| 83664 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتیان کرام سائل کو ایک مسئلہ درپیش ہے،جس میں عموما اکثر مبتلی ہیں۔میرا الیکٹرونکس کا بزنس ہے جس میں ٹی وی ،ایل ای ڈی ،فریج وغیرہ تمام اشیاء شامل ہیں،ہم پاکستان کی نامور کمپنی Haier یا Dawlance کے ڈیلر ہیں،یہاں ان کا ڈیلربننے سے پہلے آپ کو ایک بڑی رقم کمپنی کو دینی ہوتی ہے،جس سے وہ بندے کو رجسٹر کرتے ہیں وہ رقم آج کل 50 لاکھ سے ایک کروڑ سے زائد پر مشتمل ہے، جب بندہ /دکاندار Haier یا Dawlance کمپنی کے ساتھ رجسٹر ہوجاتاہے ،تو وہ اس کے لیے ایک لمیٹڈ وقت مقرر کردیتی ہے۔جیساکہ Dawlance نے ہمارے لیے تین مہینوں یا دو مہینوں کا لمیٹڈ مقرر کر رکھا ہے،جس میں وہ ہمیں ان دو یا تین مہینوں میں کمپنی کے معاہدے کے مطابق ایک کروڑ یا 50 لاکھ کے درمیان آپ کو سامان یعنی مشین،فریج،ایل ای ڈی وغیرہ دیگر اشیاء بھیجتی ہے، اس سامان کی رقم کو ڈیلر نے تین یا دومہینوں میں ختم کرنی ہوتی ہے،اور اگر ساری رقم کمپنی کو نہ بھیجی تو وہ جرمانہ یا پھر Follow upلگاتی ہے،دونوں ایک چیز ہیں۔
رقم وقت متعین وقت پر نہ بھیجنے کی صورت میں وہ ہم پر جرمانہ وغیرہ لگاتی ہے ،یہ سود ہے یا نہیں؟ ہم اور کمپنی دونوں اس جرمانے پر خوش نہیں ہیں۔
Haier اور Dawlance کا سارا طریقہ ایک جیسا ہے،سوائے ایک کہ Haier کو جب تک پوری رقم نہ بھیجے تو اس وقت تک Haier ایک بھی پروڈکٹ نہیں بھیجتی،لیکن Dawlance کی رقم اگر ڈیلر نے ختم نہ بھی کی ہوتو Dawlance آپ کو سامان بھیجتی رہتی ہے، اگر آپ وقت پر کمپنی کو رقم نہ دے پائے تو کیا یہ جرمانہ سود ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ مالی جرمانہ ہے، اور سود کے زمرے میں آتاہے،کمپنی کےلیے اس طریقے پر مال حاصل کرنا جائز نہیں ہے،کمپنی کےلیے یہ ممکن ہے کہ سامان کی سپلائی روک دے تاکہ ڈیلر پر دباو ہواور وہ بروقت ادائیگی کا پابند بن سکے.
حوالہ جات
وفی مجمع الأنهر(1/ 609 ):
"وفي البحر: ولایکون التعزیر بأخذ المال من الجاني في المذهب".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
21/شوال1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


