں شوہر سے پردہ بھی نہیں ہوتا اور بات کرنا بھی جائز ہوتا ہے، لیکن اگرطلاق رجعی کے بعد عدت کے اندر رجوع کا ارادہ نہ ہو اور طلاق بائن کے بعد مطلقا شوہر اجنبی شخص کے حکم میں ہوتا ہے، اس لئے ایسی صورت میں سابقہ شوہر سے بھی پردہ کا اہتمام کرنا چاہیے اورصرف ضرورت کے بقدر اتنی بات کرنے کی گنجائش ہے، جتنی بات کرنے کی گنجائش ضرورت کے وقت ایک اجنبی سے کرنے کی ہوتی ہے، بلا ضرورت گپ شپ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 537) دار الفكر-بيروت:
’’ (ولا بد من سترة بينهما في البائن) لئلا يختلي بالأجنبية، ومفاده أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة.
(قوله: ولا بد من سترة بينهما في البائن) وفي الموت تستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها هندية. وظاهره أن لا سترة في الرجعي، وقول المصنف الآتي: ومطلقة الرجعي كالبائن يفيد طلب السترة فيه أيضا، ويؤيده ما تقدم في باب الرجعة أنه لا يدخل على مطلقة إلا أن يؤذنها ثم الظاهر ندب السترة فيه لكونها ليست أجنبية ويحرر ط.
قلت: وقدمنا عن الجوهرة ما يفيد عدم لزوم السترة في الرجعي ولو الزوج فاسقا لقيام الزوجية وإعلامها بالدخول لئلا يصير مراجعا وهو لا يريدها، فلا يستلزم وجوب السترة بعد الدخول، نعم لا مانع من ندبها.‘‘
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 408) دار الفكر-بيروت:
(قوله: والمطلقة الرجعية تتزين) لأنها حلال للزوج لقيام نكاحها والرجعة مستحبة والتزين حامل عليها فيكون مشروعا بحر (قوله: ويحرم ذلك في البائن والوفاة) أما في البائن فلحرمة النظر إليها وعدم مشروعية الرجعة، وأما في الوفاة فلوجوب الإحداد أفاده في البحر (قوله: لفقد العلة) وهي الحمل على المراجعة ط (قوله: وإلا) بأن كانت تعلم أنه لا يراجعها لشدة بغضها بحر (قوله: ذكر مسكين) أي ذكر قوله إذا كانت الرجعة مرجوة إلخ أقره في البحر وغيره (قوله: للنهي المطلق) أي في قوله تعالى {لا تخرجوهن من بيوتهن} [الطلاق: 1] نزل في المطلقة رجعية والنهي عن الإخراج مطلق شامل لما دون سفر (قوله: ما لم يشهد على رجعتها) لعل الأولى ما لم يراجعها لأن الإشهاد مندوب فقط ط أي
فلا يحسن جعل الإشهاد غاية لحرمة الإخراج لأنها تنتهي بالرجعة مطلقا. وذكر في الفتح أن مقتضى ما في الهداية قصر كراهة المسافرة والخلوة أيضا عند عدم قصد المراجعة على تقدير ما إذا لم يراجعها بعد ذلك في العدة لأنه تبين أنها لم تكن أجنبية لأن الطلاق لم يعمل عمله. والأوجه تحريم السفر مطلقا لإطلاق النص في منعه دون الخلوة لعدم النص فيها اهـ ملخصا فافهم.
5۔ طلاق کے بعد شرعی اعتبار سے بچی کی پرورش کا سب سے پہلے حق ماں کو حاصل ہے، لہذا ظاہر الروایہ (فقہ حنفی کی بنیادی چھ کتب) کے مطابق بالغ ہونے تک بچی ماں کے زیرِتربیت رہے گی اور ہمارے اکابر علمائے کرام نے اس کے مطابق فتاوی بھی جاری کیے ہیں،[1] بشرطیکہ اس دوران ماں کوئی ایسی ملازمت اختیارنہ کرے کہ جس کی وجہ سے بچی کی تربیت میں خلل واقع ہوتا ہو، ورنہ ماں کا حقِ پرورش ساقط ہو جائے گا۔اس کے بعد بچی کی ماں کو حقِ پرورش حاصل ہو گا، اس کے بعددادی کو، پھر بہن کو، پھر خالہ کو اور پھر پھوپھی کو حقِ حضانت حاصل ہو گا۔ اگر ان میں سے کوئی نہ ہو یا یہ سب خواتین بچی کی پرورش کرنے سے انکار کر دیں تو ایسی صورت میں باپ کو حقِ پرورش حاصل ہو گا۔
یہ بھی واضح رہے کہ ان خواتین کے پاس پرورش کے مکمل دورانیے میں بچی کے کھانے پینے، علاج معالجے اور تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات بچی کا باپ برداشت کرے گا، کیونکہ نابالغ بچوں کی کفالت اور نان ونفقہ برداشت کرنا باپ کی ذمہ داری ہے، اگر بالفرض اس دوران باپ خرچہ نہ دے یا وہ بچی کو اپنے قبضہ میں لینے کی کوشش کرے تو ماں عدالت سے رجوع کر سکتی ہے اور عدالت قانون کے مطابق بچی کی تربیت کا فیصلہ ماں کے حق میں کر دے گی اور بچی کا ماہانہ خرچہ بھی باپ کے ذمہ لازم کردے گی۔
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 184) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:
(قوله وبها حتى تحيض) أي: الأم والجدة أحق بالصغيرة حتى تحيض؛ لأن بعد الاستغناء تحتاج إلى معرفة آداب النساء والمرأة على ذلك أقدر وبعد البلوغ تحتاج إلى التحصين والحفظ والأب فيه أقوى وأهدى وبه علم أنه لو قال حتى تبلغ لكان أولى وعن محمد أنها تدفع إلى الأب إذا بلغت حد الشهوة لتحقق الحاجة إلى الصيانة قال في النقاية وهو المعتبر لفساد الزمان، وفي نفقات الخصاف وعن أبي يوسف مثله، وفي التبيين وبه يفتى في زماننا لكثرة الفساد، وفي الخلاصة وغياث المفتي والاعتماد على هذه الروايات لفساد الزمان.
فالحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية فقد صرح في التجنيس بأن ظاهر الرواية أنها أحق بها حتى تحيض واختلف في حد الشهوة، وفي الولوالجية وليس لها حد مقدر؛ لأنه يختلف باختلاف حال المرأة، وفي التبيين وغيره وبنت إحدى عشرة سنة مشتهاة في قولهم جميعا وقدره أبو الليث بتسع سنين وعليه الفتوى اھ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 566) دار الفكر-بيروت:
(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا.
وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا زيلعي.
(وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي. وأفاد أنه لا تسقط الحضانة بتزوجها ما دامت لا تصلح للرجال إلا في رواية عن الثاني إذا كان يستأنس. كما في القنية.
قال ابن عابدين: (قوله: كذلك) أي في كونها أحق بها حتى تشتهى. (قوله: وبه يفتى) قال في البحر بعد نقل تصحيحه: والحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 567) دار الفكر-بيروت::
"(ولا خيار للولد عندنا مطلقًا) ذكرًا كان، أو أنثى خلافًا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيًا للمنية، وأفاده بقوله: (بلغت الجارية مبلغ النساء، إن بكرًا ضمها الأب إلى نفسه) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها (وإن ثيبًا لا) يضمها (إلا إذا لم تكن مأمونةً على نفسها) فللأب والجد ولاية الضم لا لغيرهما كما في الابتداء، بحر عن الظهيرية.
(والغلام إذا عقل واستغنى برأيه ليس للأب ضمه إلى نفسه) إلا إذا لم يكن مأمونًا على نفسه فله ضمه لدفع فتنة، أو عار، وتأديبه إذا وقع منه شيء، ولا نفقة عليه إلا أن يتبرع، بحر". فقط واللہ اعلم
6۔ بچی کی تعلیم وتربیت اور علاج معالجہ کے حوالے سے اہم فیصلوں کا اختیار باپ کو ہو گا، مثلا کون سے مدرسہ یا اسکول میں بچی کو پڑھانا ہے اور کوئی خطرناک بیماری کی صورت میں کون سے ہسپتال سے علاج کروانا ہے؟وغیرہ۔ کیونکہ باپ ہی شرعا بچی کا ولی ہے اور اسی کے ذمہ ان تمام اخراجات کی ادائیگی لازم ہے، اس لیے ان امور سے متعلق فیصلے کا اختیار بھی باپ کو ہو گا، البتہ باپ کے ذمہ لازم ہے کہ وہ ان فیصلوں میں بچی کی مصلحت اور ماں کی سہولت کا بھی خیال رکھے، مثلا تعلیم کے لیے گھر سے بہت دور کسی اسکول میں داخلہ نہ کروائے۔ای طرح اگر باپ بچی کی مصلحت کے خلاف کوئی فیصلہ کرے، مثلا فحاشی وعریانی والے یا سیکولر اسکول میں داخل کروانے کا فیصلہ کرے تو یہ فیصلہ درست اور نافذ نہ ہو گا، بلکہ ایسی صورت میں ماں پر لازم ہے کہ وہ کسی اچھے ماحول میں بچی کو تعلیم دلوائے۔
المبسوط للسرخسي (4/ 215) دار المعرفة – بيروت:
وهذا لأن أصل الشفقة موجود للولي، ولكنه ناقص يظهر ذلك عند المقابلة بشفقة الآباء، وقد ظهر تأثير هذا النقصان حكما حين امتنع ثبوت الولاية في المال للأولياء فلاعتبار وجود أصل الشفقة نفذنا العقد ولاعتبار نقصان الشفقة أثبتنا الخيار لأن ثبوت الولاية لكي لا يفوت الكفء الذي خطبها فيكون بمعنى النظر لها، وإنما يتم النظر بإثبات الخيار حتى ينظر لنفسه بعد البلوغ بخلاف الأب فإنه وافر الشفقة تام الولاية فلا حاجة إلى إثبات الخيار في عقده، وكذلك في عقد الجد؛ لأنه بمنزلة الأب حتى تثبت ولايته في المال والنفس.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 303) دار الفكر،بيروت:
قالوا: لو كان الأب معروفا بسوء الاختيار مجانة وفسقا كان العقد باطلا على قول أبي حنيفة على الصحيح. ومن زوج بنته الصغيرة القابلة للتخلق بالخير والشر ممن يعلم أنه شرير فاسق ظهر سوء اختياره، ولأن ترك النظر هنا مقطوع به فلا يعارضه ظهور إرادة مصلحة تفوق ذلك نظرا إلى شفقة الأبوة.
7۔ اس کا جواب سوال نمبر5 کے جواب میں گزر چکا ہے۔
8۔ طلاق کے بعد اگرچہ بچی بلوغت تک ماں کے پاس رہے گی، جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے، مگر اس دوران باپ کو اپنی بیٹی سے ملنے کا مکمل حق ہو گا، اس کے لیے فریقین باہمی رضامندی سے کوئی بھی مدت طے کر سکتے ہیں کہ اتنے دن بعد باپ اپنی بیٹی سے ملنے آئے گا، نیز اگر باپ مختصر وقت کے لیے بچی کو اپنے گھر لے جانا چاہے تو شرعاً اس کا بھی اس کو اختیار ہو گا، لہذا لڑکی والوں کا باپ کو اپنی بیٹی سے ملنے سے روکنا یا بچی کو مختصر وقت کے لیے اپنے گھر لے جانے سے منع کرناجائز نہیں۔
[1] ماں اور نانی/ دادی کے حقِ حضانت کی مدت کے بارے میں ظاہرالروایہ یہ ہے کہ بچی بالغ ہونے تک ماں اور نانی/ دادی کے پاس رہے گی اور ان کے علاوہ کے بارے میں حد شہوت کو معیار قرار دیا گیا ہے، امام محمد رحمہ اللہ سے یہ روایت بھی منقول ہے کہ ماں اور نانی کو بھی حدِ شہوت تک ہی حقِ حضانت حاصل ہو گا، جس کی تحدید فقیہ ابو اللیث رحمہ اللہ نے نو سال سے کی ہے، جبکہ علامہ زیلعی رحمہ اللہ نے بالاتفاق گیارہ سال کی مدت ذکر کی ہے، بعض اکابر نے نو سال پر فتوی کی بھی تصریح کی ہے اور احسن الفتاوی (459/5) میں بھی اسی قول کو لیا گیا ہے، البتہ ان کے علاوہ بہت سے اکابر نے ظاہرالروایہ کے مطابق فتوی دیا ہے، چنانچہ فتاوی دارالعلوم دیوبند(57/11)، فتاوی مفتی محمود(436/7)، کفایت المفتی(427/6)، امداد الاحکام(877/2)، امداد المفتین(605/2)، فتاوی حقانیہ(423/3) اور فتاوی عثمانی (481/2)وغیرہ میں اسی قول کو لیا گیا ہے اور اس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ ہر بچی کے لیے حد شہوت کی مدت کا تعین مشکل ہے، کیونکہ اس میں بچی کی صحت، غذا اور علاقے کی آب وہوا کا بھی دخل ہوتا ہے، جیسا کہ فتاوی الولوالجیہ کے حوالے سے البحر الرائق میں نقل کیا گیا ہے اور عام طور پر حضانت ماں یا نانی/ دادی کرتی ہے، اس لیے آسانی کے پیشِ نظر ظاہرالروایہ کے مطابق فتوی دیا گیاہے۔ واللہ اعلم بالصواب
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 285) دار احياء التراث العربي، بيروت:
وإذا أرادت المطلقة أن تخرج بولدها من المصر فليس لها ذلك " لما فيه من الإضرار بالأب " إلا أن تخرج به إلى وطنها وقد كان الزوج تزوجها فيه " لأنه التزم المقام فيه عرفا وشرعا............... والحاصل: أنه لا بد من الأمرين جميعا الوطن ووجود النكاح وهذا كله إذا كان بين المصرين تفاوت أما إذا تقاربا بحيث يمكن للوالد أن يطالع ولده ويبيت في بيته فلا بأس به وكذا الجواب في القريتين ولو انتقلت من قرية المصر إلى المصر لا بأس به لأن فيه نظرا للصغيرحيث يتخلف بأخلاق أهل المصر وليس فيه ضرر بالأب وفي عكسه ضرر بالصغير لتخلقه بأخلاق السواد فليس لها ذلك.
البناية شرح الهداية (5/ 657) دار الكتب العلمية – بيروت:
(بحيث يمكن للوالد أن يطالع ولده ويبيت في بيته فلا بأس به، وكذا الجواب في القريتين) ش: يعني إذا كانت قريبتين بحيث يمكن للأب مطالعة الأولاد في يومه، فلها ذلك وإلا فلا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
21/شوال المکرم 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


