03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسکول میں بچہ کی اصلی عمر کےبجائے کم عمر لکھوانے کا حکم
83692جائز و ناجائزامور کا بیانغیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان

سوال

  اسکولوں میں ماسٹر حضرات والدین کی رضامندی کے ساتھ بچہ کا عمر کم لکھتے ہیں ۔جس کی وجہ یہ ہوتی ہےکہ قانون کے مطابق ادنی کلاس میں ان کی عمر تین سال ، پانچویں میں نو سال اور دسویں میں چودہ  سال ہونی چاہیے، اس سے کم نہیں ہونی چاہیے۔

جس وقت  ادنی کلاس والےکی اصلی عمر تین سال ہو تو  اس میں ادنی کلاس کی استعداد ہی نہیں ہوتی اور جب اس میں ادنی کلاس کی استعداد ہوتی ہےاس وقت     اس کی عمر تین سال سے زیا دہ  ہوتی ہے۔اس پر جب ماسٹر حضرات اس کو  داخل کرتے ہیں تو اصلی تا ریخ پیدائش کے بجائےتاریخ   تین سال لکھتے ہیں۔

 پھربعض معیاری  مدارس کے شرائط داخلہ میں مخصوص عمر کی  شرط  لگائی ہوتی ہے۔ اب اگر اس بچہ کی  عمر  زیادہ ہوتو اسکو داخلہ نہیں ملتا ، غیر معیاری مدارس میں اس بچہ کی پیاس نہیں بجھتی ۔ ایک عالم کہتا ہے کہ یہ اس بچہ کی تعلیم کی نفع کےخاطر  ہے جس سے کسی دوسرے کا کوئی نقصان  نہیں ہورہا ہے،اس وجہ سے اس میں گنجائش ہے۔

 اس طرح سرکاری ملازمتوں کےلیے  مخصوص عمر کی شرط لگائی ہوتی ہے۔  اصلی تاریخ پیدائش لکھوانےکی صورت میں ملازمت  ملنےسےپہلےجلدی اورایج    ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اسکول میں  جان بوجھ کربچہ کی اصلی عمر کے بجائے کم عمر لکھوانے  میں شرعی لحاظ سے کئی خرابیا ں ہیں، اس لیےیہ جائز نہیں۔ چند خرابیاں درج ذیل ہیں:

1:  اصلی عمر چھپا کر کم عمر لکھوانادھوکہ  اور صریح جھوٹ ہے۔مزید یہ کہ چونکہ بعد میں کاغذات میں بھی یہی تاریخ چلتی  رہتی ہےاوراگر کوئی عمر کا  پوچھتا ہےتو   یہی عمر  بتا ئی جاتی ہے  ،گویا کہ  اس ایک جھوٹ کی وجہ سے زندگی بھر جھوٹ بولنا پڑ تا ہے، جس کا گنا ہ اس کےوالدین  کوہوگا یا جس نے بھی  اسکول میں داخل  دلواتے وقت کم عمر لکھوائی ہے ۔

2:  جن ملازمتوں یا   تعلیمی اداروں کے داخلہ شرائط میں عمر کی قید ہوتی ہے، اگر اس بچہ کی اصلی عمر حقیقت میں اس سے بڑھ کر ہے لیکن اسکول  کے ریکارڈمیں لکھی ہوئی عمر اس سے کم ہےاور اس بنیاد پر اس کو اس منصب یا داخلہ کا اہل سمجھ کر  وہ منصب یا  داخلہ مل جاتا ہے تو   انتظامی امور میں اس ادارے کےقوانین کی خلاف ورزی لازم آئے گی جو کہ شرعا جائز نہیں۔

3:  سرکاری ملازمتوں یا جن تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لیے عمر کی شرط لگائی ہوتی ہے، وہاں نتائج میرٹ لسٹ کی بنیاد پر جاری ہوتے ہیں۔جس کےمطابق ملازمت یا داخلہ کے بنیادی کوائف جن امیدواروں کےپورے ہوتےہیں ان میں سے زیادہ حاصل کردہ نمبرات کی ترتیب  کے مطابق   ان کو منتخب کیا جاتا ہے۔اب اگر کسی کی اصلی عمر  مطلوبہ عمر سے زیا دہ ہے ،جبکہ اسکول  کےریکارڈ میں لکھی ہوئی عمر اس سے کم ہے ،تو میرٹ لسٹ میں نام آنے کی صورت میں   اس کےبعد والا امیدوار رہ جاتا ہے،یو ں دوسرے  مستحق  امیدوار کی حق تلفی ہوتی ہے۔

 جہاں تک استعداد کا تعلق ہے، تو یہ بات ٹھیک نہیں کہ چھوٹی عمر میں بچہ میں اس درجہ  کی استعداد نہیں ہوتی،کیونکہ پری پرائمری ، پرائمری وغیرہ کےلیےعمر کے  طے کردہ  حدوداس  فیلڈ کے ملکی اور عالمی ماہرین  نےمل کرطے کیے ہیں، جو ان چیزوں کو ہم سے بہتر جانتےہیں۔

 معیاری مدرسہ میں بغرض حصول تعلیم بچہ کو داخل کروانےکےلیے جھوٹ بولنا جائز نہیں  ۔ ایسی صورت میں شفاعت حسنہ کا سہارا لیا جاسکتا ہے، کیونکہ  جیسے قوانین بنانےمیں انتظامیہ شرعی لحاظ سے خود مختار ہے، اس طرح ان سے کسی کو مستثنی قرار دینے کا بھی ان کو اختیا ر حاصل ہوتا ہے۔ عمومی مشاہدہ یہی ہےکہ اگر بچہ ذہین ہوتو  شفاعت حسنہ کو قبول کرکےصرف عمر کی وجہ سے بچہ کو واپس نہیں کیا جاتا۔ اوپر ذکر کردہ دوسری اور تیسری وجہ  عدم جواز  کی بناءپر  عالم  کا یہ کہنا  ٹھیک نہیں کہ مذکورہ عمل ( کم عمر لکھوانا ) بچہ کے نفع کی خاطر کیا جاتا ہے جس میں کسی دوسرے کا کوئی نقصان نہیں اس لیےاس کی گنجائش ہے ۔ مزید یہ کہ سوائے چند مقامات کےجھوٹ فی نفسہ منع ہے  ،چاہے اس میں کسی کا نقصان ہو یا نہ ہواور مذکورہ صورت ان مستثنی مقامات میں سے نہیں ہے۔

  جلدی اورایج ہونے  سے بچنے کےلیے بھی جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں۔ ملازمت سے پہلے اور ایج ہونے کے دو بڑے اسباب ہوتے ہیں: ایک تو اسکول میں دیر سے بچوں کو داخل کروایا جاتا ہے،دوسرا یہ کہ اسکول میں داخل ہونے کے بعد بچہ پڑھائی پر توجہ نہیں دیتے  ،یوں کمزور استعداد کی وجہ سے  سند تعلیم کےحصول کےبعد ملازمت کےحصول کےلیے ایک لمبےعرصہ تک سرگرداں  پھرنا پڑتا ہے۔لہذا والدین پر لازم ہےکہ وہ بروقت اپنے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں اور بچوں کو شوق سے پڑھنے کا عادی بنائیں۔ ایک حل یہ بھی ہےکہ   اور ایج ہونے کا خطرہ ہوتو  اعلی ملازمت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کےبجائےسردست کسی بھی سرکاری ادارے  میں چھوٹی ملازمت کی کوشش کریں،ملازم بننے کےبعد  قانونی کاروائی کرتے ہوئےاور ایج ہونے کی مدت  بڑھائیں ، اس کےبعد اعلی ملازمت  کی کوشش جاری رکھیں۔ بہت سارے لوگ  اس پرعمل پیرا ہیں ، جس کی تفصیلات فیلڈکےماہرین سے معلوم کریں۔

حوالہ جات

القرآن الکریم (النساء :(59:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۔

 

صحيح البخاري (1/ 16):

 عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان "

صحيح البخاري (4/ 104):

عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لكل غادر لواء يوم القيامة، قال أحدهما: ينصب، وقال الآخر: يرى يوم القيامة، يعرف به "

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 552):

(والكذب حرام إلا في الحرب للخدعة وفي الصلح بين اثنين وفي إرضاء الأهل وفي دفع الظالم عن الظلم) لأنا أمرنا بهذا فلا يبالي فيه الكذب إذا كانت نيته خالصة (ويكره التعريض به) أي بالكذب (إلا لحاجة) كقولك لرجل كل فيقول أكلت يعني أمس فلا بأس به لأنه صادق في قصده وقيل يكره لأنه كذب في الظاهر.

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

29/شوال/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب