03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈپریشن کے مرض میں مبتلا شخص کی طلاق کا حکم
82927طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

میں اور میری بیوی شادی کے بعد دس سال تک خوشگوار زندگی گزارہے تھے کہ مجھے میری بیوی اور بچوں کو کرونا ہوا،ایک طرف بیماری اور دوسری طرف بے روزگاری جس کی وجہ سے معاشی حالات خراب ہوئے،سماجی تنہائی اور معاش کے اثرات دماغ پر پڑنے لگے،کچھ عرصے کے بعد میری بیوی کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہوگئی،میں نے بڑی ہمت اور حوصلے کے ساتھ شوکت خانم ہسپتال سے بیوی کا علاج کروایا،اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی سنبھالتا رہا،لیکن آہستہ آہستہ میں ڈپریشن کی بیماری کا شکار ہوگیا،والدین کو بھی حالات سے بے خبر رکھا،اس پریشانی کی وجہ سے دوستوں نے مجھے آئس پینے کا مشورہ دیا،بلکہ پلانی شروع کردی،جس کا میں کچھ ماہ میں عادی ہوگیا،میرے والدین نے مجھے ایک میڈیکل سینٹر میں علاج کی خاطر داخل کروایا،جس کے درمیان میں نے نشہ چھوڑدیا،مگر علاج مکمل ہونے سے پہلے ہی بیوی کے اصرار پر والدین مجھے گھر لے آئے۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ مجھے ذہنی طور پر psychosis کا معاملہ ہے،اس بیماری میں انسان اپنی خیالی دنیا میں رہتا ہے،جس کی وجہ سے حقیقت کی دنیا جھوٹ لگتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ والدین سمیت سب لوگ میرے خلاف سازشیں کررہے ہیں،میں کمرے میں بند ہوکر رہتا تھا اور شک کرتا تھا کہ میرے کھانے میں کچھ ملایا گیا ہے،میں اسے چیک کرنے کے لئے پہلے کسی اور کو کھانے کا کہتا۔

اس ذہنی بیماری کے دوران میں نے کئی مرتبہ بیوی کو طلاق دی،میں ڈپریشن کا شکار تھا اور دماغ میں وسوسے آتے تھے،میں ڈاکٹروں سے علاج کرارہا ہو اور ابھی بھی ذہنی طور پر مکمل صحت مند نہیں ہوں،میں نے پسند کی شادی کی تھی اور کبھی بھی شعوری طور پر ہوش و حواس میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا،اس تفصیل کی روشنی میں آپ سے سوال یہ ہے کہ ذہنی طور پر مریض کی طرف سے دی گئی طلاق کا دین اسلام میں کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر طلاق کے جملے بولتے وقت آپ کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کو اس بات کا ادراک تھا کہ آپ بیوی سے مخاطب ہوکر اسے طلاق دے رہے رہیں اور طلاق پر مرتب ہونے والے نتیجے کا بھی آپ کو احساس تھا تو پھر مذکورہ صورت میں اس کیفیت میں دی گئی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،لیکن اگر طلاق کے جملے بولتے وقت آپ کی کیفیت ایسی نہیں تھی،بلکہ اس کے برعکس تھی،یعنی آپ کے ہوش و حواس قائم نہ تھے اور آپ کو اپنے اقوال و افعال کے نتیجے کا ادراک نہیں تھا کہ جو الفاظ آپ بول رہے ہیں اس کا نتیجہ کیا ہوگا  اور آپ کا اس کیفیت سے دوچار ہونا آپ کے خاندان کے لوگوں میں معروف ہوتو پھر اس کیفیت میں دی گئیں طلاقیں واقع نہیں ہوئیں۔

دونوں صورتوں کا حکم آپ کے سامنے ذکر کردیا گیا ہے،لہذااب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ طلاق دیتے وقت آپ جس کیفیت میں تھے،اسی کے مطابق طلاق کے وقوع یا عدمِ وقوع کا حکم لگے گا،چونکہ مسئلے کا تعلق حلال وحرام سے ہے،اس لئے اللہ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے یہ فیصلہ کریں کہ طلاق کے وقت آپ کس کیفیت میں تھے۔

حوالہ جات

"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية" (1/ 38):

"(سئل) في رجل حصل له دهش زال به عقله وصار لا شعور له لأمر عرض له من ذهاب ماله وقتل ابن خاله فقال في هذه الحالة يا رب أنت تشهد على أني طلقت فلانة بنت فلان يعني زوجته المخصوصة بالثلاث على أربع مذاهب المسلمين كلما حلت تحرم فهل لا يقع طلاقه؟

(الجواب) : الدهش هو ذهاب العقل من ذهل أو وله وقد صرح في التنوير والتتارخانية وغيرهما بعدم وقوع طلاق المدهوش فعلى هذا حيث حصل للرجل دهش زال به عقله وصار لا شعور له لا يقع طلاقه والقول قوله بيمينه إن عرف منه الدهش وإن لم يعرف منه لا يقبل قوله قضاء إلا ببينة كما صرح بذلك علماء الحنفية رحمهم ﷲ تعالى".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

23/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب