03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن اکیڈمی کی شرائط کے مطابق کلما طلاق پر دستخط کرکے پھرمعاہدہ کی خلا ف ورزی کرنا
83712طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

ایک شخص آن لائن اکیڈمی میں ٹیچر ہے۔ اس اکیڈمی کی شرائط میں سے ایک شرط کلما طلاق کی ہے ،جس کی عبارت یہ ہے کہ جب جب میں نکاح کروں تو مجھ پر طلاق  ہو،چاہے نکاح خود کروں یافضولی کی صورت میں یا کسی کو نکاح  کا وکیل بنا کر کروں ،الغرض میری بیوی  موجودہ  ہو یا آئندہ ہونے والی  ہوہر صورت میں طلاق ہو۔ کلما  طلاق اس  بات پر لیتے ہیں  کہ آپ سٹوڈنٹس کی فیملی کو اپنا  پر سنل نمبر نہیں دیں گے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا رابطہ کریں  گےاور نہ ہی پڑھنے والے بچوں کو اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں ۔ جب کوئی ٹیچر وہاں اپلائے کرتا ہے تو اس ٹیچر سے ان شرائط پر دستخط لیا جاتا ہے، ٹیچر پڑھ کر اس پر دستخط کر لیتاہے ۔اب اگر کوئی ٹیچر اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کلما عموم افعال پر دلالت کرتا ہے ،یعنی کلما کا مدخول جب جب پایا جائے گا  اس پر معلق امر پایا جائے گا۔ صورت مسولہ میں کلما کا مدخول  تزوج  اور نکاح کرنا  ہے جس   کا  محل غیر منکوحہ ہے، منکوحہ نہیں۔ اس لیے  معاہد ہ  کی خلاف ورزی کی صورت میں  آئندہ کسی بھی  عورت سے جب جب وہ ٹیچر نکاح کرے گا اس کو طلاق ہوگی ،لیکن  معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے پر موجودہ بیوی کو طلاق نہیں ہوگی ،کیونکہ وہ کلما طلاق کا محل نہیں ،لہذا اس کی طرف اس کی اضافت لغو اور غیر معتبر ہے۔البتہ اگر موجود ہ بیوی کو کسی وجہ سے طلاق بائن دے دی تو تجدیدنکاح کرنے پر اس  کو بھی  کلما  طلاق ہوگی۔

واضح رہے کہ اکیڈمی والوں کا یوں معاہدہ کرنا  غیر شرعی  عمل ہے، اس سے اجتناب لازمی ہے۔

حوالہ جات

مجمع الانھر (419/1):

(ففي جميعها) أي جميع الألفاظ (إذا وجد الشرط انتهت اليمين) ؛ لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة فبوجود الفعل مرة يتم الشرط وإذا تم وقع الحنث فلا يتصور الحنث مرة أخرى إلا بيمين أخرى أو بعموم تلك اليمين وليس فليس.۔۔۔۔ لا في) كلمة (كلما فإنها تنتهي) اليمين (فيها بعد الثلاث)۔۔۔۔ (ما لم تدخل) تلك الكلمة (على) صيغة (التزوج) لدخولها على سبب الملك (فلو قال) تفريع لما قبله (كلما تزوجت امرأة فهي طالق تطلق بكل تزوج، ولو) وصلية (بعد زوج آخر) ؛ لأن صحة هذا اليمين باعتبار ما سيحدث من الملك وهو غير متناه. ، والحيلة فيه عقد الفضولي أو فسخ القاضي الشافعي،وكيفية عقد الفضولي أن يزوجه فضولي فأجاز بالفعل بأن ساق المهر ونحوه لا بالقول فلا تطلق، بخلاف ما إذا وكل به لانتقال العبارة إليه.

الهندية (445/1):

ولو دخلت كلمة كلما على نفس التزوج بأن قال: كلما تزوجت امرأة فهي طالق أو كلما تزوجتك فأنت طالق يحنث بكل مرة وإن كان بعد زوج آخر هكذا في غاية السروج

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 348):

"(قوله: إلا المضافة إلى الملك) أي في نحو: كلما تزوجت امرأةً فهي طالق ثلاثاً، فطلق امرأته ثلاثاً، ثم تزوجها، فإنها تطلق؛ لأن ما نجزه غير ما علقه، فإن المعلق طلاق ملك حادث فلايبطله تنجيز طلاق ملك قبله"

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

29/شوال/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب