03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پانچ مرتبہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں کہنے کا حکم
83675طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام  اس مسئلہ کے بارے میں:

 کہ میری شادی ہوئی ایک لڑکے کے ساتھ اور اب میری شادی کے تقریبا دو سال ہوئے اور الحمدللہ اللہ تعالی نے مجھے ایک بیٹا بھی دیا. اب تقریباً چھ ماہ قبل سے میرے شوہر کے ساتھ کچھ گھریلوی ناچاقی آگئی ہے جس کی وجہ میرا شوہر مجھے بار بار  طلاق دیتا رہتا ہے اور طلاق ان کا تکیہ کلام بن چکا ہے جب بھی وہ مجھ سے کسی بات پہ ناراض ہوتا ہے تو وہ مجھے طلاق دے دیتا ہے تو ابھی وہ سعودیہ چلا گیا ہے وہاں سے بھی وہ مجھے جب بھی کال کرتا ہے تو میں اگر  کسی گھریلو کام میں مصروفیت  کی وجہ سے ان کی کال نہیں اٹھا پاتی تو وہ غصے کی حالت میں آکر کے مجھے پھر کہتا ہے کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں میں تجھے طلاق دیتا ہوں، میں تجھے طلاق دیتا ہوں،  اور یہ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اس نے مجھے اس طرح کہا تو براہ کرم پوچھنا یہ ہے کہ

1۔ آیا ایسی صورت میں ہماری طلاق واقع ہو گئی؟

2۔اور کونسی طلاق واقع ہوئی؟

3۔شریعت کی رو سے اس شوہر کے ساتھ میرا رہنا کیسا ہے؟

4۔اگر طلاق واقع ہوئی تو آیا میری عدت ختم ہوئی؟

6۔اور یہ جو میں کہتی ہوں اس کی میرے پاس بطور ثبوت ویڈیو  بھی موجود ہے جس میں وہ مجھے  ہندکو میں کہتا ہے غصہ کی حالت میں:"می تھکو(تجھے) طلاق دینا، می تھکو(تجھے) طلاق دینا، می تھکو(تجھے) طلاق دینا.، می تھکو(تجھے) طلاق دینا،می تھکو(تجھے) طلاق دینا،می تھکو(تجھے) طلاق دینا"، پانچ بار غصہ کی حالت میں کہتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے:"تیرا میرا کوئی واسطہ تعلق نہیں ہے"۔

براہ کرم درجہ بالا سوالات کا شریعت کی رو سے جوابات عنایت فرمائیں۔

تنقیح:سائل سے فون پر تنقیح کے ذریعے معلوم ہوا کہ سائلہ کے شوہر نے چھ ماہ قبل سوال میں ذکر کئے گئے طلاق کے جملے بولے تھے،اس سے قبل طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کئے تھے ،یہ بھی واضح رہے کہ اس وقت یہ عورت حاملہ تھی،اس کے بعد بچے کی ولادت ہوئی، پھر  سعودی عرب جانے کے بعد  شوہر نےفون پر کئی بار یہ جملے بولے کہ اگر تو میرے کمرے میں چلی گئی تو تجھے تین طلاقیں ہوں،جس کے بعد یہ خاتون کمرے میں داخل بھی ہوئی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چھ ماہ پہلے جب آپ کے شوہر نے پانچ مرتبہ یہ جملہ "می تھکو(تجھے) طلاق دینا یعنی میں تجھے طلاق دیتا ہوں"بولا تو پہلے تین جملوں کے ذریعے آپ کو تین طلاقیں (طلاق مغلظہ)واقع ہوگئیں تھی،جس کے بعد آپ اپنے شوہر پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوگئی تھی اور اب موجودہ حالت میں آپ دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں،لہذا آپ دونوں کے ذمے فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی لازم ہے،جبکہ اس کے بعد بولے جانے والے طلاق کے بقیہ جملے لغو ہوگئے،کیونکہ تین طلاقیں واقع ہوجانے کے بعد آپ طلاق کا محل نہیں رہی۔

 نیزچونکہ مذکورہ بالا طلاقوں کے وقوع کے وقت آپ حاملہ تھی اور حاملہ عورت کی عدت بچے کی ولادت تک ہوتی ہے،لہذا بچے کی ولادت کے بعد آپ کی عدت بھی گزرچکی ہے،اب آپ اپنی مرضی سے کسی اور جگہ نکاح کرسکتی ہیں۔

حوالہ جات

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]

"صفوة التفاسير" (1/ 131):

"{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} أي فإن طلق الرجل المرأة ثالث مرة فلا تحل له بعد ذلك حتى تتزوج غيره وتطلق منه، بعد أن يذوق عسيلتها وتذوق عسيلته كما صرح به الحديث الشريف، وفي ذلك زجر عن طلاق المرأة ثلاثا لمن له رغبة في زوجته لأن كل شخص ذو مروءة يكره أن يفترش امرأته آخر .

{فإن طلقها فلا جناح عليهمآ أن يتراجعآ إن ظنآ أن يقيما حدود َﷲ} أي إن طلقها الزوج الثاني فلا بأس أن تعود إلى زوجها الأول بعد انقضاء العدة إن كان ثمة دلائل تشير إلى الوفاق وحسن العشرة".

"البحر الرائق " (3/ 257):                                                                                                                                                    

"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

27/شوال 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب