| 83697 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
میزان بینک میں جو ایم بی اے یعنی میزان بچت اکاؤنٹ ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ جب ہم بینک جاتے ہیں، تو وہ کہتے ہیں کہ تقی عثمانی صاحب کا فتوی ہے اس پر، تو اگر آپ ذرا وہ فتوی مجھے بھیج دیں یا مجھے اپنی طرف سے ایک فتوی بھیج دیں ، تاکہ حکم واضح ہو کہ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ کے پیسوں پر منافع دیتے ہیں، جوکہ خاص رقم نہیں ہوتی،کبھی کم کبھی زیادہ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میزان بینک ایک غیر سودی بینک ہے،اس میں معاملات مستندعلماء کرام کی زیرِ نگرانی سر انجام دیے جاتے ہیں اور شرعی اصولوں کےمطابق بینکاری کی مکمل کوشش کرتے ہیں۔ اس میں سیونگ اکاؤنٹ مضاربہ اور مشارکہ کی بنیاد پر کام کرتےہیں اور اسی بنیاد پراکاؤنٹ ہولڈرز کے درمیان نفع کی تقسیم ہوتی ہے ، اس میں نقصان کا بھی امکان ہوتا ہے،لہذا آپ میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلواسکتےہیں، شرعااس میں کوئی حرج نہیں ۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 363):
"أما الأموال المودعة في المصارف الإسلامية، فإن ما أودع في حساباتها الجارية، فإنه ينطبق عليه ما ذكرنا في الحسابات الجارية للبنوك التقليدية سواء بسواء، فهي قروض قدمها أصحابها إلى البنك، وهي مضمونة عليه، وتجري عليها جميع أحكام القرض، ولكن يختلف تكييف الودائع الثابتة وحسابات التوفير في البنوك الإسلامية من تكييفها في البنوك التقليدية، فإن هذه الودائع قروض أيضا في البنوك التقليدية قدمت إليها على أساس الفائدة الربوية، ولكن البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربوية، بل إنما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضا، وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحق حصة مشاعة من ربح البنك، وتحتمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران، وليست مضمونة على البنك،
فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها، إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التعدي."
صفی اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
30/شوال المکرم/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی اللہ بن رحمت اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


