| 83683 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کے دو سے زائد بیٹے اور بیٹیاں ہیں، والد نے اپنی زندگی میں جائیداد میں سے ایک پلاٹ دو بچوں کے نام پر منتقل کرواکر کا غذات وغیرہ بھی بنوا دیئے اور کہا یہ پلاٹ اب ان دونوں کا ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ والد نے اپنی زندگی میں جو پلاٹ دو بچوں کے نام کر کے دیا تھا ،والدین کے انتقال کے بعد وہ صرف انہی کا رہے گایا وراثت کی تقسیم کے وقت دیگر رہ جانے والی جائیداد کی طرح سب میں تقسیم ہو گا ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ والد نے اپنی زندگی میں جن دو بچوں کے نام پر ایک پلاٹ کر دیا تھا ،اب جب وراثت کی تقسیم ہو گی تو ان دوبچوں کو باقی رہ جانے والی جائیداد میں سے دیگر بچوں کی طرح حصہ ملے گا یا نہیں؟ تنقیح:سائل نے زبانی بتایا کہ بوقت ہبہ دونوں بیٹے بالغ تھے، والدصاحب نے بحالت صحت پلاٹ تقسیم کرکے ہبہ کیاتھا اور والد نے ان کو مکمل اختیا ر دیا تھا کہ وہ اس پر قبضہ کرکے اس کو ذاتی استعمال میں لائیں ،لیکن انہوں نے بوجہ جوائنٹ فیملی کے الگ سے حسی قبضہ نہیں کیا ۔مزید یہ کہ والد نے اپنے بیٹوں کی رضامندی سے اس کو کرایہ پر دیا ہے اور وہ کرایہ ان کی رضامندی سے گھر کے مشترکہ اخراجات میں استعمال ہو رہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد کا بحالت صحت اپنی بالغ اولاد کو اپنی مملوکہ جائیداد میں سے بعض حصہ ہبہ کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کا مقصد دوسرے ورثاء کی حق تلفی اور ان کونقصان پہنچانا نہ ہواور قابل تقسیم زمین تقسیم کرکے ان کو حسی قبضہ یا تصرفات کا مکمل اختیار بھی دے دیں۔لہذا صورت مسولہ میں موہوبہ پلاٹ اس آدمی کےدو بیٹوں کی ملکیت ہے، اس میں دیگر ورثاء کا کوئی حق نہیں ۔ مزید یہ کہ بقیہ جائیداد میں بھی دیگر ورثاء کی طرح ان کوحصہ ملےگا۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 119): (ومنها) أن يكون مملوكا للواهب فلا تجوز هبة مال الغير بغير إذنه لاستحالة تمليك ما ليس بمملوك. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 691) وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم ۔ الفتاوى الهندية (4/ 391): ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان۔ فتح القدير للكمال ابن الهمام (9/ 27): (ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة) وقال الشافعي: تجوز في الوجهين؛ لأنه عقد تمليك فيصح في المشاع وغيره كالبيع بأنواعه۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 697): (وهب اثنان دارا لواحد صح) لعدم الشيوع (وبقلبه) لكبيرين (لا) عنده للشيوع فيما يحتمل القسمة أما ما لا يحتمله كالبيت فيصح اتفاقا۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 694): (وهبة من له ولاية على الطفل في الجملة) وهو كل من يعوله فدخل الأخ والعم عند عدم الأب لو في عيالهم (تتم بالعقد) لو الموهوب معلوما وكان في يده أو يد مودعه (قوله: على الطفل) فلو بالغا يشترط قبضه، ولو في عياله تتارخانية۔
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
26/شوال/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


