03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چوری کا مال لاعلمی میں کئی ہاتھوں بکنے کے بعد حقیقت معلوم ہو تو کیا حکم ہوگا؟
83696خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

میں گزشتہ تیس سالوں سے یارن (دھاگہ) مارکیٹ میں اپنا کپڑے کا کاروبار کرتا ہوں۔ ہم ڈائریکٹ ملز سے بھی مال خریدتے ہیں اور مارکیٹ میں بروکروں سے بھی خریدتے ہیں۔ میں نے دسمبر 2023 اور جنوری 2024 میں یارن مارکیٹ کے ایک بروکر عبد اللہ عبد الغنی سے ٹوٹل نوے (90) بورے نقد رقم دے کر خریدے، دوسرے لوگوں نے بھی اس سے بورے خریدے، وہ کافی سالوں سے یارن مارکیٹ میں بروکر ہے۔ ہم نے اس کے کہنے پر یہ ڈیلیوری AB گودام سے اٹھائی۔ بعد میں یہ بات کھلی کہ عبد اللہ عبد الغنی نے یہ بورے عابد کباڑی سے اور عابد کباڑی نے فیضان سے خریدے تھے جو کہ AB گودام کا منشی ہے اور گزشتہ بیس، تیس سالوں سے دھاگے کا کام کرتا ہے، گودام سے چوری اور ہیر پھیر کر کے عابد کباڑی اور فیصل نام کے آدمی کو فروخت کرتا ہے۔ گودام کے مالک نے فیضان کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی، (جس میں) تاریخِ وقوع 2020/7/15 تا 2024/2/22 کے درمیان مختلف اوقات ہیں۔

گودام کا مالک اب ہم پر بھی الزام لگاتا ہے کہ آپ سب چور ہیں۔ چوری اس کے آدمی نے کی ہے اور وہ الزام ہم پر لگا رہا ہے تو کیا ہم چور ہیں؟ ساڑھے تین سالوں میں 3,140 بورے چوری ہوئے تو یہ کہاں تھے؟ اس میں 1,886 بورے نعیم کے ہیں، جبکہ 1,254 خالد توفیق کے، یہ دونوں مارکیٹ کے بڑے بیوپاری ہیں۔ یہ اپنے گودام میں سب کا یارن رکھتے ہیں اور کرایہ لیتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ آپ لوگوں نے یہ بورے کافی کم قیمت میں لیے ہیں، حالانکہ یہ بات غلط ہے، ہم نے جو بورے خریدے ہیں وہ Short Quantity ہیں، یہ بورے مارکیٹ میں کم قیمت پر ملتے ہیں، صرف آج نہیں، سالوں سے ملتے ہیں۔

 گودام کے مالک نے بروکروں کو سی آئی اے سینٹر بھی بلایا، سی آئی اے سینٹر والوں نے کہا کہ مال دینا پڑے گا اور کہا کہ آپ لوگ مارکیٹ میں بیٹھ کر فیصلہ کریں۔ ابھی گودام کے مالک نے تین آدمیوں کی کمیٹی بٹھائی ہے۔

 ہم چاہتے ہیں کہ جامعۃ الرشید کی جانب سے فتویٰ جاری کیا جائے کہ اس میں کس کا کتنا قصور ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے اور عبد اللہ عبد الغنی سے دھاگے کے بورے خریدتے وقت آپ کو معلوم نہیں تھا کہ یہ چوری کا مال ہے تو AB گودام کے مالک کا آپ کو چور کہنا یا قصور وار ٹھہرانا درست نہیں۔ البتہ چونکہ یہ بورے AB گودام کے منشی فیضان کے نہیں تھے، اس لیے اس نے جن جن لوگوں کو بورے فروخت کیے اور انہوں نے پھر آگے جن جن لوگوں کو یہ بورے فروخت کیے، یہ سارے سودے باطل یعنی کالعدم شمار ہوں گے۔

لہٰذا ان میں سے جن جن کے پاس وہ بورے موجود ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ بورے جن سے خریدے تھے انہیں واپس کریں یا اصل مالک یعنی AB گوادم والے کو واپس کریں اور اپنی رقم ان بیچنے والوں سے وصول کریں۔ جن لوگوں نے بلاواسطہ یا بالواسطہ فیضان سے بورے خرید کر آگے بیچے تھے اور ان کو اب موجودہ صورتِ حال کا علم ہوگیا ہے، ان پر بھی لازم ہے کہ خریداروں سے بورے واپس لے کر ان کو ان کی رقم لوٹادیں اور بورے اصل مالک تک پہنچائیں۔

لیکن جن لوگوں کے پاس وہ بورے اب موجود نہیں ہیں، انہوں نے اس دھاگے کو استعمال کرلیا ہے یا آگے بیچ دیا ہے اور اگلے خریدار نے استعمال کرلیا ہے تو اگر یہ بورے مارکیٹ ریٹ کے مطابق بیچے گئے تھے اور خریداروں سے وہ قیمت وصول کی گئی تھی تو اب ان سے مزید کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، لیکن اگر بورے مارکیٹ ریٹ سے کم میں بیچے گئے تھے تو ہر فروخت کرنے والا شخص اپنے خریدار کو اس (طے شدہ قیمت اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان) فرق کا ضامن بنا سکتا ہے، نیز ان بوروں کو آگے بیچنے والوں نے اس میں جتنا نفع کمایا ہوگا وہ بھی بغیر نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہوگا، باقی AB گودام کے مالک کے سارے تاوان کی ذمہ داری اس کے منشی فیضان پر ہوگی، جس نے گودام سے دھاگہ چوری کر کے آگے بیچا ہے۔

حوالہ جات

المستدرك - الهندية (2/ 35):

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: من اشترى سرقة وهو يعلم أنها سرقة فقد شرك في عارها وإثمها.

الدر المختار (5/ 98):

وفيه الحرام ينتقل فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لا يطيب له ولا للمشتري منه، بخلاف البيع الفاسد، فإنه لايطيب له لفساد عقده، ويطيب للمشتري منه لصحة عقده. وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعدد مع العلم بها إلا في حق الوارث، وقيد في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموال، وسنحققه ثمة.

رد المحتار (5/ 98):

قوله ( الحرام ينتقل ) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريبا. قوله ( ولا للمشتري منه ) فيكون بشرائه منه مسيئا؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان لمراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه، بخلاف المشتري شراء فاسدا إذا باعه من غيره بيعا صحيحا؛ فإن الثاني لا يؤمر بالرد وإن كان البائع مأمورا به؛ لأن الموجب للرد قد زال ببيعه؛ لأن وجوب الرد بفساد البيع حكمه مقصور على ملك المشتري، وقد زال ملكه بالبيع من غيره، كذا في شرح السير الكبير للسرخسي من الباب الخامس بعد المائة.

الهداية (3/ 42):

والباطل لا يفيد ملك التصرف، ولو هلك المبيع في يد المشتري فيه يكون أمانة عند بعض المشايخ؛ لأن العقد غير معتبر، فبقي القبض بإذن المالك، وعند البعض يكون مضمونا؛ لأنه لا يكون أدنى حالا من المقبوض على سوم الشراء. وقيل: الأول قول أبي حنيفة رحمه الله والثاني قولهما، كما في بيع أم الولد والمدبر على ما نبينه إن شاء الله تعالى.

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (3/ 418)

اعلم أن المبيع لو هلك في يد المشتري في البيع الباطل يكون أمانة في رواية الحسن عن الإمام، اختارها أبو نصر أحمد الطواويسي؛ لأن العقد غير معتبر، فبقي مجرد القبض بإذن المالك، وذلك لا يوجب الضمان. واختار السرخسي وغيره أن يكون مضمونًا بالمثل أو بالقيمة؛ لأنه لا يكون أدنى حالًا من المقبوض على سوم الشراء، وهو قول الأئمة الثلاثة، وفي (القنية): أنه الصحيح لكونه قبضه لنفسه، فشابه الغصب. وقيل: الأول قول أبي حنيفة، والثاني قولهما، كالخلاف الكائن بينهما في أم الولد والمدبر إذا مات عند المشتري لا يضمنها عند الإمام ويضمنها عندهما.

فقه البیوع (2/951):

  حکم البیع الباطل:

حکم البیع الباطل أنه لایترتب علیه أي أثر من آثار البیع، حتی أن المشتري لایملك المبیع، وإن قبضه. وهذا متفق علیه، ولکن اختلفت أقوال الحنفیة في ما إذا هلك المبیع عند المشتري بعد قبضه في البیع الباطل: فالمذکور في بعض المتون أنه لا ضمان فیه علی المشتري؛ لأن البیع باطل، فبقي المبیع عنده أمانةً، فلا ضمان في هلاکه. والقول الثاني: أنه مضمون علی المشتري، وهو الذي اختاره السرخسي وغیره؛ لأنه لایکون أدنی حالًا من المقبوض علی سوم الشراء، وهو قول الأئمة الثلاثة. وقیل: الأول قول أبي حنیفة والثاني قولهما.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 30/ شوال المکرم/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب