03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پہلی کاچاند موٹا ہونے کی وجہ سے تاریخ پراستدلال کرنا
83661روزے کا بیانرمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں شعبان المعظم 1445ھ کی رؤیتِ ہلال کے بارے میں ایک نکتے کی طرف نشان دہی کرناچاہتاہوں،میں بیمارآدمی ہوں اکثربھول جاتاہوں،میری عمر72سال ہے،میں بروزاتوارگیارہ فروری 2024کورات کے وقت اپنے محلے میں گھر سے باہربیٹھاہوا تھا،عشاء کی نماز کے لیے رات کو آٹھ بجے اذان ہوگئی،ان دنوں عشاء کی نمازکا وقت سوا آٹھ بجےتھا،رات کو آٹھ بجےشعبان کی چاند پر نظرپڑگئی،دودن کا لگ رہاتھا،میں عشاء کی نماز کےلیے آٹھ دس پر اٹھ گیا اورچاند ویسے ہی آسمان پر ٹھہرا ہوا تھا،لگ تو رہاتھا کہ دو  دن کاہے لیکن ایک دن میں تو کوئی شک نہیں تھا،جبکہ اسی تاریخ بروزاتوارگیارہ فروری کواخبارمیں لکھاتھاکہ آج 30رجب المرجب 1445ہے،شعبان کا چاند نظرنہیں آیاتھا، لہذا کل بروز پیربارہ فروری کو یکم شعبان کی تاریخ ہوگی،حالانکہ شعبان کا چاند میرے علاوہ ایک دوسرے آدمی نے بھی دیکھ لیا تھا اوراس حساب سے توآج 2024/3/08 کو27شعبان کی تاریخ ہونی چاہیے،بلکہ میں تو حلفیہ طورپرکہتا ہوں کہ بروزاتوارگیارہ فروری کو اگردو شعبان نہیں تو ایک شعبان تو ضرورتاریخ ہوگی،لہذاآج جمعہ 2024/3/08کوشعبان المعظم کی 27 تاریخ ہوگی،فیصلہ آپ خود کرلیں،میں وقت پر بتا نہیں سکا، کیونکہ مجھ پرنسیان غالب ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ نےگیارہ فروری 2024کورات آٹھ بجے جوچاند دیکھا تھاوہ اگلے دن (12فروری 2024بمطابق) یکم شعبان 1445کا چاندتھا،کیونکہ اس سےپچھلے دن یعنی دس فروری شام کو چاند کے حالات ایسے نہیں تھے کہ جو ننگی آنکھ سے نظرآسکے ،اس لیے رؤیتِ ہلال کمیٹی کا اعلان کہ چاند نظرنہیں آیا،لہذا کل 11فروی کو30رجب ہوگی اوریکم بروز پیر12فروری کوہوگی درست تھا۔

رہا آپ کا سوال کہ11فروی کو رات آٹھ بجے چاند کافی موٹاتھا اور دو دن کا یا کم ازکم ایک دن کا لگ رہاتھا  تو یہ واضح رہے کہ مختلف اسباب کی وجہ سے پہلی تاریخ کا چاندموٹا ہوسکتاہے، چاندکی موٹائی سے تاریخ پر استدلال کرنا شرعاًوفناً غلط ہے۔

شرعاً تو اس لیےغلط ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ نے فرمایاہے: «من أشراط الساعة انتفاخ الأهلة، حتى يرى الهلال لليلته، فيقال: هو لليلتين» (المعجم الأوسط 7/ 65)ترجمة :قیامت کی علامات میں سے یہ بات ہے کہ پہلی رات کاچاندموٹادکھائے دے گاپس کہاجائے گا کہ یہ تو دو راتوں کا چاندہے۔ایک اورحدیث میں ہے: عن أبي البختري، قال: خرجنا للعمرة، فلما نزلنا ببطن نخلة قال: تراءينا الهلال، فقال بعض القوم: هو ابن ثلاث، وقال بعض القوم: هو ابن ليلتين، قال: فلقينا ابن عباس، فقلنا: إنا رأينا الهلال، فقال بعض القوم: هو ابن ثلاث، وقال بعض القوم: هو ابن ليلتين، فقال: أي ليلة رأيتموه؟ قال فقلنا: ليلة كذا وكذا، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن الله مده للرؤية، فهو لليلة رأيتموه»( صحيح مسلم 2/ 765)ابو البختری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرے کے لیے گئے، جب ہم وادیِ نخلہ میں پہنچے تو ہم نے چاند دیکھنا شروع کیا، بعض لوگوں نے کہا: ’’یہ تیسری تاریخ کا چاند لگتا ہے‘‘ اور بعض نے کہا :’’یہ دوسری تاریخ کا چاند لگتا ہے‘‘ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہماری ملاقات حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی، تو ہم نے ان سے کہاکہ: ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں کاکہناہےکہ یہ تیسری تاریخ کا چاند ہےاوربعض کہتے ہیں کہ دوسری کا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ’’تم نے چاند کس رات کو دیکھاتھا؟،ہم نے کہا:فلاں رات کو، انہوں نے کہا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے تمہارے دیکھنے کے لیے اسے بڑھا دیا، در حقیقت یہ اسی رات کا چاند ہے، جس رات کو تم نے اسے دیکھا ہے۔(صحیح مسلم، رقم الحدیث:1088)یہ حدیث اس مسئلے میں شریعت کی اصل ہے کہ نئے چاند کا مدار رؤیت پر ہے ، اس امر پر نہیں ہے کہ اس کا سائز چھوٹا ہے یا بڑا۔

اورفنی اعتبارسے بھی پہلی کے چاندکے موٹے ہونے سے تاریخ پر استدلاکرنا غلط ہے، اس لیے کہ روزانہ چاند13درجے (تقریبا51ًمنٹ)اپنے مدارمیں سورج سے پیچھے ہٹتاجاتاہے تودس فروری  کو اس کا ارتفاع کراچی میں مثلاً :اگر 6 درجے تھاتو دوسرے دن یعنی گیارہ فروری کو اس کا ارتفاع 19 درجے ہوگیاتھاجس سےوہ موٹااورواضح لگا اورزیادہ یرتک افق پر بھی رہا ،لیکن تھاوہ پہلی کاچاند، اس لیے کہ دیکھاوہ آج گیاہے، کل گزشتہ وہ نظرنہیں آیاتھا،اورحدیث میں ہے «صوموا لرؤيته، وأفطروا لرؤيته (مسند ابن أبي شيبة 2/ 423)کہ چاند دیکھ کرروزہ رکھواورچاند دیکھ کر افطارکرو۔لہذا رؤیتِ ہلال کمیٹی والوں کا اعلان کہ چاند نظرنہیں آیالہذا کل 11فروی کو30رجب ہوگی اوریکم بروز پیر12فروری کوہوگی بالکل درست تھا،عوام کو ان بحثوں میں نہیں پڑناچاہیے اوراپنی عبادات پرتوجہ مرکوزرکھنی چاہیے ۔

حوالہ جات

وفی المعجم الأوسط( 7/ 65):

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أشراط الساعة انتفاخ الأهلة، حتى يرى الهلال لليلته، فيقال: هو لليلتين» .

صحيح مسلم (2/ 765):

عن عمرو بن مرة، عن أبي البختري، قال: خرجنا للعمرة، فلما نزلنا ببطن نخلة قال: تراءينا الهلال،  فقال بعض القوم: هو ابن ثلاث، وقال بعض القوم: هو ابن ليلتين، قال: فلقينا ابن عباس، فقلنا: إنا رأينا الهلال، فقال بعض القوم: هو ابن ثلاث، وقال بعض القوم: هو ابن ليلتين، فقال: أي ليلة رأيتموه؟ قال فقلنا: ليلة كذا وكذا، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن الله مده للرؤية، فهو لليلة رأيتموه»

وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1379):

والمعنى رمضان حاصل لأجل رؤية الهلال في تلك الليلة، ولا عبرة بكبره، بل ورد أن انتفاخ الأهلة من علامات الساعة. وفی كشف المشكل من حديث الصحيحين (2/ 458)ۛ

معنى الحَدِيث: لَا تنظروا إِلَى كبر الْهلَال وصغره، فَإِن تَعْلِيق الحكم على رُؤْيَته.

وفی مسند ابن أبي شيبة (2/ 422):

عن الحسين بن الحارث، قال: سمعت عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، يقول: إنا صحبنا أصحاب  رسول الله صلى الله عليه وسلم وتعلمنا منهم وإنهم حدثونا، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «صوموا لرؤيته، وأفطروا لرؤيته، فإن غم عليكم فعدوا ثلاثين، وإن شهد ذوا عدل فصوموا، أو أفطروا، أو انسكوا».

وفی مسند أحمد مخرّجا (3/ 256):

عن حسين بن علي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن من حسن إسلام المرء، قلة الكلام فيما لا يعنيه».

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

۲۰/١۰/۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب