03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 مسجد کی بیسمنٹ میں عورتوں کےلیےدرس قرآن وغیرہ کاانتظام کرنا
83724وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام و عظام اس مسئلہ کے بارے میں ایک مسجدجس کانام مسجد قباء ہے،سیکٹر یو گلشن معمار میں واقع ہے 2015ء میں اس کی مکمل تعمیر ہو چکی تھی، جس کا بندہ محمد اسمعیل جاپان مسجد ھذاکا ٹرسٹی بھی ہے، ٹرسٹیوں میں سے ایک صاحب کو صدراور ذمہ دار بنا کر مسجدان کے حوالے کی گئی چونکہ وہ صدر صاحب مسجد قباء کے ٹرسٹی ہیں، اہل ثروت میں ان کا شمار ہوتا ہے، صاحب حیثیت بھی ہیں، مسجد کے تمام عمومی مالی و انتظامی امور سنبھال رہے ہیں، امام صاحب کی تنخواہ تو معمار انتظامیہ ہی دیتی ہے، چونکہ امام صاحب معمار انتظامیہ کے ملازمت رکھتے ہیں اور باقی مؤذن صاحب اور خدام کی تنخواہ جات یا مسجد ھذا کے جز و وقتی اخراجات جو ہوتے ہیں  وہ خود ہی ادا کرتے رہتے ہیں جو صاحب موجودہ ٹرسٹی ہیں، کسی بیماری کے سبب مسجد میں پنج وقتہ  نماز کا حصہ نہیں بن پارہے ہیں، جس کی وجہ سے مسجد ھذا کے بہت سارے معاملات امام وقاری صاحبان کے ذریعہ یا انہوں نے جو عارضی کمیٹی  بنائی ہے ان کے ذریعہ باخبر رہتے ہیں ،میری دلی دعا ہے کہ اللہ انہیں صحت کاملہ عاجلہ و مستمرہ  عطافر مائے ان کی غیر موجودگی کی وجہ سے مسجد میں بہت ہی زیادہ خرافات بھی ہو چکی ہیں،لیکن ان سب معاملات سے وہ مکمل تو بہ و تائب ہو چکے ہیں۔

 سرسری طور پر ان معاملات کا تذکرہ کرنا ضروی سمجھتا ہوں تا کہ آئندہ اس طرح کی حالات اللہ نہ کرنے رونما ہوں،اس پر میں مفتیان کرام سے راہنمائی لیتا رہوں گا انشاء اللہ ۔ کچھ سال پہلے نیچے والی مسجد جو کہ بیسمنٹ پر بنی ہے اس میں عورتوں کا مبینہ بازار لگا ہوا تھا جس میں عورتوں سے متعلق چیزوں اور کھانے پینے کے اسٹال لگے ہوئے تھے،جب میرے علم میں یہ معاملہ آیا تو فورا اس پر میں نے ایکشن لیا اور تمام کے تمام اسٹالز ہٹا دیئے ،اس کے بعد کچھ اور واقعات بھی ہوئے ہیں اس میں سے دو واقعات کا تذکرہ کرنا ضروری ہوگا ۔

۷ افروری ۲۰۲۴ء کو بروز ہفتہ کو مسجدکی بیسمنٹ میں مخلوط شادی بیاہ رخصتی کی باوقار تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں باقاعدہ دلہن کی رخصتی کے ساتھ ساتھ کھانے پینے یعنی طعام و شرب کا بھی خصوی انتظام کیا گیا تھا، جس کے لئے گلی میں باقاعدہ ٹینٹ بھی نصب کیا گیا تھا۔

اس کے بعد دوبارہ 23 فروری 2024٫ کو اس طرح کا دوبارہ تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اس دفعہ تو ظلم کی انتہاء کی گئی کہ مسجد میں با قاعد دلہن کے لئے وی آئی پی اسٹیج سجایا گیا تھا، جس پر لائٹوں کے ساتھ نکاح نامہ کابورڈ آویزاں تھا اور دلہن کے اسٹیج پر اور اس کے سامنے نفیس کرسیاں بھی لگوائی گئی تھیں اور با قاعدہ فوٹوسیشن کا مرحلہ ہورہا تھا ،تقریب کی سب سےبری بات یہ کہ اکثر خواتین اپنی جوتیوں سمیت اپنی اپنی کرسیوں پر براجمان تھیں۔ ان واقعات پر جتنا بھی افسوس اور استغفار کیا جائے کم ہے، اللہ ہم سب کو معاف فرمائے ۔ موجودہ انتظامیہ کے علم میں آنے کے بعد موجودہ انتظامیہ ان تمام خرافات سے تو بہ تائب ہوئی  اور آئندہ نہ کرنے کا عندیہ دیا کہ مسجد کا تقدس کسی بھی صورت میں پامال نہیں ہونے دیا جائےگا اور یہ فرمان بھی جاری کیا گیا کہ آیندہ مسجد صرف نماز کےلیے ہی استعمال ہو گی ۔

 اب ان ٹرسٹی صاحب کی اہلیہ کی طرف سے بذریعہ امام مسجد ھذا کو  تازہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ ٹرسٹی صاحب کی اہلیہ چونکہ ایک مذہبی عورت ہے اور اکثر مختلف اوقات میں مختلف گھروں میں درس قرآن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اب وہ باقاعدہ مسجد یعنی  بیسمنٹ میں قرآن پاک کا درس دینا شروع کرنا چاہتی ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ حضرات سے بذریعہ استفتاء معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ  اس طرح عورت کا مسجد ھذا میں قرآن پاک کا درس دینا اور عورتوں کو جمع کرنا ،ان کی تعلیم وتربیت کرنا شریعت کی روشنی میں کیسا ہے؟ چونکہ اس طرح کے اقدامات سے مقتدی حضرات میں کافی تشویش پائی جاتی ہے اور مقتدی حضرات کا کہناہے کہ عورتوں کا اس طرح مسجد میں جمع ہونا اور درس تدریس کرنا فتنہ کا باعث بن سکتا ہے، شریعت کی روشنی میں ہماری راہنمائی کی جائے اور بتایا جائےکہ  عورت کا مسجد میں درس وتدریس کرنا اور عورتوں کےجمع  ہونےکا عمل شریعت کی روشنی میں کیساہے؟اور اس کا کیا حل ہوگا ؟؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عورتوں کو دینی تعلیم دلاناشریعت میں مطلوب اور وقت کی اہم ضرورت  ہے، اس کا سب سے عمدہ طریقہ یہ ہے کہ مرد ضروری دینی مسائل سیکھ کر گھر کی عورتوں کو سکھائیں،تا کہ انہیں گھر سے باہرنہ نکلنا  پڑے،کیونکہ عورتوں کا شدید ضرورت کے علاوہ گھر سے باہر نکلنا شریعت میں پسندیدہ نہیں، اس طریقہ سے عورتوں کے لیے تعلیم کا انتظام کرنامردوں کی ذمہ داریوں میں داخل ہے،اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو چندعورتیں مل کرکسی  گھرمیں مکمل پردے  کے انتظام کے ساتھ جمع ہو جائیں اگر کسی معلمہ سے تعلیم حاصل کرنا ممکن ہے تو معلمہ سے تعلیم حاصل کریں ورنہ  کسی عالمِ دین  سے درمیان میں باقاعدہ پردے کے اہتمام کے ساتھ دین کی تعلیم حاصل کریں تو یہ بھی درست ہے، البتہ تعلیم وتعلم اوردرس تدریس چونکہ مسجدہی کےمصالح میں شمار ہوتےہیں،دوسری طرف بوقت ضرورت بقدرضرورت خواتین کےلیےتعلیم کی غرض سےگھرسےنکلنےکی اجازت ہے،لہذابقدرضرورت اس کی گنجائش  ہوگی کہ مسجد کےتہہ خانےمیں خواتین کےلیےدرس قرآن کاانتظام کیاجائے،بشرطیکہ عورتوں کےاجتماع کےوقت مسجد کےتقدس اورپاکی ناپاکی  کاخیال کیاجائے، مکمل  شرعی پردہ کااہتمام ہو،بیان کےدوران آوازصرف اس قدرہوکہ موجودعورتیں ہی سن سکیں،کیونکہ عورتوں کی آواز کابھی شرعاپردہ ہے،اس لیےاس کابھی خیال کرناضروری ہوگا،نیزدرس دینےوالی خاتون میں اتنی  اہلیت  بھی ہوکہ وہ اس طرح درس قرآن دےسکے۔

مذکورہ بالاشرائط کےساتھ گنجائش توہے،لیکن چونکہ سوال میں ہی یہ بھی ذکرکیاگیاہےکہ یہ درس وتدریس کا سلسلہ علاقہ و اہل محلہ میں فتنہ کاباعث بنا ہواہے،اس لیےشرعاگنجائش کےباوجوددرس قرآن کی ترتیب شروع نہ کی جائےتوبہترہے،اس کامتبادل انتظام  کرناچاہیے، مثلا جو خاتون درس قرآن دینےکاشوق رکتی ہے وہ اپنےگھرمیں ہی اس کاانتظام کرلیں  اوروہاں پردہ وغیرہ کاانتظام کرلیاجائےتوشرعابھی درست ہوگااور فتنہ کابھی مسئلہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

وقال اللہ تعالی ایضا:

  وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى الخ  سورۃ الاحزاب  33 ۔

"تفسير ابن كثير"6 / 409:

وقوله: { وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ } أي: الزمن بيوتكن فلاتخرجن لغير حاجة۔

وقال اللہ تعالی ایضا{ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ الخ الآیۃ  ۔ سورۃ الاحزاب : 31

"تفسير ابن كثير"6 /  44:

هذا  أمْرٌ من الله تعالى للنساء المؤمنات، وغَيْرَة  منه لأزواجهنّ، عباده المؤمنين، وتمييز لهن عن صفة نساء الجاهلية وفعال المشركات۔۔۔

"الفتاوى الهندية" 2 / 41:

( ومنها ) أنه يحرم عليهما وعلى الجنب الدخول في المسجد سواء كان للجلوس أو للعبور ۔۔۔وسطح المسجد له حكم المسجد ۔

"رد المحتار 17 / 225:

قال في البحر : وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى { وأن المساجد لله } - بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد ، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية

"صحيح البخاري " 1 / 32:

 باب هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم

101 - حدثنا آدم قال حدثنا شعبة قال حدثني ابن الأصبهاني قال سمعت أبا صالح ذكوان يحدث عن أبي سعيد الخدري قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم غلبنا عليك الرجال فاجعل لنا يوما من نفسك فوعدهن يوما لقيهن فيه فوعظهن وأمرهن فكان فيما قال لهن ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها إلا كان لها حجابا من النار فقالت امرأة واثنتين فقال واثنتين

"المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووي" 3 / 6:

وفي هذه الأحاديث استحباب وعظ النساء وتذكيرهن الاَخرة وأحكام الإسلام وحثهن على الصدقة، وهذا إذا لم يترتب على ذلك مفسدة وخوف على الواعظ أو الموعوظ أو غيرهما. وفيه أن النساء إذا حضرن صلاة الرجال ومجامعهم يكن بمعزل عنهم خوفاً من فتنة أو نظرة أو فكر ونحوه۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

27/شوال       1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب