| 83748 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
پنجاب آئل ملز کمپنی جو قادیانیوں کی کمپنی کہلاتی ہے، اس میں سات ڈائریکٹرز ہیں، پانچ سنی عقیدہ سے ہیں اور دو کا تعلق قادیانی عقیدہ سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کمپنی کے ساتھ مالی معاملات کر سکتے ہیں؟ اور یہ شرعا جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت از مجیب: سوال کے ساتھ تین دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں، جن کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:
(1)۔۔۔ پنجاب آئل ملز لمیٹڈ کے لیٹر ہیڈ پر کمپنی کے چئیرمین میاں طاہر جہانگیر صاحب کا خط، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ پنجاب آئل ملز ایک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی ہے جو SECP کے قواعد وضوابط کے مطابق کام کرتی ہے، کمپنی کے شئیرز کراچی اور لاہور اسٹاک ایکسچینج میں خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ کمپنی کے 1,200 سے زائد شئیر ہولڈرز ہیں، کمپنی کسی مذہبی تنظیم سے وابستہ نہیں۔ تازہ ترین بیلنس شیٹ کے مطابق کمپنی کے ڈائریکٹرز، سی ای او، ان کی بیویاں اور چھوٹے بچے صرف 24.305% شئیرز کے مالک ہیں اور ان میں سے اکثر مسلمان ہیں، صرف دو افراد عثمان الہی ملک اور مہر النساء قادیانی ہیں، باقی پانچ قادیانی نہیں ہیں۔کمپنی کسی مذہبی اور سیاسی مقصد کے لیے تعاون نہیں کرتی، ملازمت اور تجارت کی پالیسیز میں کمپنی مذہب، نسل، عقیدہ اور صنف کے لحاظ سے بالکل غیر جانب دار ہے۔
(2)۔۔۔ پنجاب آئل ملز لمیٹڈ کی سالانہ رپورٹ برائے 2022 (Annual Report 2022)، جس کے صفحہ نمبر4، 31، 39 اور 40 کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) عثمان الہی ملک (قادیانی) ہیں، وہ اس کے علاوہ ہیومن ریسورسز اینڈ ریمینریشن کمیٹی اور مینجمنٹ کمیٹی کے بھی ممبر ہیں۔ جبکہ مہر النساء ملک (قادیانی) نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور آڈٹ کمیٹی اور مینجمنٹ کمیٹی کی ممبر ہیں۔ رپورٹ کے صفحہ نمبر 87 پر شئیر ہولڈرز کی تفصیل لکھی ہوئی ہے، اس میں ڈائریکٹرز کا کل شئیر 24.3053% لکھا ہوا ہے، پھر آگے صفحہ نمبر 88 پر اس 24.3053% میں ڈائریکٹرز کے حصوں کی تفصیل لکھی ہوئی ہے، جس میں مہر النساء کا حصہ 4.2354% ہے، جبکہ عثمان الہی ملک کا کوئی حصہ لکھا ہوا نہیں ہے۔
(3)۔۔۔ اسٹام پیپر کی کاپی، جس میں پنجاب آئل ملز لمیٹڈ کے چئیرمین میاں طاہر جہانگیر صاحب نے اپنے مسلمان ہونے، ختمِ نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان رکھنے، مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجنے اور قادیانی یا لا ہوری گروپ سے اپنا تعلق نہ ہونے کا بیانِ حلفی درج کیا ہے۔
تنقیح اور جوابِ تنقیح کا خلاصہ
(1)۔۔۔ پنجاب آئل ملز کے گزشتہ چند سالوں کی رپورٹس، احمدیہ مومنٹ نامی ویب سائٹ اور بعض دیگر دستاویزات کے مطالعہ اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کمپنی کے اصل ڈائریکٹر میاں طاہر جہانگیر کے والد میاں فضل احمد تھے، جو نہ صرف قادیانی جماعت کے لاہوری گروپ کے سرکردہ فرد، فائنانشل سیکرٹری اور خارجہ مشن کے سربراہ تھے، بلکہ اس گروپ کے بانی محمد علی لاہوری کے داماد بھی تھے، جبکہ خود میاں فضل احمد کے والد میاں محمد بھی اس گروپ کے سربراہ رہے ہیں۔ کمپنی کے سی ای او عثمان الہی ملک بھی ان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس بارے میں سائل اور پنجاب آئل ملز کے نمائندے شفیق احمد صاحب سے تحریری طور پر پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں کمپنی کے چئیر مین میاں طاہر جہانگیر صاحب کا خط بھیجا، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ: "میں بنیادی طور پر مسلمان عقیدے کا پیروکار ہوں، لیکن والد صاحب کی زندگی میں ان کی عزت اور احترام کی وجہ سے میں نے اپنا عقیدہ کبھی کھلے عام سماجی طور پر ظاہر نہیں کیا۔ لیکن سرکاری دستاویزات میں ہمیشہ اپنے مسلم عقیدے کو ہی ظاہر کیا ہے، اس کا ثبوت بیانِ حلفی کے علاوہ پاسپورٹ کی پرانی اور نئی کاپیاں ہیں۔"
(2)۔۔۔ کمپنی کی سالانہ رپورٹ برائے 2022ء میں سی ای او یعنی عثمان الٰہی ملک کا کوئی شئیر لکھا ہوا نہیں ہے، لیکن 2019ء اور 2020ء کی رپوٹس میں ان کا 8.4651% شئیر لکھا ہوا ہے۔ اس حوالے سے سوال کیا گیا تو کمپنی کے چئیرمین نے اس کے جواب میں لکھا: "عثمان الہی ملک صاحب نے 2022ء میں ذاتی مصلحت کے تحت اپنے شئیرز فروخت کردئیے تھے، بعد ازاں ان کے والد صاحب کے بعد حقِ وراثت کے طور پر ان کے حصے میں جو شئیرز آئے ہیں، ان کی شرح اس وقت 2.87% بنتی ہے۔"
نوٹ: مذکورہ بالا تمام دستاویزات منسلک ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوال کے جواب سے پہلے بطورِ تمہید چند باتیں سمجھنا ضروری ہے۔
(1)۔۔۔ ایمان نام ہے تمام ضروریاتِ دین (دین کے وہ بنیادی عقائد و احکام جن کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا) کو دل سے ماننے اور زبان سے اس کا اقرار کرنے کا۔ اپنی نجی اور معاشرتی زندگی میں اسلام کے احکام پر عمل کرنا اور سماجی طور پر اس کا اظہار کرنا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص کا والد قادیانی ہو تو والد کی وجہ سے اپنے اسلام کا اظہار نہ کرنا اور اس کو چھپا کر رکھنا ہرگز جائز نہیں۔ گناہ کے کام اور ناجائز بات میں والدین کی اطاعت شرعا ممنوع ہے، مخلوق کی اطاعت اور احترام کی خاطر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب جائز نہیں۔ ایسا شخص (سماجی طور پر اپنے اسلام کا اظہار نہ کر کے) قادیانیت کے ساتھ متَّہم اور مشہور ہونے کا خود ذمہ دار ہوگا، اس پر لازم ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا ہے اس پر توبہ اور استغفار کرے، آئندہ اس طرزِ عمل سے بچنے کا اہتمام کرے اور قادنیوں کے ساتھ ایسے تعلقات رکھنے سے مکمل اجتناب کرے جس کی وجہ سے یہ بھی انہی کا ایک فرد اور رکن معلوم ہو۔
(2)۔۔۔ عمومی حالات میں کفار کے ساتھ مالی معاملات یا ان کی مصنوعات خریدنا فی نفسہ جائز ہے، لیکن اگر کفار مسلمانوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوں یا دیگر ایسی وجوہات ہوں جن سے مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو پھر ان کے ساتھ معاملات کرنا جائز نہیں۔ البتہ جب کوئی دوسری صورت ممکن ہو اور مسلمان تاجر سے معاملہ ہو سکتا ہوتو عام حالات میں بھی مسلمانوں سے ہی معاملہ کرنا بہتر ہے۔
یہ حکم عام کفار کا ہے۔ جہاں تک قادیانی گروہ کا تعلق ہے تو چونکہ یہ لوگ عام کفار کے مقابلے میں اسلام اور مسلمانوں کےلئے زیادہ خطرناک ہیں؛ کیونکہ ان کے کفر پر امت کا اجماع ہے، آئینِ پاکستان کی شق 260 (3) (b) میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، مگر یہ لوگ اس سب کے باوجود اپنے کفریہ عقائد کو اسلامی عقائد کا نام دیتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں، ایسے لوگوں کو شریعت میں "زندیق" کہا جاتا ہے، اور زندیق سے ایسے تعلقات رکھنا جائز نہیں ہے جس سے اس کے دعوائے اسلام کی تصدیق یا ہمت افزائی ہوتی ہو، اس کے کفر میں اشتباہ پیداہوتا ہو یا اس کی اسلام مخالف سازشوں کو تقویت ملتی ہو۔ ایمانی غیرت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قادیانیوں کے ساتھ معاملات اور ان کی مصنوعات کی خریدو فروخت سے بچا جائے۔ اس لئے قادیانی افراد اور ان کی کمپنیوں کے ساتھ معاملات (خرید وفروخت، شرکت یعنی پارٹنرشپ اور ملازمت) سے حتی الامکان مکمل پرہیز کرنا ضروری ہے۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ:
اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیلات اور اس کے ساتھ منسلک دستاویزات درست ہیں تو چونکہ ان کے مطابق پنجاب آئل ملز میں قادیانیوں کے 7.1054% شئیرز ہیں، اور سات ڈائریکٹرز میں سے دو قادیانی ہیں، جن میں سے ایک کمپنی کا انتظامی سربراہ (CEO) ہے۔ اس لیے ایسی کمپنی کے ساتھ معاملات کا حکم خالص قادیانی کمپنی کے ساتھ معاملات جیسا نہیں ہوگا، لیکن اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔کمپنی کے چئیرمین کے بیان کے مطابق کمپنی اگرچہ کسی مذہبی مقصد کے لیے تعاون نہیں کرتی، لیکن قادیانیت کے بنیادی اصول وضوابط کے مطابق ہر قادیانی شخص پر اپنی کمائی کا ایک مخصوص حصہ قادیانیت کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے دینا لازم ہے، اس کے بغیر وہ قادیانی جماعت میں نہیں رہ سکتا، یہ بات ان کے لیٹریچر میں واضح طور پر لکھی ہوئی ہے، جبکہ اس کمپنی میں موجود قادیانیوں کو کمائی اور نفع اس کمپنی سے ملتا ہے، اس لیے ایسی کمپنی کے ساتھ مالی معاملات کرنے میں کسی نہ کسی درجے میں قادیانیوں کی مالی حیثیت مضبوط کرنے کا سبب بننا لازم آتا ہے،جس سے بچنا ضروری ہے۔
یہ جواب سائل کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں لکھا گیا ہے، اگر یہ معلومات درست نہ ہوں یا ان میں کوئی کمی بیشی ہو تو جواب مختلف ہوسکتا ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (8) يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (9) } [البقرة: 8 - 9]
{إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ } [المنافقون: 1]
{إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي آيَاتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا } [فصلت: 40]
فتح الباري للحافظ ابن حجرؒ (13/ 74):
النفاق إظهار الإيمان وإخفاء الكفر، ووجود ذلك ممكن في كل عصر.
البحر الرائق (5/ 136):
وأما من يبطن الكفر -والعياذ بالله تعالى- ويظهر الإسلام فهو المنافق.
شرح المقاصد في علم الكلام (2/ 268):
الكافر اسم لمن لا إيمان له، فإن أظهر الإيمان خص باسم "المنافق"…. وإن كان مع اعترافه بنبوة النبي صلى الله عليه وسلم وإظهاره شعائر الإسلام یبطن عقائد هي كفر بالاتفاق خص باسم "الزنديق".
المسوّیٰ فی شرح الموطأ للشاہ ولی اللہ الدھلویؒ (2/268):
المخالف للدین الحق إن لم یعترف به ولم یذعن لہ لا ظاھراً ولا باطناً فھو الکافر، وإن اعترف بلسانه، وقلبُه علی الکفر فهو المنافق. وإن اعترف به ظاهراً وباطناً، لکنه یفسر بعض ما ثبت من الدین ضرورةً بخلاف مافسره الصحابة والتابعون وأجمعت علیه الأمة فهو الزندیق، کما إذا اعترف بأن القرآن حق، وما فیه من ذکر الجنة والنار حق، لکن المراد بالجنة الابتهاج الذي یحصل بسبب الملکات المحمودة، والمراد بالنار هي الندامة التي تحصل بسبب الملکات المذمومة، ولیس فی الخارج جنة ولا نار فهو الزندیق.
الفتاوى الهندية (5/ 348):
لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه، كذا في السراجية.
فقه البیوع (1/175-166):
لا یشترط لصحة البیع إسلام المتعاقدین، فیصح البیع و الشراء من غیر مسلم، سواء کان ذمیا أم حربیا أم مستأمنا. و لکن منع بعض الفقهاء من مبایعته لبعض العوارض، لا لکونه غیر أهل للتعاقد. و إن هذه العوارض إما لکون العقد یؤدی إلی إذلال مسلم، أو إهانة مقدَّساتٍ إسلامیةٍ، أو إعانة المحارب علی محاربته للمسلمین، أو معارضة المصالح السّیاسیة للإسلام و الأمة المسلمة. و لنتکلم علی کل واحد منها بشیئ من التفصیل، و الله سبحانه و تعالی هو الموفق…………. ویتبین مما ذکره الفقهاء فی هذا الموضوع أن الأحکام تدور علی مصلحة الإسلام و المسلمین، فما تعین ذریعة لتقویة أهل الحرب ضد المسلمین؛ فإنه ممنوع، و ما لم یکن کذلك فلیس بمحظور؛ لأن الأمر فی منع بیع السلاح لا یختص بالکافر، بل بیعه ممنوع من أهل البغی من المسلمین أیضا بالاتفاق؛ لأنه إعانة لأهل البغی فی محاربتهم أهل العدل، و یمنع من بیع السلاح من قطاع الطریق و اللصوص و لو کانوا مسلمین، و کذلك الأمر لایختص بالسلاح، بل کل ما یقوی أهل الحرب فی محاربتهم للمسلمین لا یجوز بیعه منهم. ………. فهذا کله یدل علی أن المنع لیس لکون البیع منهم ممنوعا فی حد ذاته، بل المنع دائر علی مصلحة الإسلام و المسلمین فی أحوال مختلفة. و ینبغی أن یکون الأمر فی مثل ذلك موکولًا إلی الإمام العادل.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
30/شوال المکرم/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


